کرونا کیریئر

کرونا کیریئر
 کرونا کیریئر

  

لاک ڈاؤن سے جی گھبرایا تو سوچا کہ باہر جانے کا کوئی سبب کرنا چاہئے، دو دنوں سے انٹرنیٹ سروس دینے والی کمپنی کا میسج آرہا تھا کہ ماہانہ فیس جمع کروائیں وگرنہ سروس روک لی جائے گی۔ اگرچہ ایک دو مرتبہ کمپنی کے آفس ماہانہ فیس جمع کروانے بھی گیا مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ملا۔ سوچا کہ پیدل علاقے کی ایزی لوڈ کی دکان پر چلتے ہیں، ذرا چہل قدمی بھی ہو جائے گی اور فیس بھی جمع ہو جائے گی کیونکہ گھر کے ہر فرد کا اصرار تھا کہ گھر میں کچھ کھانے پکانے کو ہو نہ ہو مگر انٹرنیٹ کنکشن ضرور ہونا چاہئے، لاک ڈاؤن میں اگر یہ سہولت بھی گئی تو لاک ڈاؤن کھلنے لگے گا۔

گھر سے نکلے تو جون کے مہینے میں بھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جی کو بھلے لگے، ہم قریبی ایزی لوڈ شاپ کی بجائے ذرا دور واقع دکان کی جانب چل پڑے کہ چلیں اسی بہانے ذرا ہوا کی نرمی کا مزا لیا جائے۔یوں بھی صبح کا وقت تھا اس لئے سورج کی تمازت بھی نہ تھی اور پھر سڑک بھی ٹریفک سے خالی تھی، درختوں کے جھنڈ میں ٹھنڈی سڑک پر چلنے کا مزا ہی الگ تھا۔ خیر دکان پر پہنچے، انٹرنیٹ سروس کی ماہانہ فیس جمع کروائی اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں پھر سے ہواکے نرم جھونکے دل کو بہلانے لگے، اردگرد کا ماحول بھلا لگنے لگاحالانکہ لاک ڈاؤن کے سبب کچھ بھی نہ کھلا تھا، یا یوں کہہ لیجئے کہ چونکہ ہمارے ہاں دکانداری کا آغاز دوپہر سے ہوتا ہے اس لئے بھی ہر شے بند تھی اور صبح کی گھڑیوں میں خاموشی کا ماحول علیحدہ سے مزہ دے رہا تھا، خالی سڑکیں، کھلا چوک، کوڑے کے ڈرم خالی کرنے والے ٹرکوں کی موجودگی، کاغذ چننے والے پٹھان بچوں کی سرگرمیاں، سیر کے عادی افراد کی خراماں خراماں چہل قدمی، اور نیلا آسمان....میں اس ماحول میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک سامنے فضا میں نظر پڑی تو چوکنا ہوگیا۔ ہوا کے دوش پر تیرتا ہوا کبوتر کے پروں کا ایک چھوٹا سا سفید رنگ کا پرِکاہ(معنی بہت ہلکا،حقیر) اپنی طرف اڑتا ہوا نظر آیا، جونہی ہوا میں تیرتا پر کا پرزہ میرے ماتھے کے قریب پہنچا تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس خیال سے انتہائی دائیں کو جھک گیاکہ یہ ننھا منا پر اوپر سے گزرجائے گا۔ چنانچہ یہی ہوا، میں جونہی انتہائی دائیں کو جھکا، لمحے بھر کو سارا آسمان،کوڑے دان، ان ڈرموں کو اٹھانے والے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ٹرک، کاغذ چننے والے پٹھان بچے، صبح کی سیر کرنے والے لوگ اور دکانیں، غرض یہ کہ کل کائنات دائیں کو جھک گئی، اتنا کچھ ایک دم دائیں جانب جا پڑا تو کبوتر کے پروں کا پرزہ نظروں سے غائب ہو گیا، اگلے ہی لمحے میں سیدھا تو وہ ننھا منا پر غائب ہو چکا تھا۔ میں پھر سے ماحول کی نرماہٹ میں کھو گیا اور بھول گیا کہ ایک لمحہ پہلے مجھ پر کوئی میزائل حملہ ہوا تھا جس سے بچنے کے لئے میں نے اپنے سمیت ساری کائنات کو دائیں جانب جھکا دیا تھا۔

خیر گھر پہنچااور ایس او پیز کے مطابق فوری طور پرباہری واش روم جا گھسا تاکہ لاؤنج میں داخل ہونے سے پہلے بیس سیکنڈ تک ہاتھوں کو دھولوں اور خدانخواستہ باہر جانے کے دوران اگر کسی جگہ ہاتھ لگانے سے کرونا وائرس ہاتھوں کو چمٹ گیا ہے تواسے صابن اور پانی سے دھوڈالوں۔ لیکن واش روم میں لگے شیشے پر نظر پڑی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، کبوتر کے جس ننھے سے پر کومیں نے اپنی طرف سے ڈاج دے کر اسے اپنے آپ سے چمٹنے سے باز رکھا تھا، وہ میرے ماتھے پر پڑے بالوں سے چمٹا ہوا تھا، میں نے فوری طور پر اسے ہاتھ کے ساتھ اپنے بالوں سے اٹھا کر پانی میں بہایا اور صابن دوبارہ سے ہاتھوں کو لگا کر دھونے لگا اور اس دوران سوچتا رہا کہ اگر میں کبوتر کے اس ننھے سے، مختصر سے پر سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکا جو کہ مجھے نظر بھی آرہا تھا تو کرونا وائرس سے کیسے اپنے آپ کو محفوظ رکھ پاتا ہوں گا جو کہ نظر بھی نہیں آتا ہے، اگر میں بطور کیریئر کبوتر کے اس پر کو باہر سے گھر کے اندر لے آیا ہوں تو کیا لوگوں سے میل جول کرتے ہوئے، یا چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے، کسی دروازے کوکھولتے ہوئے، کسی اے ٹی ایم سے پیسے نکلواتے ہوئے، کوئی شے پکڑتے ہوئے یا کوئی شے کسی کو دیتے ہوئے کتنی بار یہ خدشہ پیدا ہوتا ہوگا کہ کروناواؤس منتقل ہو رہا ہے، اگر میں سامنے نظر آنے والی شے سے نہیں بچ سکا تو اس وائرس سے اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھ سکتا ہوں گا جو مجھے نظر ہی نہیں آتا ہے، چنانچہ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا، میں نہ صرف گھر سے نکل کر لوگوں سے میل جول کے دوران ماسک کا استعمال کرتاہوں بلکہ پلاسٹک یا کپڑے کے دستانے بھی پہنتا ہوں اور جہاں موقع ملتا ہے صابن سے ہاتھ دھونے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس لئے میرے رب نے مجھے یقین کی بادشاہی دے دی ہے، سو تم بھی ایسا ہی کرو اور خدا سے کہو کہ اے خدا کرونا کی وبا سے ہماری خلاصی کردے، ہم کسی قابل نہیں ہیں، بے شک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے،ہمیں معاف کردے اور ہماری جانوں پر رحم فرما!

مزید :

رائے -کالم -