آئین کے مطابق نگران حکومت کا کردار محدود، شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے :سیاسی رہنماﺅں کی رائے

آئین کے مطابق نگران حکومت کا کردار محدود، شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن ...
آئین کے مطابق نگران حکومت کا کردار محدود، شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے :سیاسی رہنماﺅں کی رائے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں نے کہا ہے آئین کے مطابق نگران حکومت کا کردار بہت محدود ہوگیا ہے ۔ شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ۔جمہوریت کے مخالفین کو نگران عہدوں پر بٹھا کر شفاف انتخابات کا حصول ممکن نہیں ہے ۔

جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک “ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں میں جو باتیں ہوئی ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو تمام خاکہ کھل کر سامنے آجائے گا ۔ حسن عسکری نے بھی اپنے آرٹیکل میں وہی بات کی ہے جوبلوچستان اسمبلی نے کی تھی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ الیکشن میں التواءکوئی بڑی بات نہیں ہے اس سے قبل بھی الیکشن ملتوی ہو تے رہے ہیں اور پاکستان میں کبھی اس موسم میں الیکشن نہیں ہوئے۔ ایسی باتیں کرنیوالے کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بنادیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص جو دھرنے کے حق اور جمہوریت کے خلاف ہو ۔ جو کہہ رہا ہو الیکشن ملتوی ہوجانا چاہئے اگر اس کو طاقت کے منبہ پر بٹھا دیا جائے گا توپھر الیکشن کس طرح شفاف ہو سکتے ہیں۔

ر ہنما پیپلز پارٹی نیئر بخاری نے کہا ہے کہ جب آئین اپنا کردار ادا کرتا ہے تو پھر آئین کے مطابق کام ہوگا ۔ نگران انتظامیہ کا ایک محدود اختیار ہوتا ہے ۔ آئین کی موجودگی میں انتخابات میں تاخیر نہیں ہو سکتی ۔ بہت سارے ایشوز کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن 25جولائی کو ہونے چاہئے ۔انہوںنے کہا کہ صرف اس ملک کے سیاستدان رہ گئے ہیں جن سے حلف نامے مانگے جا رہے ہیں ۔ عدلیہ ، فوج سمیت دیگر اداروں کی شخصیات سے بھی حلف نامے مانگے جانے چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے وہا ں نگران سیٹ اپ کا رواج نہیں ہے ۔ ہمارے ملک میں نگران سیٹ اپ کا بڑا محدودرول ہے ۔شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور ہم کو امیدہے کہ الیکشن کمیشن یہ ذمہ داری نبھائے گا ۔

رہنما تحریک انصاف سینٹر فیصل جاوید نے کہا کہ حسن عسکری اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت ہیں اور غیر سیاسی بھی ہیں ۔اب جو بھی ہوا ہے آئینی طور پر ہوا ہے ۔ خیبر پختونخوامیں دوست محمد کھوسہ کانام جے یو آئی نے تجویزکیا تھا لیکن جب الیکشن کمیشن نے ان کا نام تجویز کردیا تو پھر ہم نے تو شور نہیں مچایا ۔انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی مسلم لیگ ن کو دھرنا دینا چاہئے ۔ عوام کا سب سے بڑا سروے 25جولائی کو آئے گے اس سے پتہ چل جائے گا کہ مسلم لیگ ن کا گراف کدھر ہے ۔

مزید :

قومی -سیاست -