ہمارے بھائی جان

ہمارے بھائی جان
ہمارے بھائی جان

  

1960ء کی دہائی کے وسط میں ہمارے والد محترم جعفر قاسمی صاحب جو کہ انگلینڈ میں مقیم تھے نے پاکستان واپس آکر سب کو حیران کر دیا حالانکہ وہ زائد از عشرہ بی بی سی لندن سے بطور براڈ کاسٹر اپنی علم و حکمت کو منوا چکے تھے۔ سلسلہ شازلیہ کی دستار پہنے مطمئن قاسمی صاحب جب چنیوٹ پہنچے تو ان کی بانہوں میں ایک خوبصورت سا بچہ بھی تھا۔ ہمارے بزرگ بتایا کرتے کہ اس وقت چنیوٹ گھر کی کچی زمین پر لندن پلٹ بچہ اپنے قدم رکھنے سے گریز کر رہا تھا اور اس بچے نے والد صاحب کی بانہوں سے نکل کر پہل پہل ایک دستیاب میز پر قیام کو ترجیح دی…… یہ تھے ہمارے بھائی جان قاضی مدثر حسین قاسمی اور ایسا تھا ان کی انفرادیت و نفاست کا اولین اظہار، پوت کے پاؤں بانہوں کے جھولنے میں نظر آ رہے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس دھرتی سے، اس مٹی سے انہوں نے اپنا تعلق مضبوط کیا (والد صاحب کی رحلت کے بعد تو جو فرائض ہم بہن بھائیوں کے لئے انہوں نے جانفشانی سے سرانجام دیئے والدہ صاحبہ مرحومہ سے اپنے گرد آلود وجود کی تحسین پائی) مٹی سے تعلق استوار رکھنے کے ساتھ ساتھ (مذکورہ میز کی طرح) کسی سطح ارتفاع کے لئے بھی ہمیشہ کوشاں رہے۔ جب محلے میں محض ایک دو گھروں میں TV دستیاب ہوتا تھا جہاں محلے بھر کے ٹی وی بینی کے شوقین اکٹھے ہوتے نوعمروں کو چٹائی پر عموماً جگہ ملتی اس وقت ان کے ہم عصر مدثر حسین میز پر رکھے TV کی سکرین پر جلوہ گر ہو رہے ہوتے۔ اس وقت لاہور سے تسلسل سے رابطہ بھی کم افراد کا ہوتا تھا کہ آج جیسے ذرائع آمد و رفت دستیاب نہ تھے۔ چنیوٹ کے اولین موٹرسائیکل سواروں میں شامر ہونے کی ان کی خواہش کے لئے قدرت نے غیر متوقع وسائل مہیا کر دیئے۔ المختصر بھائی جان نے منفرد ہو کر ذرا بلند ہو کر،ممیز ہو کر جینے کی ہمیشہ کاوش کی مگر خوش اخلاقی کا دامن نہ چھوڑا۔

بطور استاد چبوترہ سنبھالا تو طرز تدریس سے بھی زیادہ اپنے حسن سلوک، طرز عمل سے داد پائی۔ جس ادارے سے وابستہ ہوئے منفرد خوش اخلاقی کے پھول بکھیرتے رہے شاگردوں سے خوش کلامی کا ایسا انداز اپنایا کہ بیک وقت احترام وانسیت کی خوشبو آئے۔

معاشرے کی مروجہ رفتار سے چند قدم آگے رہنے کا اہتمام کرتے رہے ایسا لگتا کہ وقت کی اڑان میں قدرے بلند پرواز کرنا چاہتے ہوں مگر نگاہیں زمین پر ہی رکھیں۔ ہر کام کو بروقت بلکہ قبل از وقت سرانجام دینے اور دلوانے کے متمنی رہے۔ ان کے معیار اور رفتار سے ہم آہنگ ہونا بسا اوقات اس قدر سہل نہ ہوتا اور یہیں کبھی کبھی ان کا متعلقین سے اختلاف ہوجاتا جو بالعموم قلیل المدتی ہوتا اور منانے میں بھی پہل کی کوشش کرتے۔

بھائی جان کے شعبہ تدریس سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے فیصلہ سے اکثریت نے اختلاف کیا، مخلصانہ تنقید کا بھی سامنا رہا۔ وہ مطمئن تھے اور ہم بھی اس قدر حیران نہ تھے کہ وہ ہمیشہ سے منفرد اور قبل از وقت کام کرتے چلے آئے تھے۔ ہم کو احساس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے ذاتی، خاندانی اور بالخصوص روحانی امور پر مزید متوجہ ہونے کی خواہش مند ہیں جس کے لئے انہوں نے پیشہ ورانہ مالی منفعت کی بھی پرواہ نہیں کی۔ نیز اپنے شہر چنیوٹ کے باسیوں میں والد صاحب کی طرح محبت بانٹنے اور سمیٹنے کی روایت کا احیاء چاہ رہے تھے۔ وہ یہ سماجی فریضہ بخوبی سرانجام دے رہے تھے، مگر اس باران کی منفرد اور قبل اس وقت کام کرنے کی عادت نے ہمیشہ ششدر کر دیا۔ کہنے دیجئے کہ دنیا سے بھی قبل از وقت رخصت! بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے بھائی جان!

آپ پر اچانک ہی بیماری نے حملہ کیا۔ اہل خانہ پریشان نہ ہوں اس لئے اپنے آپ کو بیمار ماننے، بیمار ظاہر کرنے سے گریزاں رہے۔ مضبوط قدموں، بلند حوصلوں کا مظاہرہ کرتے رہے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ آپ کو مجیب الرحمن شامی صاحب نے بحریہ انٹرنیشنل ہسپتال لاہور جانے کے لئے کہا ہے تو اسے حکم کا درجہ مانا اور ہمیں تسکین آمیز طرز عمل سے اطمینان دلاتے رہے کہ وہ تو شامی صاحب کی شفقت کے حصار میں جا رہے ہیں (ان کی زندگی کے کئی پہلو بشمول آخری ایام کے متعلق احساسات الگ تحریروں کے متقاضی ہیں، سرِدست عرض ہے کہ) شامی صاحب نے کمال محبت سے ممکنہ بہترین طبی سہولیات ان کے اردگرد بچھا دیں۔ اور یہ معجزہ بھی قدرت نے ہمیں دکھایا کہ مصنوعی سانس کے ساتھ جھلکیاں قدرے دور مگر روبرو سامنے میں بدلنے لگیں اس وقت بھی وہ ہمیں تسلی دیتے ہی نظر آئے، گویا کہہ رہے ہوں کہ دیکھیں مجھے تو شامی صاحب نے اپنی بانہوں میں گھیر رکھا ہے۔ ان معجزاتی مناظر نے جب ہم میں امیدکی کرن جگا دی تو وہ ہمیں پھر حیران کر گئے۔

وہ رضائے الٰہی سے شامی صاحب کی بانہوں سے زمین پر قدم رکھنے کی بجائے ایسی سطح ارتفاع کی طرف نکل دیئے جو ایک رواں زینے کی طرح قرب الٰہی کی جانب گامزن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -