”قومی مفاہمت“ ایوان میں بات!

”قومی مفاہمت“ ایوان میں بات!
”قومی مفاہمت“ ایوان میں بات!

  

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والی کارروائی کے دوران اچھی خبر ملی کہ وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں خطاب کیا اور حکومت کی طرف سے یہ پیشکش دہرائی کہ حکومت آٹے اور چینی سمیت تمام امور پر حزب اختلاف کو بریفنگ دینے کے لئے تیار ہے۔ اس سے ایک ہی روز قبل یہی پیشکش تحریک انصاف کے وائس چیئرمین وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کی تھی۔ دوسری طرف سے نہ تو پہلی اور نہ ہی تازہ پیشکش کو سنجیدگی سے لیا گیا، حتیٰ کہ میڈیا میں بھی اسے کوئی بڑی تبدیلی قرار نہیں دیا گیا، حالانکہ یہی وہ عمل ہے جو کسی بھی جمہوریت کا ایک خوش کن پہلو ہوتا ہے اور جمہوری نظام میں حزب اقتدار،حزب اختلاف کو کم از کم قومی امور میں ساتھ لے کر چلتی ہے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہین، سب سے بڑی مثال ستمبر 1965ء کی ہے، ہماری قومی اپوزیشن بہت زیادہ زخم خوردہ تھی، بالواسطہ صدارتی انتخابات میں اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار مادر ملت، قابل احترام ہستی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناع کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو مبینہ دھاندلی سے ہرایا تھا، اس کے باوجود جب 6ستمبر 65ء کو پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر اچانک حملہ ہوا تو پوری حزب اختلاف مل کر ایوب خان کے پاس گئی، اس کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا اور پھر یہ اعلامیہ سامنے آیا کہ پوری قوم دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے اور یہ ثابت بھی ہوا، پھر متعدد دوسری مثالوں اور واقعات کے علاوہ ایک اہم پیش رفت وہ تھی جب ذوالفقار علی بھٹو بھارتی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی سے بات چیت کے لئے شملہ بھارت گئے، اس موقع پر بھی پوری اپوزیشن نے اپنی حمائت کا وزن بھٹو کے پلڑے میں ڈالا تھا، یہ دو اہم مثالیں ہیں جو لکھی ہیں، ورنہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی قومی سطح پر محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ اتفاق اور قومی مسائل پر تعاون کی بے شمار روایات موجود ہیں، حتیٰ کہ قومی اتحاد کی ”بے مثل“ تحریک کا پہلا مرحلہ بھی مذاکرات پر ختم ہوا اور وزیراعظم بھٹو کے ساتھ پی این اے وفد کے مذاکرات ہوئے۔ بقول نوابزادہ نصراللہ خان4جولائی 77ء کی شب یہ بات چیت کامیاب ہو گئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان قومی اتحاد کے تمام مطالبات مان لئے تھے، اس کا ثبوت وہ یہ دیتے تھے کہ 5جولائی 77ء کے ”پاکستان ٹائمز“ راولپنڈی کی شہ سرخی تھی۔ "Doves Win" تاہم جنرل ضیاء الحق نے اسی روز حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ اخبار اور میرے ”ہم وطنو“ کی صدا ایک ہی روز سامنے آئی تھی۔

یہ سب عرض کرنے کی ضرورت آج کے حالات کی وجہ سے ہی پیش آئی ہے کہ کورونا وبا کی شدید آفت کے باوجود محاذ آرائی زوروں پر ہے اور ملکی سیاست میں استحکام نہیں، چہ جائیکہ، یہ قومی زندگی میں بھی ہو اور معیشت بھی اسی راہ پر چلے، جس کی قوم کو ضرورت ہے، یہاں تو مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں بیت بازی ہو رہی ہے تو پیپلزپارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان بھی پتھراؤ جاری ہے۔ اس ماحول میں پہلے بھی افہام و تفہیم اور تعاون کی باتیں ہوتیں لیکن ”بیل کبھی منڈے نہیں چڑھی“ کہ ایسی گفتگو تحریک انصاف کے مختلف رہنما کرتے تھے لیکن قائد حزب اقتدار (وفاقی یا صوبائی) کسی نے کبھی بذات خود حزب اختلاف کو پیش کش نہیں کی بلکہ وزیراعظم عمران خان کا رویہ تو بالکل واضح ہے، وہ ”چوروں اور لٹیروں“ کو جیل میں ”ڈالنا“ چاہتے ہیں، ان سے بات کرنا تو دور کی بات ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے اور شاید اسی بناء پر قومی اسمبلی یا سینٹ کے ایوانوں میں بھی تشریف نہیں لاتے۔ اس لئے تجزیہ نگار حضرات کی نظر میں مخدوم شاہ محمود قریشی اور مشیر وزیراعظم بابر اعوان کی اس پیش کش کو بھی سنجیدہ نہیں لیا گیا اور پھر سے یہی مطالبہ دہرایا گیا کہ وزیراعظم خود تشریف لائیں۔

ہم نے جو یہ گزارشات کیں تو اس کے پیچھے وہی جذبہ کار فرما ہے جو ہماری تحریروں میں جھلکتا رہا کہ قومی مسائل پر قومی مفاہمت ہونا چاہیے، لیکن ابھی تک ایسا ممکن نہ ہو سکا بلکہ تحریک انصاف کا میڈیا بریگیڈ اپنے فرائض بڑی تند ہی سے انجام دیتا ہے اور جواب میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی بھی ویسا ہی سلوک روا رکھتی ہے، ویسے حیرت انگیز یہ بات ہے کہ ہمارے مولانا فضل الرحمن اس گیم سے باہر نظر آ رہے ہیں، وہ گوشے میں چمن کے اطمینان سے ہیں اور کبھی کبھار ہی اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں، یوں حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں، اگرچہ ہونا چاہیے، میڈیا میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کا ان کے لیپ ٹاپ سمیت بہت تذکرہ ہے، ہم نے اس حوالے سے بوجوہ کچھ نہیں لکھا کہ ”رموز مملکت“ والی بات ہے، خود مرکزی صدر مسلم لیگ (ن) جانیں، ان کے مخالف اور ہمنوا کہ خود انہوں نے ہی ایک گفتگو میں یہ پنڈورا بکس کھولا تھ اور خود کو ”وزیراعظم“ کی پیش کش کا ذکر کیا تھا اور پھر پرانی کہانیاں نئے الفاظ کے ساتھ اب تک دہرائی جا رہی ہیں اور جانے کب تک ایسا ہوگا، اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے اہم حضرات کا کہنا ہے کہ ”نیب“ کو دباؤ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے کہ بھائیوں کے درمیان ”جدائی“ ہو جائے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ ”منصوبہ سازوں“ کی کوشش پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہو گی، کہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو کئی سال پہلے ہو چکا ہوتا جب خود سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی پاکستان میں موجودگی میں ہی ایسی ”خبریں“ گردش کرتی تھیں، تب تو اندر جانے کا بھی تصور نہیں تھا، لیکن شہباز شریف نے تب بھی اور اب بھی انکار ہی کیا ہے۔ دیکھئے اب آگے کیا بنتا ہے کہ محمد شہبازشریف عبوری ضمانت پر ہیں، فرض کیجئے کہ ان کو مزید مہلت نہیں ملتی تو کیا ہوگا، وہ نیب کی حراست میں گئے تو پھر مان جائیں گے؟ یہ بھی ایک اور امتحان ہو سکتا ہے۔

ادھر ملک میں ایک نیا ڈرامہ شروع ہے، ایک مبینہ غیر ملکی صحافی خاتون سنتھیارچی خبروں میں ہے اور دکھ یہ ہے کہ اسے ہمارے میڈیا میں پذیرائی مل رہی ہے۔ اس نے پیپلزپارٹی کی پوری قیادت کو ”سان“پر رکھ لیا اور غیر اخلاقی الزامات کی بھرمار کر دی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے، بلاول بھٹو، آصف علی زرداری،یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین جیسے نفیس آدمی کو بھی نہیں بخشا اور اب تو عبدالرحمن ملک پر بہت بڑا الزام لگا دیا، دلچسپ یہ ہے کہ یہ الزام 2011ء سے متعلق ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد دنیا کی کوئی لیبارٹری اور کوئی ٹیسٹ یہ الزام ثابت نہیں کر سکتا، اب یہ تو عبدالرحمن ملک پر منحصر ہے کہ وہ جوابی کارروائی کیا کرتے ہیں، یوسف رضا گیلانی نے تو کہہ دیا ہے کہ ان کے صاحبزادے ازالہ حیثیت عرفی (ڈیفے میشن) کا دعویٰ کر رہے ہیں، ویسے ہم نے جہاں تک سوشل میڈیا پر دیکھا اور بعض دوستوں کے تفصیلی کلمات پڑھے، ان کے مطابق یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، اس خاتون کی موجودگی اور ساری گفتگو پراسرار ہے کہ خود اس نے ”اہم شخصیت“ اور گروپوں سے ملاقاتوں اور رابطوں کا انکشاف اور اعتراف کیا ہے۔ اس لئے سیاسی قائدین کا بلبلانہ بلاوجہ نہیں، یوں بھی یہ مغربی خاتون ہیں، ان کے لئے ایسے الزام لگانا کوئی بے عزتی والی بات نہیں، اللہ رحم فرمائیں۔

قارئین! اس سارے فلسفے میں یہ بات رہ گئی کہ گزشتہ روز ایک غیر منتخب شخصیت نے منتخب ایوان سے خطاب کیا، افسوس کہ مجھے قواعد پوری طرح یاد نہیں آ رہے۔ اس لئے برادرم نصرت جاوید سے عرض ہے کہ وہ بتا دیں ”ایوان میں اجنبی کیا ہوتا اور تاریخ کیا ہے“۔

مزید :

رائے -کالم -