متحدہ عرب امارات میں چار آئل ٹینکرز پر حملہ کس نے کیا ؟ابتدائی عالمی تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کر دی گئی

متحدہ عرب امارات میں چار آئل ٹینکرز پر حملہ کس نے کیا ؟ابتدائی عالمی ...
متحدہ عرب امارات میں چار آئل ٹینکرز پر حملہ کس نے کیا ؟ابتدائی عالمی تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کر دی گئی

  


نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)گذشتہ ماہ 12 مئی کو  متحدہ عرب امارات کے ساحل پر چار آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملے کی  ابتدائی عالمی تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کردی گئی،رپورٹ  میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ حملے میں ریاستی عناصر ملوث تھے تاہم کسی بھی ملک کا نام اس رپورٹ میں نہیں لیا گیا ۔

عرب میڈیا نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں کی جانے والی ابتدائی رپورٹ میں بارہ مئی کو ہونےوالے حملے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس میں کسی ریاست کے ملوث ہونے کا امکان ہے تاہم کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔تحقیقات میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب اور ناروے شامل ہیں۔رپورٹ سلامتی کونسل کے 15رکن ممالک کے نمائندوں سے نیویارک میں ملاقات کے دوران پیش کی گئی۔مشترکہ ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ سعودی عرب کے 2آئل ٹینکرز، ناروے کے ایک آئل ٹینکر اور امارات کے سامان بردار جہاز پر حملوں میں انتہائی پیچیدہ سمندری بارودی سرنگیں استعمال کی گئیں،ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں میں کوئی ریاستی عناصر ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ اس تحقیقاتی رپورٹ سے قبل سعودی فرمانرواشاہ سلمان نے آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں پر عائد کیا تھا۔متحدہ عرب امارات کے دفتر خارجہ نے اطلاع دی تھی کہ چار تجارتی جہازوں پر اس کے علاقائی سمندر کے قریب حملہ کیا گیا، یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے باہر پیش آیا،جسے پیٹرول اور گیس کے حوالے سے انتہائی اہم آبی گزر گاہ مانا جاتا ہے۔متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ کیمیائی تجزیے کی روشنی میں نقصان کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملے جدید انداز میں کیے گئے جس سے امکان ہے کہ اس میں ریاست کی سروسز ملوث تھیں۔متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ناروے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جبکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، یہ حقائق اس بات کی ٹھوس نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ چار حملے ایک جدید اور منظم اور مربوط سے کیے جانے والے آپریشن کا نتیجہ تھے جس میں قابل ذکر آپریشنل صلاحیت موجود تھی، زیادہ امکان ہے کہ اس میں ریاستی عناصر شامل تھے۔

دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی جانے والے بریفنگ کے دوران سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ اس ابتدائی رپورٹ میں ایران کے ممکنہ کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔سعودی عرب نے صحافیوں کو بتایا کہ قوی امکان ہے کہ ایران ہی ان حملوں کا مجرم ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ ال معلمی نےبریفنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ایران کے کندھوں پر ہی ہے۔دوسری طرف ایران نے خود پر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کویت تجارتی جہازوں پر حملوں سے متعلق پیش کردہ ابتدائی بین الاقوامی تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج پر بحث یا مشاورت کے لیے سلامتی کونسل اجلاس کب طلب کرے گا کیونکہ ان دنوں کویت ہی سلامتی کونسل کا سربراہ ہے۔تحقیقات میں شامل تینوں ممالک نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی نئی معلومات سے سلامتی کونسل کو آگاہ کرتے رہیں گے۔ 

مزید : عرب دنیا