کورونا وائرس، لنگرانداز ہونے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کتنے پاکستانی مختلف ممالک کی سمندری حدود میں بحری جہازوں پر پھنسے ہیں؟ تفصیلات منظرعام پر

کورونا وائرس، لنگرانداز ہونے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کتنے پاکستانی مختلف ...
کورونا وائرس، لنگرانداز ہونے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے کتنے پاکستانی مختلف ممالک کی سمندری حدود میں بحری جہازوں پر پھنسے ہیں؟ تفصیلات منظرعام پر

  

کراچی (ویب ڈیسک) کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے مال بردار بحری جہازوں پر تعینات پاکستانی بحری عملہ دربدر ہوگیا ہے ۔

حکومتی سطح پر بحری عملے کو واپس لانے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ 150کے قریب عملے کے افراد مختلف ملکوں کے سمندروں میں جہازوں پر ہی محصور ہیں ، متعلقہ ممالک میں انھیں بندرگاہوں پر اترنے کی اجازت نہیں دی جارہی جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بحری عملے سے رابطے میں ہیں۔ پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے کی وجہ سے پی این ایس سی کے بحری عملے کی وطن واپسی میں تاخیر کا سامنا ہے۔

کورونا وائرس کے پیش نظر کئی ممالک نے احتیاطاً اپنے عملے کو واپس بلالیاہے لیکن پاکستانی نیشنل فلیگ کیریئر پر تعینات عملے کے ارکان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ بحری عملے میں سے اکثر کا کنٹریکٹ بھی ختم ہوچکا ہے اور اضافی دنوں کے لیے کسی قسم کی ادائیگیاں بھی نہیں کی جارہیں۔

پھنسنے والا عملہ پی این ایس سی کے بلک کارگو ایم وی ملاکنڈ، حیدرآباد، سبی،ملتان اور چترال نامی جہازوں پر تعینات تھا جو سمندری تجارت کے سلسلے میں مختلف روٹس پر رواں دواں تھے کہ کورونا کی وبا کے باعث بندرگاہیں بند ہونے اور سمندری تجارت متاثر ہونے کی وجہ سے پھنس گئے۔ ایم وی ملاکنڈ انڈونیشیاسے برازیل جارہا ہے، ایل وی ملتان 18مئی سے کولمبو میں کھڑا ہوا ہے ، اسی طرح ایم وی حیدرآباد پر موجود عملے کو جہاز پر تعینات ہوئے 14ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے۔ ایم وی چترال کے عملے کو جہاز پر 10 سے 11ماہ ہوچکے ہیں۔

بحری عملے کے اہل خانہ نے وفاقی وزارت ساحلی امور سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی بحری عملے کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

مزید :

قومی -