خیبر پولیس میں اختلافات، شینواری پولیس اہلکاراجلاس سے لا تعلق

خیبر پولیس میں اختلافات، شینواری پولیس اہلکاراجلاس سے لا تعلق

  

خیبر (بیورورپورٹ)خیبر پولیس میں اختلافات سامنے آگئے شینواری پولیس اہلکاروں نے پیر کے دن خیبر پولیس اجلا س سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور ساتھ پولیس کی رول رگولیشن کو مکمل فالو کرنے کا بھی اعلان کیا گزشتہ روز خیبر پولیس اہلکاروں نے جس میں ریٹائر ڈ اہلکار یا عدالت سے سٹے لئے ہوئے اہلکار بھی شامل تھے بھگیاڑی پولیس قلعہ میں اجلاس منعقد کیااجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پیر کے دن قومی مشران کو بھی اجلاس میں شامل کرینگے اور صلاح مشورے کے بعد آئندہ کالائحہ عمل تیا ر کیا جائے گا خیبر پولیس کے سینئر اہلکاروں کے مطابق کہ انضمام کے بعد ان سے بہت سے وعدے کئے گئے تھے لیکن ابھی تک ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا جب پولیس کے اعلی حکام سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کے خاصہ دار اور لیویز کو پولیس میں ضم کیا گیا ہے لیکن آئینی قانونی طور پر اب بھی وہ خاصہ دار ہیں انضما م کے بعد زیا دہ تر خاصہ دار اہلکاروں نے خاصہ دار بیجز اراتار کرپولیس کے بیجز لگا دئیے گئے جبکہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کے عہدے بھی دئیے گئے اس وقت ڈی ایس پیز کے اہم عہدے ریٹائر ڈ اہلکاروں کو دئیے گئے جس پر ریگولر اور سینئر اہلکاروں نے ناراضگی کااظہار بھی کیا تھا جبکہ انہوں نے خاصہ دار بیجز بھی نہیں اتارے مسئلہ اس وقت سنگین ہو گیا جب گزشتہ روز آئی جی پولیس کی ہدایات پر ڈی پی او خیبر نے کرپشن کے الزام میں 70اہلکاروں کو شاہ کس طلب کرکے ان پر انکوائری مقرر کی بلکہ کچھ اہلکاروں کو منشیات سمگلروں سے روابط کے الزام میں نوکری سے بر خاست کیا اور بھگیاڑی چیک پوسٹ سے طورخم تک چیک پوسٹوں کو کلوز کرکے تمام اہلکاروں کو تھانے میں تعینات کر دئیے گئے جس کے بعدجمرود اور لنڈیکوتل کے اہلکاروں نے اجلاس منعقد کیا لیکن اس کے بعد لنڈیکوتل میں شینواری قوم سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں نے میٹنگ کرکے پیر کے دن اجلاس سے لاتعلقی کا ارظہا کیا اور ڈی پی او کی کارکردگی کو سراہا جبکہ زرائع سے معلوم ہوا کہ زیا دہ تر قومی مشران نے بھی اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندہ دیا ہے اور ساتھ یہ بھی بتا یاہے کہ پہلے دن سے جب وہ خیبر پولیس اہلکاروں سے ساتھ احتجاج میں شریک تھے لیکن جب آئی جی پولیس نے انہیں بتا یا کہ اب وہ پولیس میں ضم ہو گئے اور پولیس کا حصہ بن گئے تو خیبر پولیس نے صلاح مشورے کے بغیر قومی مشران کو چھوڑ کر پولیس بیجز لگا دئیے جب اب دوبارہ انکے ساتھ دھوکہ ہوا تو پھر وہ اجلاس منعقد کرتے ہیں اور قومی مشران کو دعوت دیتے ہیں خیبر پولیس ذرائع کے مطابق کہ پولیس میں اختلافات کی اصل وجہ کچھ ریٹائرڈ اہلکارہیں جو اہم عہدوں پر مزے لے رہے تھے اور انہوں ہزاروں اہلکاروں کے ساتھ دھوکہ کیا جب اب وہ پھر مشکلات سے دوچار ہو گئے اور اب اتحا دکی بات کر تے ہیں اس لئے زیا دہ تر ریگولر اہلکار انکے ساتھ نہیں دیتے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -