شہزاد اکبر کے اثاثے ظاہر ہیں نہ ان کی شہریت کا پتہ، انہیں صرف۔۔۔قمر الزمان کائرہ معاون خصوصی برائے احتساب پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی

شہزاد اکبر کے اثاثے ظاہر ہیں نہ ان کی شہریت کا پتہ، انہیں صرف۔۔۔قمر الزمان ...
شہزاد اکبر کے اثاثے ظاہر ہیں نہ ان کی شہریت کا پتہ، انہیں صرف۔۔۔قمر الزمان کائرہ معاون خصوصی برائے احتساب پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر کے اثاثے ظاہر ہیں نہ ان کی شہریت کا پتہ ہے، انہیں صرف لوگوں کی عزت اچھالنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ آج سٹیل مل کے ملازمین اسد عمر کی طرف دیکھ رہے ہیں،حکومت کوروناکی روک تھام کیلئے مکمل ناکام ہو چکی ہے اس معاملے پر قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے مگر اپوزیشن کو قومی ہم آہنگی کی بات کرنے برا بھلا کہا جاتا ہے، موجودہ حکومت بنیادی طور پر فاشسٹ ہے، فاشزم میں مخالف آواز کو دبا دیا جاتا ہے حکومت ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکی اب کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے۔

بلاول ہاؤس لاہور میں(ن)لیگ پنجاب کےصدر رانا ثناءاللہ خان اوردیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتےہوئےقمر الزما ن کائرہ نے کہا کہ آج سٹیل مل کے ملازمین اسد عمر کی طرف دیکھ رہے ہیں،پیپلز پارٹی سٹیل مل سے ملازمین کو نکالنے کے فیصلے پر اسمبلی میں احتجاج کرے گی اور عدالت جائے گی۔انہوں نےکہاکہ حکومت نےسٹیل مل کوبہتربنانےکے لئے کچھ نہیں کیا ، حکومت کی طرف سے ہر ہفتے ایک نئی کہانی شروع ہو تی ہے،ملک میں بحران بڑھتے جا رہے ہیں،مزید بھی پیدا کیے جار ہے ہیں حکومت کے پاس کسی مسئلے کا حل نہیں،ن لیگ اور پیپلزپارٹی قیادت کو بلاوجہ جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وزراپیشگوئیاں کر رہے تھے، بڑے بڑے لوگ پکڑے جائیں گے، خورشید شاہ گزشتہ 7 ماہ سے نیب حراست میں ہیں، شہزاد اکبر کے اثاثے ظاہر ہیں نہ ان کی شہریت کا پتہ، انہیں صرف لوگوں کی عزت اچھالنے کے لیے رکھا ہوا ہے، کاغذ لہرا لہرا کر کہتے رہے دس ارب کے ثبوت ہیں، وہ کہاں گئے کسی کو نہیں پتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوروناکی روک تھام کیلئے مکمل ناکام ہو چکی ہے اس معاملے پر قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے مگر اپوزیشن کو قومی ہم آہنگی کی بات کرنے برا بھلا کہا گیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بنیادی طور پر فاشسٹ ہے، فاشزم میں مخالف آواز کو دبا دیا جاتا ہے، حکومت ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکی اب کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے۔

اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شہزاد اکبر نے 200 ارب ڈالر باہر سے لانے تھے ان کا کیا ہوا؟ اگر کورونا وائرس نہ آتا تو یہ سال مڈٹرم الیکشن کا سال تھا،تمام جماعتوں نے مل کر اس کے لیے کوشش کرنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ترمیم لے کر آئیں، حکومت ترمیم کرنے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہیں، حکومت نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -