جن بچوں کی پیدائش کے بعد ان کے ماں یا باپ ان کی موجودگی میں سگریٹ پیتے ہیں وہ۔۔۔ سائنسدانوں نے سب سے خوفناک نقصان بتا دیا، والدین کو وارننگ دے دی

جن بچوں کی پیدائش کے بعد ان کے ماں یا باپ ان کی موجودگی میں سگریٹ پیتے ہیں ...
جن بچوں کی پیدائش کے بعد ان کے ماں یا باپ ان کی موجودگی میں سگریٹ پیتے ہیں وہ۔۔۔ سائنسدانوں نے سب سے خوفناک نقصان بتا دیا، والدین کو وارننگ دے دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) سگریٹ نوش افراد کے لیے سگریٹ کے جان لیوا نقصانات سے ہم آگاہ ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ان کے بچوں کے لیے اس کا ایسا ہولناک نقصان بتا دیا ہے کہ سن کر کوئی ماں باپ سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق جاپان کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ’’ایسی خواتین جو دوران حمل سگریٹ پیتی ہیں ان کے ہاں ’بہرے‘ بچے پیدا ہونے کا امکان اڑھائی گنازیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پیدائش سے چار ماہ تک کی عمر کے بچوں کے پاس سگریٹ پینے سے بھی ان کے بہرے ہونے خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ’’4ماہ تک کی عمر کے بچوں کے پاس سگریٹ پینے سے ان کے بہرے ہونے کاخدشہ 30فیصد زیادہ ہوتا ہے اور اگر ان کی مائیں دوران حمل سگریٹ پیتی رہی ہوں تو اس خدشے میں 26فیصد کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ سگریٹ سے بچوں کے بہرے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ میں موجود نکوٹین ان پیغام رساں خلیوں میں بگاڑ پیدا کرتا ہے جو دماغ اور کانوں کے درمیان پیغام رسانی کرتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر کوجی کاواکامی کا کہنا تھا کہ ’’ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ بچوں کو ماں کے پیٹ سے لے کر چار ماہ کی عمر تک سگریٹ کے دھوئیں سے محفوظ رکھنے سے ان کو سماعت کے مسائل لاحق ہونے کا خطرہ واضح طور پر کم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ماؤں کو چاہیے کہ حمل سے پہلے سگریٹ نوشی ترک کر دیں اور بچے کی چار ماہ کی عمر تک بھی انہیں سگریٹ کے دھوئیں سے بچا کر رکھیں۔‘‘

مزید : تعلیم و صحت