ملک میں کورونا وباء زبردستی پھیلائی گئی،ذمہ دار وفاقی حکومت:بلاول بھٹو،اشرافیہ لاک ڈاؤن چاہتی ہے:عمران خان

  ملک میں کورونا وباء زبردستی پھیلائی گئی،ذمہ دار وفاقی حکومت:بلاول ...

  

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ملک میں زبردستی پھیلایا گیا جس کی ذمہ دار وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ملک میں کب تک قیادت کا بحران برداشت کرنا پڑے گا۔کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ، ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کیساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نہ صرف پھیلا گیا بلکہ زبردستی پھیلایا گیا، وزیراعلیٰ سندھ اور کارکنوں نے کورونا وبا کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کئے لیکن وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی سندھ حکومت کی کوششوں کو سبوتاژ کیا۔ کورونا،کشمیرسمیت کوئی بھی ایشو ہوہمارا وزیراعظم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا جو فیصلے کیے اس کے ذریعے ہماری خودمختاری نہیں رہی، کراچی میں ہسپتالوں کے بھرنے کا ذمہ دار کسے ٹھہراؤں، کسی کو تو ذمہ داری اٹھانی پڑے گی۔ وفاق عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے اور عوام کو غلط معلومات دی جا رہی ہیں، عوام کو غلط معلومات دینے والوں کیخلاف ایف آئی آر کاٹنی چاہیے، وفاقی حکومت رویہ درست کرے، اس نے عوام کی صحت و زندگی کو خطرے میں ڈال دیا، وزیراعظم تاجروں اور کاروباری لوگوں سے ملتے ہیں لیکن ایک دفعہ بھی ڈاکٹرز اور طبی عملے سے نہیں ملے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران سٹیل ملز سے 10 ہزار مزدوروں کو فارغ کرنا انسانیت کیخلاف ہے، فیصلے کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے، ٹڈی دل کے مسئلے پر سندھ کو لاوارث چھوڑدیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا اگرپہلے دن سے سخت لاک ڈاؤن کیا جاتا توآج نیوزی لینڈ، ویتنام کی طرح ہمارے حالات اچھے ہوتے۔ ویتنام کوئی سپرپاورنہیں، انہوں نے محدود وسائل کے باوجود بروقت اقدامات کرکے اپنی عوام کوکورونا کے نقصان سے بچا یا۔طیارہ حادثہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کوسازش کے تحت نہیں سنبھالا جاتا، اسی وجہ سے بہت بڑا حادثہ ہوا۔ طیارہ حادثہ پرہرپاکستانی دکھی ہے۔ طیارہ حادثہ پر وفاقی حکومت کواپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے، طیارہ حادثہ،پروپیگنڈے کے تحت پائلٹ پرالزام تراشی کی گئی،جس کی مذمت کرتے ہیں، جیسے خان صاحب نے کورونا مریضوں کو لاوارث چھوڑا،ویسے پی آئی اے کے لواحقین کولاوارث چھوڑدیا، کورونا وبا کے دوران کہا گیا پی ٹی وی ڈرامہ دیکھو۔بجٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ بجٹ سیشن کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے کورونا، این ایف سی، اٹھارویں ترامیم پر اتفاق رائے بنائیں گے۔ این ایف سی نوٹیفکیشن،باقی پارٹیوں سے مشاورت جاری ہے۔ این ایف سی نوٹیفکیشن بہت سنگین ایشو ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل نوغیرآئینی ہے۔ وفاق نے آج تک صوبوں کوپورا حق نہیں دیا۔ وفاق کی طرف سے این ایف سی پرنوٹیفکیشن پرسندھ حکومت نے اعتراضات کا خط لکھا، این ایف سی کے حوالے سے نوٹیفکیشن غیرآئینی ہے، 14مئی کوہم نے خط لکھا ابھی تک جواب نہیں آیا۔

بلاول بھٹو

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اشرافیہ لاک ڈاون چاہتی ہے، مراعات یافتہ طبقے کے پاس بڑے گھر اور زیادہ وسا ئل موجود ہیں۔ لاک ڈاون کا مطلب معیشت کی تباہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے متعلق عوام کے تاثرات پر سماجی رابطے کی ویب سا ئٹ ٹویٹر پر کیا۔ ٹویٹر پر انہوں نے ملک کے ایک نجی ٹی وی نیوز چینل کی ویڈیو بھی شیئر کی۔ٹویٹر پر عمران خان نے لکھا کہ لاک ڈاون سے غریب آدمی اسی طرح متاثر ہوگا جیسے بھار ت میں ہوا۔ کورونا کے پھیلاؤکو روکنے کا واحد حل سمارٹ لاک ڈاون ہے۔ سمارٹ لاک ڈاون میں ایس او پیزکیساتھ اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت ہوتی ہے۔ پاکستان سمارٹ لاک ڈاون کے بانی ممالک میں شامل ہے۔ٹویٹ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے علماء، میڈیا، سول سوسائٹی اور ٹائیگر فورس سے عوامی آگاہی کی اپیل بھی کی۔انہوں نے مزید لکھا کہ عوام کورونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، ڈاکٹر اور ہیلتھ پروفیشنل کورونا کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ غریب ممالک میں لاک ڈاون سے غربت تیز ی سے بڑھتی ہے۔

وزیر اعظم

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کورونا سے کامیابی سے نمٹ رہی ہے پیپلز پارٹی کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی صورتحال کے حوالے سے عوام کو مکمل باخبر رکھا،این سی او سی میں جتنے فیصلے ہوئے اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شریک تھے، کچھ جماعتیں اس معاملے پر سیا سی پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں، پاکستان میں کورونا کا پھیلاؤو اب بھی ہمارے تخمینے سے کم ہے،این سی اور سی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ تمام فیصلوں سے اتفاق کرتے ہیں،کر ا چی پہنچ کر تمام فیصلوں سے انکاری ہوجاتے ہیں جبکہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو گزشتہ پانچ سال میں 5کھرب روپے ملے لیکن صحت کی سہولیات ناپید ہیں، صوبے میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں، مراد علی شاہ زرداری کے کرپشن میں سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دونوں وزراء نے ہفتے کے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا پوری دنیا کورونا وبا کی وجہ سے مشکلات سے دوچارہے۔ حکومتی اقدامات کی دنیا بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے۔ متاثرہ افراد کیلئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام شروع کیا گیا۔ کورونا سے نمٹنے کیلئے متفقہ لائحہ عمل کیلئے این سی او سی ادارہ بنایا۔ عوام کو کورونا صورتحال کے بارے میں پوری طرح باخبر رکھا۔ تمام اداروں نے آپس میں بہتر روابط کے نظام پر عمل کرتے ہوئے موثر اقدامات کئے جس کے ذریعے نقصانات کم سے کم ہوئے ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں صورتحال کو متنازعہ بنانا چاہتی ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ این سی او سی میں تمام باتوں پر اتفاق کرتے ہیں بعد میں میڈیا پر آ کر سیاست کرتے ہیں، اس موقع پر وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ بلاول بھٹو رٹی رٹائی تقریر یں کرتے ہیں۔ انہوں نے پورے چالیس منٹ کی پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کے کورونا سے نمٹنے کے اقدامات کے حوالے سے ایک بھی بات نہیں کی۔ پوری دنیا کا ہیلتھ سسٹم کورونا وبا کے سامنے بے بس ہو چکا، امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں جبکہ بہترین سہولیات والے یورپی ممالک بھی بری طرح مسائل کا شکار ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے اپنے والد آصف زرداری کا علاج بھی کسی سرکاری ہسپتال میں نہیں ہورہا۔ طویل عرصے تک حکومتیں کرکے ایک بھی ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں ان کا علاج ہو سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کو مشکلات سے بچانے کیلئے 12ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 144ارب روپے کا پیکج دیا۔ لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالنے والے کاروباری حضرات کیلئے بھی رعایتی قرض پیکج کا اعلان کیا۔ حکومتی اقدامات کی وجہ سے یومیہ کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت 30ہزار ہوگئی ہے۔ بیس ہزار سے زائد ڈاکٹروں اوعر طبی عملے کو کورونا سے نمٹنے کے لئے ٹریننگ دی گئی ہے۔ لوگوں کے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے سے کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے لوگوں کو تنبیہ کے طور پر 1311مارکیٹیں جبکہ 83 انڈسٹریل یونٹس کو ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث سیل کیا گیا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ کورونا وبا کے آغاز میں صرف دو لیب کام کر رہی تھیں جبکہ اب تعداد بڑھ کر 70ہو چکی ہے جہاں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت دستیاب ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے ازخود تمام چیزیں درآمد کرسکتے ہیں لیکن فنڈز ملنے کے باوجود سندھ نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ آپ کے صوبے میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین اور لوگوں کے لئے ہسپتالوں میں سٹریچر اور ایمبولینس نہیں ہوتی۔ مراد سعید نے کہا کہ ڈاکٹر فرقان جیسا مسیحا سہولیات نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں عالمی وبا کے دوران بھی کرپشن کی فکر ہے۔ سندھ حکومت نے لوگوں کو راشن دینے کا وعدہ کیا لیکن راشن آج تک کسی کو نہیں ملا۔ موجودہ حکومت کے دور میں پچاس سال کے عرصے کے بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبار اٹھایا گیا۔ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں کشمیر کا مسئلہ اس انداز میں نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے اس پر کسی کو تنقید کرنے کی اجاز ت نہیں دی جائیگی۔

شبلی، مراد سعید

مزید :

صفحہ اول -