افغان مشیر سلامتی کو  وزیر خارجہ کا سخت جواب

افغان مشیر سلامتی کو  وزیر خارجہ کا سخت جواب

  

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خدانخواستہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان کو نقصان ہو گا۔ پاکستان کا بیانیہ امن کا بیانیہ ہے، افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی حمد اللہ محب امن میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔افغانستان میں امن و امان کے لئے ہماری کاوشیں جاری رہیں گی، وزیراعظم عمران خان کی سوچ کو آج دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے،پاکستان پر الزام لگانے والے آج مذاکرات پر قائل ہو گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے سیکیورٹی ایڈوائزر کان کھول کر سُن لیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دیں،افغانستان کے مشیر کی ننگر ہار میں تقریر سن کر میرا خون کھول رہا ہے، افغانستان میں دُنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کے باوجود میدانِ جنگ میں مسئلہ حل نہیں ہوا۔افغانستان میں خانہ جنگی پاکستان اور خطے کے مفاد میں نہیں،انہوں نے اِن خیالات کا اظہار ملتان کی ایک تقریب میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جوں جوں افغانستان سے امریکہ اور نیٹو افواج کے حتمی انخلا کی تاریخ قریب آ رہی ہے ایسے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہو گا،کیونکہ کوئی ایسا سیٹ اپ نہیں بن پا رہا،جو غیر ملکی افواج کے جانے کے بعد امن و امان کے قیام کی ضمانت بن سکے،امریکہ چاہتا ہے کہ وہاں صدر اشرف غنی کی حکومت قائم رہے اور دوسری قوتیں بھی اُن کے ساتھ شامل ہو کر پرامن حالات کی ضمانت دیں،لیکن طالبان نہ صرف اشرف غنی کی حکومت میں شمولیت پر آمادہ نہیں،بلکہ اگلے کسی سیٹ اپ میں اُنہیں کوئی کردار بھی دینے کے لئے تیار نہیں،کیونکہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے تمام عرصے میں کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا ہے،اِس لئے ایسے کرداروں کو مستقبل میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ان حالات میں حمد اللہ محب کو  نہ جانے کیا سوجھی تھی کہ انہوں نے عام جلسے میں ایک شعلہ بار تقریر کر ڈالی اور پاکستان پر ایسے الزامات دہرا دیئے، جو افغان حکمران اکثر و بیشتر پاکستان پر لگاتے رہتے ہیں۔خارجہ پالیسی کے امور پر عام جلسوں میں ناپسندیدہ گفتگو سے گریز ہی کیا جاتا ہے، کیونکہ سفارتی نزاکتیں اس کی اجازت نہیں دیتیں،لیکن افغانستان کے مشیر قومی سلامتی نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو شاہ محمود قریشی کا بھی خون کھول اٹھا اور وہ بھی عام جلسے میں یہ تک کہہ گزرے کہ کوئی باضمیر پاکستانی مشیر قومی سلامتی سے ہاتھ ملانے کے لئے تیار نہیں ہو گا،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملات کس انتہا کو چھو رہے ہیں، کہ تلخیوں کا جواب مزید تلخی سے دیا جا رہا ہے، ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کو کس حد تک نقصان ہو سکتا ہے۔

چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ایک حالیہ ورچوئل اجلاس میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے منظم اور ذمے دارانہ انخلا پر زور دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ افغانستان میں جنگ بندی سے مذاکرات کے لئے ساز گار ماحول بن سکے گا۔اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اِس بات پر اتفاق کیا تھا کہ افغانستان میں عدم استحکام کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ سہ فریقی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یہ بات بھی کہی گئی کہ وہ افغانستان میں کسی ایسی حکومت کے قیام کی حمایت نہیں کریں گے،جو طاقت کے زور پر مسلط ہو،لیکن بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ اگر بات چیت کے ذریعے معاملات طے نہ ہوئے اور بین الافغان مکالمے کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا تو افغانستان میں ویسے ہی حالات پیدا ہو جائیں گے،جیسے اُس وقت پیدا ہو گئے تھے جب سوویت افواج نے افغانستان سے چلے جانے کا فیصلہ کیا تھا، اُس وقت بھی پاکستان نے کافی کاوشیں کیں کہ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت بن جائے،جو سوویت یونین کی واپسی کے بعد حالات کو سنبھال سکے،لیکن اس میں بھی  بوجوہ کامیابی نہ ہو سکی۔اِن حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ اپنے آپ کو ایک مرتبہ پھر دہرائے گی،اب کی بار سوویت یونین کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے،افغانستان میں حکومت کے چہرے بدلے ہوئے ہیں،طالبان کے پرانے کمانڈروں کی جگہ بھی نئے جنگجو آ گئے ہیں،لیکن باقی سب کچھ وہی ہے اِس لئے ان حالات میں اگر اقتدار کا فیصلہ طاقت کے ذریعے ہوتا ہے تو کوئی اس سے خوش ہو یا ناراض،لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہو گی۔

افغانستان میں زمین پر صورتِ حال یہ ہے کہ جب سے غیر ملکی افواج نے انخلا شروع کیا ہے طالبان اب تک سات اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں،ساتواں ضلع جس پر طالبان نے جمعہ  کے روز قبضہ کیا، صوبے زابل کا ضلع شینکے ہے، افغانستان کے دوسرے علاقوں میں بھی سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں،جس سے ان خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ  غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ملک میں انتشار اور تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ طالبان جو کچھ مذاکرات میں حاصل نہ کر سکے،اب وہ طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی پابندیوں کا جائزہ لینے والی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ طالبان اگرچہ فنی طور پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل کر رہے ہیں،لیکن انہوں نے افغان امور پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ نصف سے زیادہ ضلعی انتظامی مراکز پر اُن کا براہِ راست کنٹرول ہے اور شہری علاقوں سے باہر ستر فیصد علاقے اُن کے کنٹرول میں ہیں۔اس رپورٹ کا سرسری طور پر جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغان حکومت کو کس قسم کے حالات کا سامنا ہے اور حمد اللہ محب جیسے لوگ اگر پاکستان کے خلاف گھٹیا زبان میں الزام تراشی کر رہے ہیں تو اس کی وجہ وہ دباؤ بھی ہو سکتا ہے،جو حکومت کو درپیش ہے اور افغان حکومت بظاہر اس پوزیشن میں نظر نہیں آتی کہ طالبان کے دباؤ کا کامیابی سے مقابلہ کر سکے۔ان حالات میں وہ یہی کر سکتی ہے کہ پاکستان پر الزام لگائے کہ وہ طالبان کی مدد کر رہا ہے، افغانستان میں امن سے زیادہ بدامنی ہی کی امید کی جا سکتی ہے،اور جو خلا پیدا ہو گا وہ طاقتور قوتیں ہی پُر کریں گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -