طیارہ حادثہ: فرانسیسی ماہرین نے بلیک باکس ڈی کوڈ کر لیا لیکن اس کا ڈیٹا اب کہاں ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

طیارہ حادثہ: فرانسیسی ماہرین نے بلیک باکس ڈی کوڈ کر لیا لیکن اس کا ڈیٹا اب ...
طیارہ حادثہ: فرانسیسی ماہرین نے بلیک باکس ڈی کوڈ کر لیا لیکن اس کا ڈیٹا اب کہاں ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) فرانسیسی ماہرین نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس ڈی کوڈ کر لیا  اور ذرائع کے مطابق بلیک باکس سے ڈی کوڈ کیا گیا ڈیٹا پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایئرکموڈور عثمان غنی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ ایئرکموڈورعثمان غنی شواہد لےکر پی آئی اے کی پروازسے 7جون کو فرینکفرٹ سے اسلام آباد پہنچیں گے۔خیال رہے کہ ایئرکموڈورعثمان غنی فرانس میں ایئربس کی ٹیم کےساتھ پی آئی اے طیارہ حادثےکی تحقیقات کر رہے ہیں۔دوسری جانب پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا دائرہ کار ایئر ٹریفک کنٹرولر تک وسیع کر دیا گیا ہے۔سی اے اے ذرائع کے مطابق ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ نے لاہور ایئر پورٹ سے شواہد حاصل کرلیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حادثے سے متعلق تمام ڈیٹا کو سیل کرکے تحقیقاتی بوڈر کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ لاہور کنٹرول ٹاور، اپروچ، ایریاکنٹرول ٹاور سے بھی ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ کپتان کی لاہور اور کراچی اے ٹی سی کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ بھی تحقیقاتی بورڈ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ریڈار کی ویڈیو ریکارڈنگ ایم پی فور کے فارمٹ میں فراہم کی گئی ہے جو کمپیوٹر پر چلائی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر کے بیانات ، لاگ بک اور ڈیوٹی روسٹر کی مصدقہ کاپیاں بھی بورڈ کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ کراچی اے ٹی سی سے بھی تمام ضروری ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی ایئر پورٹ سے حاصل سیل شدہ ریکارڈ بھی تحقیقاتی بورڈ کے حوالے کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ اے اے آئی بی نے اپنی تحقیقات کا دوسرا مرحلہ ایئر ٹریفک کنٹرولر پر مرکوز کیا ہے جبکہ اے ٹی سی سے ریکارڈ کی فراہمی کیلئے سی اےاے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشن کی جانب سے خط بھی تحریر کیا گیا ہے۔

مزید :

قومی -