پرچی چیئرمین اور جی جی بریگیڈ معاشی اشاریوں پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ، فرخ حبیب نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

پرچی چیئرمین اور جی جی بریگیڈ معاشی اشاریوں پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ، فرخ ...
پرچی چیئرمین اور جی جی بریگیڈ معاشی اشاریوں پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں ، فرخ حبیب نے اپوزیشن کو کھری کھری سنا دیں

  

فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے عالمی سطح پر کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافے کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اناج میں 40 فیصد،ویجیٹیبل آئل میں 124 فیصد، ڈیری میں 28 فیصد،گوشت میں 10 فیصد، شوگر میں 57 فیصد، پاکستانی فوڈ کنزیومر پرائس انڈیکس میں 9 فیصد مراضافہ ہوا ہے،2013سے 2018 ن لیگ واردات ڈال کر گئی ہے ،45فیصد بجلی ایمپورٹڈ فیول پر کررہے ہیں ،35فیصد مہنگے بجلی گھر لگائے گئے جس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہے ہیں ، اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی متعدد بارسفارشات کو وزیراعظم نے مسترد کر کے عوام کو ریلیف دیا ، تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کر رہے ، پرچی چیئرمین اور جی جی بریگیڈ معاشی اشاریوں پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں۔

 فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او یا کوئی بھی رپورٹ آئے تو اپوزیشن واویلا شروع کردیتی ہے اور میڈیا پر بھی نمایاں ہوتا ہے لیکن اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی رپورٹ پرپاکستان میں اس طرح اجاگر نہیں ہوئی تاہم انٹرنیشنل میڈیا سے اسے نمایاں مقام دیا ہے ، سی این این ، فنانشنل ٹائمز اور بڑے بڑے جریدوں میں ہیڈ لائنز بنیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام لوگوں میں افراتفری پھیلنا ہے تا کہ لوگ ان کی چوری کو بھول جائیں،ہماری حکومت کی انتھک محنت سے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) نہ صرف 4 فیصد پر ترقی کررہی ہے،کوویڈ 19 کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں محدود ہونے کے باوجود ایف بی آر نے جولائی تا 31 مئی تک اب تک4170 ارب ٹیکس اکٹھا کیا ہے،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 216 ارب روپے ریکارڈ ریفنڈز واپس کیا۔

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے،سیمنٹ کی سیل40فیصدجبکہ گاڑیوں کی سیل میں54 فیصد اضافہ دیکھنے کو آیا ہے،9لاکھ موٹر سائیکلیں فروخت ہوئی ہیں،ملک کی مجموعی معاشی شرح نمو میں 33بلین ڈالرکااضافہ ہوا ہے،سمندر پارمقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانےوالی رقوم کی وصولی میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر کی وصولیاں 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کی قیادت میں غذائی تحفظ اور اضافی غذائی پیداوار کے لئے جنگی بنیادوں کام کر رہے ہیں،حکومت کی بہتر زرعی پالیسیوں اور کسانوں کو 1100ارب اضافی فراہم کرکے گندم کی 27.3ملین ٹن،مکئی کی 8.4 ملین ٹن،چاول کی8.4 ملین ٹن’بمپر کاراپ‘حاصل کی،2020ء میں ایک لاکھ 41 ہزار 5 سو میڑک ٹن آم،4 لاکھ 62 ٹن کینو برآمد، آلو کی برآمدات 28 فیصد بڑھی۔

فرخ حبیب نے کہاکہ سابق حکومت کے مہنگے معاہدے کیے ، مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت کی طرف سے’ٹیک آر پےنے‘ کی بنیاد پرکئے جانے والے کپیسی پیمنٹ اصل مسئلہ ہے ،شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روزاعتراف جرم کرلیا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گردشی قرضے ہیں،ن لیگ کے1150 ارب کے گردشی قرضے ہمیں ورثے میں ملے۔

انہوں نے بتایا کہ 2013 ءمیں لازمی کیپسٹی چارجز 185 ارب، 2018ء میں بڑھ کر 468 ارب ہوگئے،ورثے میں ملنے والے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے 2020ء میں یہ چارجز 860ارب تک پہنچ گئے۔ 2023 ءمیں 1455 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے،ان تمام تر چیلجنز کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

فرخ حبیب نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھے ، بلاول کراچی اور سندھ کی سڑکوں پر نکلیں اور اپنے ہی بنائے ہوئے مافیا کے خلاف کارروائی کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی معاشی پالیسیاں سنتے جاؤں شرماتے جاؤں والی ہیں، پاکستان کے عوام کو سستی بجلی چاہیے ، 10بڑے آبی ذخائر پر کام تیزی سے جاری ہے ،اس سے پانی ذخیرہ اور سستی بجلی پیدا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول جیسے پرچی پر چیئرمین بنے ہیں ویسے ہی انھیں لکھ کردیا جاتا ہے اور وہ بیان داغ دیتے ہیں، تحقیق کریں اور بچوں والی حرکتیں چھوڑ دیں، پی ٹی آئی کی حکومت نے تقریباً 50 آئی پی پیز کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کئے جس سے اگلے 20 سال سے زائد عرصہ میں 770 ارب روپے کی بچت ہو گی، مقامی سرمایہ کاروں کے لئے ڈالر انڈیکسینشن کومنجمد کردیا گیا ہے،غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے سرمائے پر منافع 12 سے 13 فیصد تک کم کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سودپر سود کے انوائسوں کے 96 ارب روپے ختم کر دیئے گئے ہیں اور سابق دور سے ملک کے خلاف مختلف بین الاقوامی ثالثی ایوارڈ کے حوالے سے 38 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے،یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سابق حکومت نے علاقائی بینک مارک کے مقابلہ میں اوسطاً 25 سے35 فیصد زیادہ مہنگے معاہدوں پر دستخط کئے،سرمائے پر سالانہ 30سے 35 فیصد منافع کی گارنٹی کے ساتھ لگائے جانے والے ساہیوال کول پاور پراجیکٹ سمیت درآمدی کوئلے سے چلنے والے پلانٹ تباہ کن پالیسی کا نتیجہ ہیں جس میں ہم جکڑے ہوئے ہیں، 20 سے 25 روپے فی یونٹ کے ٹیرف کے حامل ونڈ اور سولر پلانٹ بجلی کے شعبہ کے لئے نقصان کا باعث ہیں،ان کے برعکس تحریک انصاف کے دور حکومت میں گزشتہ سال 6 روپے فی یونٹ کے سولر آئی پی پی ٹیرف پر معاہدے کئے گئے ہیں۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ سابق حکومت نے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں سرمایہ کاری نہیں کی، توانائی وہاں تک نہیں پہنچائی جہاں اس کی ضرورت تھی، عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مارچ سے بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا۔

مزید :

قومی -