صحت مند معاشرے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں ! 

 صحت مند معاشرے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں ! 
 صحت مند معاشرے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں ! 

  

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت اور تقویم پر پیدا کیا ہے اور اس میں اچھائی اور برائی بالخصوص دین اسلام کو قبول کرنے کی پوری پوری صلاحیت اور استعداد رکھ دی ہے جسے بروئے کار لا کر انسان اپنے آپ کو درست کرنے، بگاڑنے اور دیگر اشخاص کے مفید یا مضر اثرات کو قبول یا رد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ ملکہ فطرتِ انسانی میں جاگزیں ہے تو گویا انسانی فطرت حیوانی فطرت کی طرح نہیں ہے کہ وہ اس سے انحراف ہی نہ کر سکے بلکہ اسے اختیار بھی دے دیا ہے، اس وجہ سے وہ بسا اوقات دنیوی جاہ و جلال اور خواہشات کی پیروی میں مگن ہو کر حق و باطل کا شعور رکھتے ہوئے بھی باطل عقائد و نظریات کا پیروکار بن جاتا ہے،اس طرح وہ رفتہ رفتہ بیرونی اثرات، ماحول، والدین یا معاشرے میں موجود بعض منفی سوچ کے حامل افراد کی تربیت سے فطرت (اسلام) کے اصولوں سے دور ہو جاتا ہے اور یہیں سے معاشرے میں انتشار یا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔    

صحتمند معاشرے کے تمام افراد اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ بیمار افراد اپنی ذمہ داریاں سستی اور کاہلی سے ادا کرتے ہیں،  ان کا کوئی بھی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا، ان کی وجہ سے معاشرہ رفتہ رفتہ تباہی کی جانب بڑھتا ہے،اگر اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں نہ کی جائیں تو تباہی اس معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے، بدقسمتی سے آج پاکستانی معاشرہ بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے اور اسی وجہ سے ملک بہت سے مسائل میں الجھا ہواہے  جن میں جھوٹ، کرپشن، بے راہ روی، غنڈہ گردی اور لاقانونیت سر فہرست ہیں، ہر حکومت نے معاشرے کو ان مسائل سے نکالنے کے دعوے تو بہت کئے،لیکن عملی  نتیجہ صفر ہی رہا، جب تک معاشرے کو ان مسائل سے پاک نہیں کیا جاتا، ملک ترقی کی راہ پر  گامزن نہیں ہو سکتا۔ 

دنیا میں پیدا ہونے والا ہر شخص اپنے ساتھ ساڑھے چار ہزار سے زائد بیماریاں لے کر پیدا ہوتا ہے،یہ بیماریاں ہمارے جسم میں سرگرم عمل رہتی ہیں مگر انسان کی قوت مدافعت اور جسمانی نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم  ہی میں ان بیماریوں کا علاج رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد ان بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں، اس کے باوجود بھی پاکستان کی 22کروڑ کی آبادی میں سے 2کروڑ سے زائد افراد بلڈپریشر اور ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ذیابیطس کے مریض ہیں، یہ دونوں وہ بیماریاں ہیں جن سے دیگر بہت ساری بیماریاں وجود میں آتی ہے، بلڈ پریشر اور شوگر کو ان تمام بیماریوں کی جڑ یا ماں کہا جاسکتا ہے۔ ان بیماریوں کے تدارک کے لئے  پاکستانی سالانہ کھربوں روپے کی ادویات کھا جاتے ہیں، صرف السر کے علاج کے لئے جو  دوائی استعمال کی جاتی ہے،پاکستانی سالانہ 2400 ارب روپے اس پر خرچ کرتے ہیں۔

1981ء تک ملک میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی تعداد 100 سے بھی کم تھی، اس وقت  1000 کے لگ بھگ فارما سیوٹیکل کمپنیاں ہیں۔یہ ہوش ربا انکشافات ہمدرد لیبارٹریز  پاکستان کے چیف کوآپریٹو آفیسر ڈاکٹر ارشد سلیم نے ہمدرد سنٹر لاہور میں گزشتہ دنوں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  کئے، اس موقع ہمدرد کی سدا بہار شخصیت سید علی بخاری بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر ارشد سلیم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی اپنی خوراک اور رہن سہن کو قدرت کے اصولوں کے مطابق کر کے خود کو بلڈپریشر اور شوگر سمیت درجنوں دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ڈاکٹر ارشد سلیم کا کہنا تھا کہ صرف قرآن و سنت کو اپنا کر ہم معاشرے کو صحتمند بنا سکتے ہیں، انسان جب تک فطرت کے اصولوں کو اپنائے رکھتا ہے،وہ صحت مند  تندرست اور توانا رہتا ہے لیکن جب وہ ان اصولوں سے انحراف کرنے لگتا ہے تو مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ پریشانیوں میں بھی مبتلا ہونے لگتا ہے۔ رات کو جلدی سونے اور صبح صادق کے وقت جاگنے، تہجد پڑھنے، قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہی صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

دین اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے جو رہنما اصول بتائے ہیں، ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کرنے  سے ہم معاشرے کو خوشحالی کی جانب گامزن کر سکتے ہیں، صبح کی سیر  اور ورزش کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے، رات گئے سو کرصبح  دیر سے اٹھنا بذات خود ایک بیماری ہے۔ کھانوں میں بھی روائتی کھانوں کی بجائے فاسٹ فوڈ نے لے لی ہے۔ نئی نسل میں شوارمے، برگر پیزے کھانے کا شوق بڑھ رہا ہے، شوربے والے سالن کی جگہ چکن کڑاہی اور مٹن کڑاہی نے لے لی۔ اس طرح ہم ہزاروں روپے خرچ کر کے اپنے لئے خوراک نہیں بلکہ بیماریاں خرید رہے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد سلیم کی گفتگو سن کر شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی یاد تازہ ہوگئی، حکیم محمد سعید کا ویژن ہی یہ تھا قوم کے ہر فرد کو معاشرے کا فعال شہری بنایا جائے،اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے ہمدرد نونہال اسمبلی اور ہمدرد مجلس شوری سمیت جامعہ ہمدرد کی بنیاد رکھی تھی۔ڈاکٹر ارشد سلیم کا کہنا تھا کہ ہم حکیم محمد سعید کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے قوم میں یہ شعور بیدار کر رہے ہیں کہ صحتمند معاشرہ ہی خوشحال پاکستان کا ضامن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -