مزاحمتی ادب اور ”تیز ہوا کا شہر“

مزاحمتی ادب اور ”تیز ہوا کا شہر“
مزاحمتی ادب اور ”تیز ہوا کا شہر“

  

 اد ب کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی پرانی بنی نوع انسان کی تاریخ ہے۔بالفاظ دیگر انسان اورادب کاچولی دامن کا ساتھ ہے۔ادب میں مزاحمت کاسراغ پانے کے لئے کلاسیکی اصناف سخن پر تحقیق کرنے والے محققین کا اس نکتہ پر اتفاق ہے کہ ابتدائے آفرینش سے ہی یہ اہلِ سخن کا محبوب موضوع رہا ہے۔ زہر کا پیالہ پینے والے ارسطوکو عقل وخردکا امام مانا جاتا ہے، اس کے خیالات ونگارشات بلا شبہ ادب میں داخل ہیں اوربلاخوف ِ تردیدہم انہیں مزاحمتی ادب میں شامل کر سکتے ہیں۔ جدید دورکی بات کریں تومزاحمتی ادب میں ہمیں تنوع نظرآتاہے۔متنوع مزاحمتی عناصرکی بنیاد جغرافیائی بھی ہے اور لسانی و ثقافتی بھی۔لاطینی امریکہ میں ہمیں پابلونرودا، گبریل  گارسیا مارکیز، فریدا کاہلو، ڈیگور اویرا اورگبریلا مسترال نظر آتے ہیں تو یورپ میں یکسر مختلف منظرنامہ نظر آتا ہے۔ انگریزی ادب میں ایک بات ہے تو فرانسیسی ادب میں دوسری،ہسپانوی،اطالوی اور پرتگیزی زبان میں مزاحمت کے عناصر مختلف ہیں اور روس میں یہ بالکل الگ ہیں، جہاں 1917ء کے بالشویک انقلاب نے مزاحمتی ادب سے ہی نمو پائی۔برصغیر پاک و ہند میں مزاحمتی ادب کامنہج ترقی پسند تحریک رہی اوراس سے منسلک انجمن ترقی پسند مصنفین نے ہی مزاحمتی ادب اوراس کے عناصرکے معیارات طے کئے۔

بائیں بازوکے مصنفین کی اپنی تصانیف اس بابت معتبر مانی جاتی ہیں،اس کے علاوہ عالمی سطح پرمزاحمتی ادب کواس تحریک سے متاثرلو گوں نے اردو اور مقامی زبانوں میں ترجمہ اورشائع کروایا۔ اب ہمارے پاس مزاحمتی ادب کے عناصر جانچنے کے لئے ایک تو مقامی اہلِ قلم کی نگارشات ہیں اور دوسرامذکورہ تراجم۔ مزاحمت اوراس کے عناصرکا خیال میرے ذہن میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب  پڑھ کرآیا ہے۔ اس میں شامل افسانے مزاحمتی ادب کی ایک تازہ اور خوبصورت مثال ہیں۔

معروف شاعرہ،ادیبہ و دانشور نیلما ناہید درانی کی تازہ کتاب ”تیز ہوا کا شہر“ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔اس دلچسپ اور منفردکتاب کے تین حصے ہیں، پہلا سفر نامہ جو آذربائیجان کے متعلق ہے، جبکہ دوسر احصہ مضامین پرمشتمل ہے اور تیسرے  حصے میں افسانے شائع کئے گئے ہیں۔اس کتاب کے یہ تینوں حصے ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ اورمعیاری تخلیقات کے حامل ہیں۔

128صفحات پرمشتمل اس کتاب کو ادارہ زربفت پبلی کیشنزلاہورنے شائع کیا ہے۔ خوبصورت سرورق پر آذر بائیجان کے شہرباکوکی تصویرنظرآتی ہے اور پس سرورق سابق پولیس آئی جی ناصر خان  درانی نے اظہارخیال کیا ہے جو نیلما ناہید درانی کے فن اور شخصیت کے متعلق ہے۔ یادرہے کہ نیلما خودبھی پولیس میں اعلیٰ افسر رہی ہیں۔لاہور میں ایس پی سپیشل برانچ کے علاوہ پولیس ٹریننگ سکول کی مدارالمہام بھی رہی ہیں۔افریقہ اوریورپ میں اقوام متحدہ کی امن فورس میں پاکستان کی کئی برس تک نمائندگی کرتی رہی ہیں۔کتاب کا دیباچہ طاہر انور پاشا نے لکھاہے جو سابق آئی جی ہونے کے علاوہ بہت اعلیٰ سفرنامہ نگارہیں اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان کے علاوہ سلمیٰ اعوان کی معتبررائے بھی شامل اشاعت ہے۔ اعلیٰ کاغذپر معیاری طباعت اور قیمت تین صد روپے ہے، جو بے حد مناسب ہے۔

کتاب کا انتساب سال2020ء اور COVID-19کے نام کیا گیا ہے، جس نے تمام دنیا کو گھروں میں قیدکردیا۔ انتساب دوم تاشقندازبکستان میں رہنے والی خاتون شہزودہ شہریاررونااورمصنفہ کی جماعت ششم سے تاحال سہیلی صوفیہ تبسم جو کہ اب صوفیہ امجد میر کہلاتی ہیں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔سفرنامہ باکو آذر بائیجان کو دس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ سیاحت اور ادب کا حسین امتزاج ہے۔اس کو پڑھ کرنہ صرف اس ملک کی تاریخ اورثقافت سے آگاہی ملتی ہے۔بلکہ عمومی سماجی رویوں پر بھی مفصل اور غیرمتعصب معلومات حاصل ہوتی ہیں۔مضامین کے حصے میں کچھ شخصیات کے خاکے ہیں جن میں محسن نقوی،طارق عزیز، فضل محمود،عمران خان، مشیر کاظمی، صبیحہ خانم، صدیقہ بیگم شامل ہیں۔آقای صادق گنجی کے متعلق ایک مضمون کے علاوہ مزاحیہ اداکاری کے بے تاج بادشاہ کے نام سے امان اللہ پرایک تحریر اور مولاناآغانعمت اللہ جان درانی پربھی ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔آخری حصے میں چھے افسانے اوراداکارعرفان خان مرحوم کے لئے ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ آخرمیں قاہرہ یونیورسٹی مصر کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم کا تیز ہو ا کاشہراور نیلما کی شخصیت پر تبصرہ و تجزیہ شائع ہوا ہے۔نیلما ناہیددرانی ان دنوں لندن میں مقیم ہیں مگراس تازہ تحریرنے ان کی عدم موجودگی کے احساس کو ادبی حلقوں میں کافی حد تک کم ضرورکیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -