بے ایمانی انسان کو اندھا اور بہرہ کردیتی ہے،عبدالقدیر اعوان

بے ایمانی انسان کو اندھا اور بہرہ کردیتی ہے،عبدالقدیر اعوان

  

پشاور(سٹی رپورٹر)بے ایمانی بندے کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے اوروہ حق کو سنتا ہے نہ اس پر عمل کرتا ہے۔ بندہء مومن جب اپنا تعلق حضورِاکرم ﷺ سے مضبوط کر لیتا ہے، ان برکاتِ نبوت کو حاصل کر رہا ہوتا ہے جو سینہ ء اطہر محمد رسول اللہ ﷺ سے آ رہی ہوتی ہیں،یہ مٹی سے بنا بشر اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق اس کے نزدیک بھی نہیں آ سکتی چہ جائیکہ وہ اس پر اپنا اثر چھوڑیں، ان خیالات کا اظہار حضرت امیر عبد القدیر اعوان، شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان نے دارالعرفان میں جمعالمبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے مزید یہ کہا کہ جس طرح اعمال میں کمزوری کی وجہ سے انسان اللہ کریم سے دور ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح انسان فزیکل کمزور ہو تو اس پر ہر قسم کے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں، اسی طرح جب بندہء مومن اپنی اصل یعنی دین اسلام سے دور ہوتا ہے تو پھر اس پر ہر شئے حملہ آور ہوتی ہے، اس لیے دنیوی طاقت و دولت ہونے کے باوجود بے سکونی و بے چینی میں ہوتا ہے۔ بظاہر اگر بہت اعلی حیثیت کا بندہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ ایمان کی کمزوری اور آپ ﷺ سے تعلق کا کمزور ہونا ہے۔ بے ایمانی بندے کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے اوروہ حق کو سنتا ہے نہ اس پر عمل کرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اپنے فرائض کا خیا ل کریں،باوضو رہیں،خصوصا نماز کی ادائیگی بروقت کریں۔ پنتالیس سال کے عرصے کا شاہد ہوں کہ اگر کوئی جنات کی گرفت لے کر آیا اور اس کا علاج کیا اور اسے جو عمل بتایا، اسے اختیار کیاگیاتوآج تک ایک بندہ بھی ایسا نہیں جو یہ کہے کہ اس پر جنات کی گرفت رہی ہو۔ کیا ہوتا ہے؟ یہاں سوائے اس کے کہ اللہ اللہ کی تکرار، اتباعِ رسالت ﷺاورنقش دیئے جاتے ہیں۔ معاشرے میں منفی سوچ اس حد تک ہو گئی ہے کہ دینی شعبہ جات میں بحث مقابل کی کی جاتی ہے جو کہ فساد کا سبب بن جاتی ہے حالانکہ یہ بہتر اور بہترین والی بات تھی۔ وبائی مرض نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، ٹڈی دل زراعت میں تباہی کر رہی ہے۔ موسم کا رد و بدل ایسا ہے کہ وہ مخلوقِ خدا پراثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ سبب کیا ہے؟ یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے اور ہمیں رجوع الی اللہ ہو کر توبہ کرنا ہو گی تاکہ اللہ کریم ہم پر رحم فرمائیں اور اس سے نجات حاصل ہو۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -