کورونا سے فوڈ چین متاثر،دنیا بھر میں 70کروڑ 40لاکھ افراد خوراک کی کمی کا شکار

کورونا سے فوڈ چین متاثر،دنیا بھر میں 70کروڑ 40لاکھ افراد خوراک کی کمی کا شکار

  

لاہور (تحقیقاتی رپورٹ، میا ں ہارون رشید) کورونا کے باعث دنیا بھر میں فوڈ چین متاثر ہونے پر 70کروڑ 40 لاکھ افراد خوراک کی کمی کا شکار۔ ایشین پروڈکٹویٹی آرگنائزیشن (اے پی او) جاپان کی رپورٹ کے مطابق ایشیائی ممالک میں 80 فیصد چھوٹے کسان براہ راست متاثر ہوسکتے ہیں، پاکستان بھی کورونا وائرس سے کافی متاثر ہوا ہے اگرچہ یہ شرح یورپی ممالک سے کم ہے،رپورٹ میں ممبر ممالک کو کسانوں اور زرعی شعبے کے ساتھ تعاون سے متعلق تجاویز دی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا میں فوڈ چین متاثر ہوئی ہے ریسٹورنٹس بند ہونے سے خوراک کی کھپت کم ہوگئی جس کے باعث پھل اور سبزیوں سمیت اشیا ئے خوردونوش کی قیمتیں کم ہونے کا خدشہ ہے، کسان بھی لاک ڈاؤن کے دوران ویسے کام نہیں کررہے جیسے وہ عام حالات میں کرتے ہیں ان کو بیج،کھاد،مشینری وغیرہ کی دستیابی میں دشواریاں ہیں۔دوسری جانب وزارت صنعت و پیداوارکا ذیلی ادارہ نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) بھی کورونا کی موجودگی میں زرعی پیداوارکے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ این پی او کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کورونا وبا ء نے کسان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی، ملک بھر میں فوڈ چین متاثر ہونے سے اجناس کے نرخ گرنے کا خدشہ ہے جبکہ فصل کی کم قیمت ملنے سے کسان کی بدحالی میں مزید اضافہ ہوگااور اس صورتحال کے باعث مستقبل میں زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خطرہ درپیش ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم پیداوار سے خوراک کی قیمتیں آسمان کو پہنچنے کا خدشہ ہے لہٰذا موجودہ حالات میں کسانوں کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے حکومت خصوصی پیکیج کا اعلان کرے۔ این پی او کی رپورٹ میں ملک میں زرعی شعبے کی بحالی کیلئے تجاویز بھی دی گئی ہیں جس کے مطابق زراعت کو ایک لازمی خدمت کے طور پر ٹیکس چھوٹ دینے سمیت ضروری سامان اور تربیت فراہم کرکے کاشتکاروں کی حفاظت یقینی بناسکتی ہے، اسی طرح کاشتکاروں کو بروقت زراعت کے آدانوں، خام مال اور ٹیکنالوجیز کی فراہمی کیلئے ضوابط اور پالیسیوں کو اپنانا ہوگا اور زرعی شعبے میں جدید طریقوں پر عمل درآمد سمیت ڈیجیٹل زراعت کی ایپلی کیشنز، ڈرون کی افادیت اورافزائش کو فروغ دینے کیلئے سائنسی تحقیق پر انحصار کرنا ہوگا۔

خدشہ

مزید :

صفحہ اول -