سر سبز تحریک قدرتی وسائل کی بحالی کیلئے اہم ثابت ہوگی، ملک امین اسلم

سر سبز تحریک قدرتی وسائل کی بحالی کیلئے اہم ثابت ہوگی، ملک امین اسلم

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ بلین ٹری منصوبہ ایک تحریک ہے جس سے معشیت، روزگار اور قدرتی وسائل کو بحال کیا جائے گا اور اس میں ان 65ہزار افراد کو روزگار دیا جائیگا جنکی نوکریاں لاک ڈاؤن میں ختم ہوئیں ہیں ان خیالا ت کا اظہار ملک امین اسلم نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے تحت منعقدہ عالمی یوم ماحول کے حوالے سے تقریب سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس راونڈٹیبل کانفرنس کا انعقاد ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ماحولیات نے کیا تھا اور اس تقریب میں شرکاء نے کورناوائرس کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکڑ جنرل آف پاکستان انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی فرزانہ الطاف، ڈائریکڑ جنرل سندھ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نعیم مغل، ماہر ماحولیات ثاقب اعجاز، ڈاکڑ نزہت خان ڈی جی این آئی او، محمد نعیم قریشی کنونیئر ایف پی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ماحولیات اور صدر نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ ایئڈ ہیلتھ، سینئر وائس چیئرمین بزمین پینل میاں زاہد حسین، ڈاکڑ معظم علی خان، شبینہ فراز، انجنیئر ایم اے جبار، شیخ سلطان رحمان، احمد شبر، انجنیئر ندیم اشرف، حناء جمشید، مہوش ظفر و پورے پاکستان اور دنیا بھر سے 200سے زائد لوگوں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر ملک امین اسلم نے کہا کہ یہ سر سبز تحریک لاک ڈاؤن کے دوران شروع کی جا چکی ہے اور عالمی بنک پاکستان کو 180ملین ڈالر ملک کو سرسبز بنانے کیلئے دے گا اور یہ پاکستان کی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے بڑا اقدام ہے اور جلد ہی اسکے اثرات ہمارے موسم، جنگلی حیات، معشیت پر رونما ہونگے۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو اس مہم میں شامل کیا جا ئیگا اور جلد ہی وزیر اعظم ملک میں جنگلات اور پارکوں کے تحفظ کیلئے ایک پلان کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کلین اینڈ گرین مہم کو پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے 20شہروں میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اس سے ماحولیات کے مسائل میں کمی بھی آئی ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ ملک میں سست معاشی ترقی ماحولیات پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے جنگلات کو کاٹا گیا اور انسانوں کے رہنے کیلئے قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا ان تمام وسائل کے کم ہو جانے کی وجہ سے ملک میں معاشرتی اور صحت کے مسائل نے جنم لیا جو کہ آج تک موجود ہیں۔اس موقع پر نیشنل انسٹیٹوٹ آف اوشیانو گرافی کے ڈائریکڑ جنرل ڈاکڑ شاہد امجد نے کہا کہ ملک کی سمندری حیات کے تحفظ کے کئے ضروری ہے کہ مینگرو کے جنگلات کا تحفظ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سمندری حیات کے تحفظ کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جا ئے کیونکہ ملک کی ایک تہائی آبادی کا روزگار بھی اسی سے منسلک ہے۔اس موقع پر فرزانہ الطاف نے کہا کہ پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997کے تحت ماحول کو نقصان پہچانے والوں کو دو سال سے کی قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کورنا وائرس کے مریضوں کا طبی فضلہ کو محفوظ ٹھکانے لگانے کیلئے گائیڈلائینز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔نعیم مغل نے کہا کہ سیپا ملک میں پہلی ایجنسی ہے جو حکومتی اداروں کو بھی آلودگی پھیلانے اور ماحولیات کو نقصان پہچانے پر سزا دے سکتی ہے۔ثاقب اعجاز نے کہا کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کے طبی فضلے کو محفوظ ٹھکانے نہ لگانے بھی خطرہ ہے۔انہوں نے کہ اس فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا انتظام کرنا چایئے۔ڈاکڑ نزحت نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ساحلی علاقوں میں آلودگی میں کمی واقع ہوئی ہے اور کورونا کے خاتمے کے بعد بھی اسی طرز عمل سے آلودگی کو مستقل کم کیا جاسکتا ہے۔محمد نعیم قریشی نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی اسٹنڈنگ کمیٹی انڈسٹری اور دیگر اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی رہے اور ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر ماہرین اور شرکاء نے سندھ اور اسلام آباد کی آبادی کا ماحولیاتی اداروں کے ڈائریکڑ جنرلز اور حکام نے کہا کہ ماحولیاتی قوانین اور پالیسیاں تو بہت بن گئیں مگر عمل درآمد کم ہے اور صوبوں کی سطح پر اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور یہ ادارے عوام کے طبقات، ایف پی سی سی آئی اور سول سوسائٹی کے تعاون سے کام کریں اور ماحولیاتی مسائل کو انتہائی ترجیح دی جائے اور بڑے شہروں میں نکاسی آب اور کچرے کو ٹھکانے لگائے۔سرکاری و صنعتی اداروں کی خلاف ورزیوں پر سخت نوٹس کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -