”مینو لہور ہوگیا“

”مینو لہور ہوگیا“
”مینو لہور ہوگیا“

  

یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ہر پاکستانی مرد میں ایک چھوٹا موٹا بل کلنٹن اور ہر امریکن عورت میں ایک مونیکالیونسکی چھپی ہوتی ہے۔ اگر بات صرف یوسف رضا، مخدوم شہاب اور رحمن ملک کی ہوتی تو کوڑاگھٹ کرکے بات ہم ہضم کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں لیکن جب سنتھیا رچی نے محترمہ بینظیر پر گھٹیا الزام لگایا تو سنتھیارچی کی باتوں میں سنتھیٹک کی بورچی محسوس ہوئی اسے کہتے ہیں انہنے وا الزام لگانا۔ ویسے ہمارا ان کے ”ضبط نفس“ کی تعریف کرنے کو بہت دل کر رہا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں بقول ان کے ہر ایک نے کچھ نہ کچھ ضرور کیا اور وہ مومو بی بی خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔ دھن حوصلہ ہے اس عورت کا۔ عورت نہ ہوئی پی ٹی آئی کا ”ریحام خان“ ٹو ہوگئی۔ سنتھیا کی یہ پہلی قسط ہے دوسری قسط ن لیگ کے خلاف آئے گی۔ یعنی پکچر ابھی باقی ہے اور پکچر کی اگلی قسط صرف اور صرف بالغوں کیلئے ہے کیونکہ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس نیک پروین کی لائف میں کوئی سادہ واقعہ ہوا ہی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی والے عدالت پہنچ گئے ہیں۔ امید ہے ن لیگ بھی جلد لاہور کی کسی عدالت پہنچ جائے گی۔ بندہ سنتھیا جتنا خوبصورت بھی نہ ہو، سنتا سنگھ بہت غور سے اپنی منگیتر کو دیکھ رہا تھا وہ شرما کر بولی کیا دیکھتے ہیں وہ بولا سوچ رہا ہوں کہ اگر تم ہماری ممی ہوتیں تو میں کتنا خوبصورت ہوتا۔ یہ تو قانون فطرت ہے کہ

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے

جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

ہم جیسے ٹٹ پونجیئے وقت سے پہلے بوڑھے ہو جاتے وہ بھی کثرت گناہ سے نہیں حسرت گناہ ہے اور یہ موقعے وزیروں مشیروں کو مل جاتے ہیں لیکن معاملہ عدالت میں چلا گیا اور اسے لیکر بھی پیپلز پارٹی والے گئے ہیں، اب یہ پتہ نہیں کہ عدالت معاملہ لیجانے والے رہنما ہیں کس کی طرف۔ پیپلزپارٹی یا دریا کے اس پار۔ بنتا سنگھ بولا یار کل میں ٹوائیلٹ گیا تو سامنے سانپ بیٹھا تھا۔ سنتا سنگھ بولا فیر تم نے کیا کیا۔ بنتا سنگھ بولا میں نے سانپ کو ہاتھ جوڑ کر کہا تسی کرلو میری تے اونج ای نکل گئی اے۔ مسلم لیگ والے بس سنتھیارچی کے ہاتھ جوڑنے والے ہیں۔ ویسے ایک بات ہے پوری قوم محترمہ بینظیر کا احترام کرتی ہے وہ سنتھیا بنیھتا کی معلظات پر یقین نہیں رکھتی۔ بلاول بھٹو کو بھی اپنی پریس کانفرنس میں اس پہ یہ بات کرنی چاہئے تھی۔ ہمیں بس محترمہ کی عزت سے مطلب ہے باقی جناں کھادیاں گاجراں بلکہ ”خوبانیاں“ ان کے ڈھنڈ پیڑ ہونے بھی چاہئیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں چھپے راسپوٹین سامنے آنے چاہئیں۔

ہم تو کب سے کہہ رہے ہیں کہ چھوٹے ڈان کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے لیکن لگتا ہے ”مائی نیم ازخان“ نے انکی گرفتاری اپنی لے پالک انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ اس لئے بکرے کی اماں سوری حمزہ کے ابو کب تک خیر منائیں گے۔ اونٹ پہاڑ کے نیچے آئے ہی آئے۔ آگے ہماری نیب موجود ہے جو کسی بھی عدالت کی ایک چھینک کی مار ہے۔جو اس کی بزم سے نکلا ہے مسکراتا ہاتھ ہلاتا ٹاٹا بائے بائے کرتا نکلا۔ نیب ہے بہت تگڑی بس ”کھوبے کی کمزور“ ہے۔ یا پھر اس کی کرامات ہیں کہ اچھا خاصہ بیمار اس کے چنگل سے نکل کر موجیں مارتا واک شاک کرتا کافی شافی پیتا مل جاتا ہے۔ اللہ بڑے بھیا کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ ہزار دام سے ایک جنبش میں نکل جاتے ہیں۔ ویسے ہماری رائے ہے کہ یہ طے کرلینا چاہئے کہ سخت قوانین جیلیں شیلیں سزائیں شزائیں بس غریبوں کمی کمینوں کیلئے اور ضمانیں شمانتیں، تحفظ وحفظ ڈاڈوں راجوں مہاراجوں کیلئے ہوں غریبوں کیلئے اعلان ہو کر کوکلا چھپاکی جمعرات آئی ہے۔ جیہڑا اگے پچھے تکے اوہدی شامت آئی ہے اور امیروں کیلئے طاقت کے ایوانوں سے نقارے بجیں والو کڑیو ونڈی دے بتاشے لئے جاؤ۔ افسوس نئے پاکستان میں انصاف پرانے پاکستان کا ہی مل رہا ہے۔ ڈر یہ ہے کہ اگر ان ڈاہدوں کے خلاف بھی سختی ہوئی تو یہ انصاف کی دکانداریاں اْکّا مْکّا بند نہ ہوجائیں۔ سردار سنتا سنگھ غبارے بیچ رہا تھا ایک صاحب آئے انہوں نے پوچھا کتنے کا غبارہ، سنتا بولا بیس روپے کا۔ وہ صاحب بولے یہ لو پیسے سارے غبارے دے دو۔ سنتا سنگھ نے غصے سے کہا جا اپنا کم کر۔ سارے تجھے دے دیئے تو میں کیا بیچوں گا۔ بھیا میرے انصاف کی امید پر اداکارہ شبنم کی طرح لمبے لمبے ”ہوکے“ بھرنے والے پاکستانیو مٹھا خربوزہ سرخ تربوز خالص شہد اور عین انصاف صرف کتابوں میں ملتا ہے ورنہ ایک خونو خون ماڈل کی رپورٹ اچانک یہ نہ آئے کے وہ گلاس لگنے سے زخمی ہوئی۔ خدارا تھوڑے کہے کو بْہتا سمجھیں۔

ہماری ہاتھ دھو کر اور سینٹائزر لگا کر حکومت سے بندھے ہاتھوں سے درخواست ہے کہ ملک بھر میں کورونا کی شاندار بھر پور کامیابی کے بعد چند بچ جانے والے افراد کو زبردستی کورنٹائن کردے اور باقیوں کو کہے ہن تسی باہر نکل کر موج مستی کرو۔ اب تو جو بچ گئے ہیں شرمندہ شرمندہ پھرتے ہیں کہ وہ معاشرے کے اچھوت ہیں۔ سنتا سنگھ کی بیگم بہت کالی تھیں ایک دن اس نے سرخ جوڑا پہنا اور سنتا سے پوچھا کیسی لگ رہی ہوں۔ سنتا سنگھ نے نظریں نیچے کیں اور آہستہ سے بولا بلکل کرس گیل۔ پورا شہر ایک دوسرے پر بغیر گلوز ماسک کے چڑھا پھرتا ہے۔بے چارے ایس او پیز پر عمل کرنے والے ”کرس گیل“ ہی لگتے ہیں۔ اب تو اور لہوریوں کی زندہ دلیاں دیکھ کے کورونا خود اپنے بچوں کو کہتا پھرتا ہے میں کی کراں مینو لہور ہوگیا اے۔ اب اس کے بچنے کی چانس بھی کم رہ گئے ہیں۔ کپتان جی موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ شاید ہم سب یہی چاہتے تھے جو اب ہو رہا ہے۔ گھر گھر کورونا پہنچ گیا۔ آگے کیا ہوگا۔ بس اللہ سے التجا ہے کہ اٹلی، امریکہ، ایران جیسا نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -