این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جائے،مولانا فضل الرحمن

این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جائے،مولانا فضل الرحمن

  

پشاور(آن لائن) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت بجلی صارفین کے3 ماہ کے بل معاف کرے، انٹرنیشنل ایئرلائن کمپنیوں کو فلائٹ آپر یشن کی اجازت اور ٹکٹوں میں 50 فیصد ریلیف دیا جائے، موجودہ حکومت دھاندلی کی پیدا وار ہے، 18ویں ترمیم میں ردوبدل تسلیم نہیں کریں گے، نیب کی یکطرفہ کاروائیاں بند کی جائیں۔ہفتہ کے روز پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس کے بعد پریس کانفرنس میں انہو ں نے کہا نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس کو ماہرین کی مشاورت اور ایس او پیز کیساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ٹڈی دل سے متاثرہ زمینداروں اور کاشتکاروں کو ریلیف پیکج دیا جائے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق بجلی کے تمام صارفین کو تین ماہ کے بجلی بل معاف کیے جائیں۔نیب کی طرف سے اپوزیشن قائدین کیخلاف یکطرفہ کاروائیاں بند کی جائیں۔ ملک میں آٹے کی قلت، پٹرول کی قلت، مصنوعی مہنگائی ناقابل برداشت حد سے بڑھ رہی ہے، جو کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی کا ثبوت ہے۔اس کافی الفور حل کیا جائے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، وہاں امن وامان کا قیام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔کورونا وباء سے متاثر تمام طبقات کو جامع ریلیف پیکج دیا جائے۔ جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، یہ ریفرنس آزاد عدلیہ اور ان کے فیصلوں پر وار ہے،اپوزیشن جماعتیں اس کی پرزور مذمت اور آزاد عدلیہ کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں، آئین پاکستان کے آرٹیکل 158کے تحت خیبرپختونخوا کو گیس کی پیداوار پرترجیحی استعمال کا حق اور رعایت دی جائے۔ اے پی سی نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین سے رابطے کرے گی، تاکہ قومی سطح پر ایک لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ کورونا وباء کی صورتحال میں این ایف سی جیسے ایشو لانے کی مذمت کرتے ہیں،دسویں این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد بڑھایا جائے۔ فاٹا انضمام کے بعد کے پی کا حصہ بڑھایا جائے۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -