سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر جاری احتجاج امریکی قصبوں تک پھیل گیا

سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر جاری احتجاج امریکی قصبوں تک پھیل گیا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی 25مئی کو ہلاکت کے بعداحتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دوسرے ویک اینڈ تک پہنچ گیاجبکہ اب بڑے بڑے شہروں کے بعد احتجاجی مارچ کا دائرہ چھوٹے قصبوں تک پہنچ گیا۔ جمعہ کی شام واشنگٹن ڈی سی کی گلیاں نسلی منافرت کیخلاف نعروں سے گونجتی رہیں تو ہفتے کے روز شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی گئی، جبکہ اس کیساتھ ساتھ احتجاج کا سلسلہ چھوٹے قصبوں تک پھیل گیا اس میں ریاست ایلونوائے کا ایک قصبہ ”اینا“ شامل ہے جہاں نوے فیصد سفید فام آبادی ہے جہاں روایتی طور پر صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کی اکثریت ہے۔ یہاں نکلنے والی ریلی میں سفید فام باشندے بھی شامل تھے جو سیاہ فام کیخلاف تعصب کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے۔ اس دوران وفاقی وزیر داخلہ ڈیوڈ برن ہارٹ نے وائٹ ہاؤس کے قریب مظاہرین کیخلاف پولیس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے پولیس کا دفاع کیا۔ کانگریس کے نام ایک خط میں انہوں نے واضح کیا کہ وائٹ ہاؤس کے پاس پارک میں مظاہرین تشدد پر اتر آئے تھے، انہوں نے عملاً پولیس کو اپنے حصار میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے اسے اپنے دفاع کیلئے کارروائی کرنی پڑی۔ اٹارنی جنرل ولیم برنے اس کے بارے میں ایک بیان میں بتایا کہ وہ جب وائٹ ہاؤس کے قریب ہونیوالے مظا ہر ے کے سین پر پہنچے تو قانون نافذ کرنیوالے حکام نے پہلے ہی مظاہرین پر دباؤ ڈال کر انہیں پارک سے باہر نکال دیا تھا اور انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ ولیم بر نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ پولیس نے اس کارروائی میں کوئی سخت ہتھیار استعمال نہیں کیا اور انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا۔

امریکہ احتجاج

واشنگٹن،اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکہ میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر شروع ہونیوالا احتجاج تحریک میں تبدیل ہو گیا،سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی امریکی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مینی پولس میں قانون تبدیل ہو گا۔امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے واشنگٹن میں تعینات نیشنل گارڈ کو غیر مسلح کر دیا۔نیویارک کے علاقے بفلو میں ہنگامی ریسپانس ٹیم کے 55 پولیس افسران نے 2ساتھیوں کے معطلی کے بعد احتجاجا استعفی دیدیا۔ امریکہ میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کیخلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ میکسیکو میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کر دیا۔ کینیڈا میں نسل پرستی کیخلاف ریلی نکالی گئی جس میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی شرکت کی، وائٹ ہاؤس کے باہر شہر یو ں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر مظاہرہ کیا، کئی افراد جھومتے بھی رہے۔مظاہرین نے پلے کارڈز کے ذریعے نسل پرستی کے خاتمے کی طرف توجہ بھی مبذول کرائی، مظاہرے میں سفید فام افراد نے بھی شریک ہو کر یکجہتی کا اظہار کیا۔غیر ملکی خبر رساں ادا ر ے کے مطابق سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی امریکی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مینی پولس میں قانون تبدیل ہوگا اور پولیس کے ملزم کی گردن دبوچنے یا گھٹنے سے دبانے پر پابند ی لگے گی۔اس ضمن میں مینی پولس سٹی کونسل نے پولیس میں فوری اصلاحات کی متفقہ طورپر منظوری دیدی ہے جبکہ مینی پولس سٹی کونسل کی جانب سے تیار اصلاحات کی حتمی منظوری جج دیگا۔ادھرامریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے واشنگٹن میں تعینات نیشنل گارڈ کو غیر مسلح کر دیا۔ امریکی وز یر دفاع مارک ایسپر نے نیشنل گارڈ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ وائٹ ہاؤس سے مشاورت کے بغیر کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کو مسلح کرنے اور فوج تعینا ت کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن واشنگٹن میں تعیناتی سے پہلے ہی فوج کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔دوسری طرف نیویارک کے علاقے بفلو میں ہنگامی ریسپانس ٹیم کے 55 پولیس افسر ان نے 2 ساتھیوں کے معطلی کے بعد احتجاجا استعفی دیدیا۔ گزشتہ روز بفلو میں سیاہ فام شہری کے امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل کیخلاف کیے گئے مظاہر ے کی ویڈیو میں ہنگامی رسپانس فورس کے افسران کی ایک قطار دکھائی دیتی ہے۔ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پولیس کی طرف آنیوالے ایک شخص کو 2 اہلکاروں نے ایسا دھکا دیا کہ وہ پیچھے فٹ پاتھ پر جا گرا اور اس کے سر سے خون بہنے لگا۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد دھکا دینے والے دونوں افسران کو معطل کر دیا گیا جس کے بعد یونٹ کے دیگر 55 افسران نے دو ساتھیوں کیسا تھ کیے گئے سلوک پر استعفیٰ دیدیا۔استعفیٰ دینے والے افسران کا کہنا تھا کہ وہ صرف احکامات پر عمل کر رہے تھے۔ زخمی ہونیوالے مارٹن گوگینو نے اپنے بیان میں خود کو انسانی حقوق کا وکیل بتایا جبکہ حکام کے مطابق اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ادھر امریکہ میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کیخلاف مظاہرے جاری ہیں جبکہ میکسیکو میں مظاہرین کا امریکی سفارت خانے پر حملہ کر دیا۔مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کا مرکزی گیٹ توڑنے کی کوشش بھی کی۔ امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی پولیس حرا ست میں ہلاکت کیخلاف مظاہرو ں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ نیویارک کی سڑکوں پر بھی ہزاروں مظاہرین نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔امریکی ریاست نیویارک کے شہر بفلو میں پولیس تشدد کے خلاف بھی احتجا ج جاری ہے۔ مطابق پولیس اہل کار نے 75 سالہ معمر شخص کو دھکا دے کر زخمی کر دیا، بزرگ شخص کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔گزشتہ روز امریکی شہروں لووا اور للی میں جھڑپوں کے دوران آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جن میں تین افریقی امریکن بھی شامل ہیں۔وائٹ ہاوس کی حفاظت پر تعینات فوجی دستے پیچھے ہٹ گئے تھے اور دار الحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو ختم کردیا گیا تھا۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیشنل گارڈز اور پولیس کے دستے بھی پیچھے ہٹ گئے تھے اور واشنگٹن ڈی سی کی سڑکیں میٹرو پولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہیں۔کینیڈا میں نسل پرستی کیخلاف ریلی نکالی گئی جس میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی شرکت کی اور3 بارگھٹنے ٹیک کر شرکا کو خراج تحسین پیش کیا۔نسل پرستی کیخلاف نکالی جانے والی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جس میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سیاہ ماسک اور سفید شرٹ پہن رکھی تھی۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ریلی سے خطاب نہیں کیا، مظاہرے کے بعد جب شرکا امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھے تو وزیراعظم جسٹن ٹروڈو واپس چلے گئے۔خیال رہے کہ یہ مظاہرے ایسے موقع پر کیے گئے جب مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں خاتون کی موت کیخلاف مظاہرہ بھی کیا گیا تاہم اس مظاہرے میں جسٹن ٹروڈو نے شرکت نہیں کی۔خیال رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں 25 مئی 2020 کو سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں 45 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔مینی پولس میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس نے امریکا کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

امریکہ احتجاج

مزید :

صفحہ اول -