جنگ جب لازم ہو جائے     

      جنگ جب لازم ہو جائے     
      جنگ جب لازم ہو جائے     

  

 قوموں کے عروج زوال کی داستان بہت قدیم ہے۔جب سے انسان دنیا میں آیا ہے جدل جاری ہے اور شائد یہ ہمیشہ جاری رہے گا۔حق و باطل آمنے سامنے اور ہمیشہ محاذ آرا رہیں گے۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم حد سے بڑھا ہے تو مٹ گیا ہے۔جب جب کسی فرعون نے دنیا پر فرعونیت مسلط کرنے کی کوشش کی رب کریم نے تب تب کوئی نہ کوئی موسیٰ علیہ السلام بھیجا ہے۔عالم اسلام کی بات کریں تو یہ ہمیشہ جبر کی زد میں رہا ہے۔اس دین حقیقی کو ہر وقت کوئی نہ کوئی مشکل پیش آتی رہی ہے۔لیکن اللہ کریم کی مدد ہر دور میں شامل حال رہی ہے۔ اور ان شا اللہ آئندہ بھی رہے گی۔لیکن ہم میں سے ہر کسی کو اپنا تزکیہ نفس کرنا ہو گا۔ ہر کسی کو اپنی عادات پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔

اس وقت اسرائیل نے ظلم و جبر کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔مسلمانانِ فلسطین صدیوں سے ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔اور یہودی ظلم کے پہاڑ توڑتے آئے ہیں لیکن اب جنگ لازم ہو چکی ہے۔یہودیوں کا نام و نشان مٹانے کا وقت آچکا ہے تمام مسلم ممالک کو مل کر ان سے جنگ کرنی ہو گی۔یہ بہت ضروری ہو چکی ہے،لیکن کیو ں نہ ہو کہ ایک جنگ اسرائیل کی جنگ سے پہلے خودسے لڑلی جائے۔اگر ہم خود سے بھڑ گئے۔اپنی ذات سے جنگ لڑ گئے تو یقین کرلیں پھر ہماری مدد کے لیے فرشتے بھی آئیں گے۔اگر ہم آج سے اپنے خلاف اعلان جنگ کر دیں تو ہمیں تھوڑا وقت مل جائے گا جب تک ہم اپنے خلاف جنگ جتیں گے تب تک ہم اس قوت کے حامل ہو چکے ہو ں گے کہ ہم یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔

آج کل یہودیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی ایک بھر پور مہم چل رہی ہے۔ میں بھی اس کا بہت بڑا حامی ہوں۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ اسرائیل سمیت تمام کفار دنیا کی مصنوعات  استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ ہم غیر ملکی دودھ کا بائیکاٹ کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن کھاد اور سرف سے بنے مقامی مصنوعی دودھ سے بچے بیمار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں کوکا کولا اور پیپسی کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔بالکل درست لیکن اپنے کو لڈ ڈرنکس پیتے ہیں تو زہر کا گمان ہوتا ہے۔LU کے بسکٹ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، لیکن کیا کریں اپنے بسکٹ گندے انڈوں سے تیار کئے جاتے ہیں۔ شیمپو استعمال کرلیں تو گنجے ہوجاتے ہیں۔ لپٹن چھوڑتے ہیں تو بورے والی چائے پینی پڑتی ہے۔ٹوٹل کی بجائے کہیں اور سے پٹرول ڈلواتے ہیں تو گاڑی کا انجن کھل جاتا ہے۔فیس بک، گوگل، واٹس ایپ،انسٹاگرام چھوڑتے ہیں تو رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں رہتا۔ مائیکرو سوفٹ چھوڑتے ہیں تو لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ جائیں تو کہاں جائیں۔

چلیں اعلان جنگ کرتے ہیں اپنی ذات میں چھپے چوروں،بھیڑیوں، ڈاکوؤں، فراڈیوں،مکاروں،دھوکہ بازوں، جعل سازوں کے خلاف۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم یہ جنگ جیت گئے تو ہم یہودیوں کو بھی چاروں شانے چت کر دیں گے۔ہمیں اپنے خلاف لڑنا ہو گا کیونکہ اب جنگ لازم ہو چکی ہے۔اور ہم ان شا اللہ یہ جنگ جیت جائیں گے اور ہماری آنے والی نسلیں پاکستانی مصنوعات استعمال بھی کریں گی اور ان پر فخر بھی کریں گی۔جنگ تو لڑنی پڑتی ہے جنگ جب لازم ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -