اس پورے گاؤں کو پودے ’کھا‘ گئے، یہ کیسے ہوا اور اس میں رہنے والے لوگ کہاں گئے؟ جواب آپ سوچ بھی نہیں سکتے

اس پورے گاؤں کو پودے ’کھا‘ گئے، یہ کیسے ہوا اور اس میں رہنے والے لوگ کہاں ...
اس پورے گاؤں کو پودے ’کھا‘ گئے، یہ کیسے ہوا اور اس میں رہنے والے لوگ کہاں گئے؟ جواب آپ سوچ بھی نہیں سکتے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں آبادی کے اژدہام اور ترقیاتی کاموں کی بہتات نے فطرت کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے تاہم وہاں ایک گاؤں ایسا ہے جس پر فطرت کچھ اس طرح غالب آ چکی ہے کہ دیکھ کر آپ آنکھیں جھپکنا بھول جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ گاؤں شنگھائی کے مشرق میں واقع شینگ شن نامی جزیرے پر واقع ہے جہاں کے تمام باسی 1990ء کی دہائی میں روزگارکے لیے بڑے شہروں میں جا کر بس چکے ہیں اور یہ گاؤں مکمل غیرآباد ہو چکا ہے۔ انسانوں کی طرف سے اس گاؤں کو تج دیئے جانے کے بعد اس کی حفاظت کے لیے فطرت آگے بڑھی اور اسے کچھ ایسی خوبصورتی بخش دی جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق ہاؤٹووان (Houtouwan)نامی اس گاؤں کے غیرآباد ہونے کے بعد خودرو جڑی بوٹیاں اور درخت یہاں اس قدر بہتات سے اگے کہ انہوں نے سڑکوں، پگڈنڈیوں، حتیٰ کہ گھروں کی دیواروں اور چھتوں تک کو سبزے سے ڈھانپ دیاہے اور یوں لگتا ہے جیسے یہ پودے اور جھاڑیاں اس گاؤں کو ’کھا‘ گئے ہوں۔ منظرعام پر آنے والے فضائی مناظر سے گاؤں کے مکانات شاذ ہی نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے اوپر سرسبزوشاداب خودروجڑی بوٹیاں اور بیلیں اگی ہوئی ہیں جو عجیب روح پرور نظارہ پیش کرتی ہیں۔ گاؤں والے تو روزگار کے لیے اسے چھوڑ گئے تھے لیکن فطرت نے اسے اتنا خوبصورت بنا دیا ہے کہ اب ہزاروں کی تعداد میں سیاح اسے دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں اوراس علاقے کے لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بن رہے ہیں۔واضح رہے کہ چین میں گزشتہ تین دہائیوں میں دیہات کے لوگوں کے شہروں کا رخ کرنے کی شرح اس قدر ہوشربا رہی ہے کہ اب تک 9لاکھ سے زائد گاؤں ہاؤٹووان کی طرح غیرآباد ہو چکے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -