فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر446

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر446
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر446

  

ایک صاحب کافی عرصے بمبئی میں پی ‘ آئی ‘ اے سے وابستہ رہ چکے ہیں ۔بڑے و ثوق سے یہ کہتے ہیں کہ ان کی ثریا سے اکثر ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ انہوں نے عشق و محبت کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ وہ محض ثریا کے مداح تھے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ثریا کے ساتھ ان کی طویل ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں اور ثریا انہیں اپنی فلمی زندگی کے واقعات سنایا کرتی تھیں۔ مثلاً موسیقار انل بسو اس کی وہ اس لیے معترف تھیں کہ انہوں نے ثریا کو گلوکاری کے وقت صحیح جگہ پر سانس لینے کا گر سکھایا تھا۔ وہ کئی موسیقاروں کا عقیدت سے ذکر کرتی تھیں جس میں انل بسواس ، خواجہ رشید انور اور نوشاد سر فہرست ہیں ۔ وہ بتایا کرتی تھیں کہ جب خواجہ خورشید انور انہیں کوئی طرز یاد کراتے تو کس طرح ہارمونیم پر آگے کی طرف جھک کر انہیں گاکر طرز سناتے تھے ۔

اس دوران میں ان کے لمبے لمبے بال ان کا نصف چہرہ ڈھانپ لیا کرتے تھے جنہیں وہ بار بار انگلیوں سے پیچھے ہٹاتے رہتے تھے ۔خواجہ صاحب کی یہ عادت خود ہمیں بھی یاد ہے ۔ بالوں کو سمیٹنے کا ان کا ایک مخصوص انداز تھا اور وہ بالکل غیر محسوس اور غیر ارادی طور پر ایسا کرتے رہتے تھے مگر ان کاذہن دُھن اور موسیقی میں الجھا رہتا تھا۔ نوشاد صاحب کے بارے میں ثریا کا کہنا تھا کہ وہ بہت زیادہ ریہرسل کراتے تھے اور جب تک پوری طرح مطمئن نہیں ہوجاتے تھے گانے کی صدا بندی نہیں کرتے تھے۔

ثریا نے کہا ”آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سارے دن فلم کی شوٹنگ کرنے کے بعد میں تھک کر چور ہوجایا کرتی تھی لیکن وہی وقت گانے کی ریہرسل کے لیے فارغ ہوتا تھا ۔ “مگر نوشاد صاحب کی ریہرسل بھی لازمی تھی چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے ۔ثریا نے انہیں اپنے پہلے گانے کی صدا بندی کا دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ ثریا اس وقت نو عمر تھیں اور مائیکرو فون تک ان کا منہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ چنانچہ گانے کی ریکارڈنگ کے لیے انہیں لکڑی کے اسٹول پر کھڑا کیا گیا تھا۔ ثریا نے تمام عمر شادی نہیں کی یا شادی کرلی؟ اس بارے میں

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر445

مصدقہ اطلاع کوئی نہیں ہے کیونکہ نہ تو کبھی کسی نے ان کی شادی کا کارڈ دیکھا نہ شادی میں شرکت کی ۔ یہاں تک کہ کسی کو اس شادی کی کانوں کان خبر تک نہ ہوسکی مگر ایک صحافی یہ دور کی کوڑی لے کر آئے تھے کہ ثریا نے معروف ساﺅنڈ ریکارڈسٹ ایشان گھوش سے شادی کر لی تھی لیکن ان کی ساری زندگی اسرار کے پردوں میں چھپی ہوئی ہے اس لیے اس خبر کی تصدیق کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

اس قدر پر اسرار انداز میں ساری زندگی بسر کردینا صرف ثریا ہی کے بس کی بات ہے۔ سچ کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا نہ جان سکتا ہے۔ جس عورت نے ایک طویل عرصہ فلمی دنیا میں اس طرح گزار دیا کہ اس کی نجی زندگی کے حقائق کا کسی کو علم ہی نہ ہو سکا اس کے بارے میں کوئی بھی و ثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ثریا کی مثال ایک ایسے ستارے کی طرح ہے جو بہت روشن اور چمک دار ہوتا ہے۔ آسمان کو اپنی روشنی سے منور کر دیتا ہے مگر پھر آسمان کی پنہائیوں میں ایسا گم ہوتا ہے کہ تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

میڈر نور جہاں ثریا کی ہم عصر تھیں ۔ ثریا تو بمبئی ہی میں پلی پڑھی تھیں اور انہوں نے وہی فلمیں زندگی کا آغاز کیا تھا پھر خداداد آواز اور نانی کی تربیت سے گائیکی میں بھی قدم رکھ دیا اور گلوکارہ کی حیثیت سے بڑا نام پیدا کیا۔ انہوں نے بچپن میں فلمی زندگی کا آغاز اداکاری سے کیا تھا اس لیے جب گلوکاری شروع کی تو انہیں بیک وقت اداکارہ اور گلوکارہ ہونے کی منفرد حیثیت حاصل ہوگئی ۔ شاید ثریا بمبئی کی فلموں میں اور بھی زیادہ نام اور دولت کماتیں اور بہت ممکن ہے کہ وہ اتنی جلد فلمی دنیا سے کنارہ کش بھی نہ ہوتیں اگر نو جہاں اچانک لاہور سے بمبئی نہ پہنچ جاتیں۔

نور جہاں نے ثریا کے برعکس اپنی زندگی کا آغاز گلوکاری سے کیا تھا ۔ اداکارہ وہ بعد میں بنی تھیں۔ شہرت انہوں نے اپنے گانوں کے حوالے سے ہی حاصل کی تھی پھر جب اداکاری کی تو اللہ نے ایسی مہربانی کی کہ بطور ہیروئن ان کی پہلی فلم ”خاندان“ نے ایسی کامیابی اور مقبولیت حاصل کی کہ بڑی بڑی پرانی ہیروئنیں حیران رہ گئیں۔ نور جہاں کی فلم تو ہندوستان کے شہروں میں بعد ریلیز ہوئی تھی لیکن ان کی سریلی ہوش ربا آوازیں اس سے پہلے ہی برصغیر کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی تھی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نور جہاں کی آواز میں جو انوکھا پن تھا وہ اس زمانے کے معروف ترین گلوکارہ کو بھی نصیب نہیں ہوا تھا ۔ یہ ایک عجیب و غریب آواز تھی جس میں چنچل پن اور شوخی بھی تھی ۔ چلبلا پن بھی تھا۔ سوز بھی تھااور درد کا ایک گہرا تاثر بھی ۔ وہ جب کوئی المیہ گیت گاتی تھیں تو لگتا تھا دل کی گہرائیوں سے گا رہی ہیں اسی لیے ان کے نغمات سننے والوں کے دلوں میں اتر کر گھر کر لیتے تھے ۔ سوز کے علاوہ ان کی آواز میں سریلا پن ‘ مٹھاس اور ایک نہ در تہ سیکس اپیل بھی تھی جو براہ راست سا معین کے جذبات و احساسات پر حملہ آور ہوتی تھی ۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ایسی آواز برصغیر میں نہ پہلے کبھی سنائی دی تھی اور نہ ہی بعد میں سننے کو ملی ۔

”خاندان“ نے نور جہاں کو راتوں رات سپر اسٹار بنا دیا۔ ادھر فلم کے ہدایت کار شوکت حسین رضوی کے عشق نے انہیں بے پناہ مصائب سے دو چار کر دیا۔ انہوں نے خاندان کے ہدایت کار کی محبت پر اپنے خاندان کی محبت کو ترجیح دی اور عدالت میں صاف مکر گئیں کہ وہ شوکت صاحب سے کرتی ہیں ۔ یہاں تک کہ وکیل اور گھر والوں کے کہنے پر انہوں نے عدالتی بیان میں یہ تک کہہ دیا کہ وہ تو شوکت حسین رضوی کو اپنا بھائی سمجھتی ہیں۔ واقفان حال اس بیان پر حیران رہ گئے مگر شوکت صاحب کے دل پر کیا گزری ؟ یہ خود وہی جانتے تھے ۔ اس بے وفائی پر وہ دل شکستہ ہو کر رہ گئے ۔ بمبئی سے انہیں ہدایت کاری کے لیے بہت اچھی پیشکش ملی تو وہ فلم ساز ایس ایم دیا اس سے تین فلموں کا معاہدہ کر کے بمبئی چلے گئے ۔ بظاہر یہ کہانی ختم ہوگئی تھی لیکن قسمت کے کھیل انوکھے ہوتے ہیں۔ بعد میں نور جہاں بھی بمبئی پہنچ گئیں اور بالآخرشوکت حسین رضوی کے گھر کی زینب بن گئیں۔ تقدیر کے لکھے کو نہ کوئی جانتا ہے اور نہ ہی مٹا سکتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر یہ کہانی عدالتی کارروائی کے بعد ختم ہوجاتی اور حالات نور جہاں اور شوکت حسین رضوی کو دوبارہ آمنے سامنے نہ کر دیتے اور نور جہاں اور شوکت حسین رضوی کی شادی نہ ہوتی تو بعد میں رونما ہونے والے واقعات کس قدر مختلف ہوتے ۔ خدا جانے وہ دونوں الگ الگ کیسی زندگی گزارتے۔ شوکت صاحت کی ہدایت کاری کا سبھی لوہا مانتے تھے ۔ وہ نور جہاں کے بغیر بھی بہت بڑے ہدایت کار بن جاتے بلکہ مستقبل میں اور بھی بہت سے کارنامے سرانجام دیتے جو باہمی جھگڑوں کے باعث وہ نہ کرسکے ۔ نور جہاں اور شوکت صاحب کے اختلافات ‘ جھگڑوں اور مقدمے بازی نے ایک بہت عظیم ہدایت کار فلمی صنعت سے چھین لیا اور پھر وہ ہدایت کار کی حیثیت سے کسی کام کے نہ رہے۔ زندگی میں جو ابتری پیدا ہوئی اور انہوں نے ذہنی طور پر جو دکھ اٹھائے شاید وہ ان سے بھی بچ جاتے ۔ گویا شوکت صاحب کے لیے یہ سودا مہنگا پڑا تھا۔ نور جہاں کا معاملہ بھی یہ تھا کہ وہ کسی سے بھی شادی کرتیں اور کسی بھی فلم میں کام کرتیں بہرحال نور جہاں ہی رہتیں ۔ شہرت اور دولت ان کی باندیاں ہوتیں اور گلوکارہ کی حیثیت سے ان کی عظمت میں کوئی کمی نہ ہوتی لیکن وہ بھی ان دکھوں اور غموں سے محفوظ رہتیں جو باہمی اختلافات اور جھگڑوں نے ان کی زندگی میں گھول دیے تھے۔ انہوں نے بھی اس جھگڑے اور علیٰحدگی کی بہت بڑی قیمت ادا کی۔ سچی خوشی اور گھریلو زندگی سے وہ تمام عمر محروم رہیں ۔ اگر ان کے بچے نہ ہوتے تو شاید وہ پاگل ہوجاتیں پھر انہوں نے زندگی کو ایک نئی ڈگر پر ڈال دیا۔ مقدمے بازیاں ‘ رسوائیاں اور غم والم کی کٹھائیاں ان کے حصے میں بھی آئیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نور جہاں کے لیے بھی یہ تجربہ خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔ بلکہ انتہائی تباہ کن رہا۔

(جاری ہے۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -