لالی پاپ دینے کا وقت 

لالی پاپ دینے کا وقت 
لالی پاپ دینے کا وقت 

  

کتنا مزہ آرہا ہے، وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیر، مشیر اور معاونین خصوصی کی فوج ظفر موج آج کل روزانہ کی بنیاد پر قوم کو " خوشخبریاں " سنا رہے ہیں۔ خوشخبریاں کیا ہیں، حکومت کی مجبوری ہے کہ تین سال کی ناکام صفر بٹا صفر حکومت کے بعد قوم کو لالی پاپ دے کر کام چلائے۔ لہو کو گرم رکھنے کا یہی آخری حربہ باقی رہ گیا ہے۔ دیکھتے ہیں کب تک لالی پاپوں سے کام چلانا ممکن ہو سکے گا۔ عوام کو روٹی اور روزگار  چاہیے۔ ظاہر ہے کچھ ہفتوں یا مہینوں میں جب لالی پاپ بھی کارگر نہیں رہیں گے تو بہت مسائل ہوں گے۔ بات کسی بھی خرابی کی طرف جا سکتی ہے۔ 

وزیر خزانہ شوکت ترین پہلے تو کچھ ہفتے اپنی ہی حکومت کے پہلے ڈھائی سال کی کارکردگی پر تنقید کرتے رہے لیکن اب آہستہ آہستہ انہیں بھی سمجھا دیا گیا ہے کہ یہ وقت اچھی اچھی خبریں سنانے کا ہے، اس لیے وہ بھی اب  ان میں  شامل ہوگئے ہیں۔ میں دو تین ہفتوں سے لکھ رہا تھا کہ ڈھائی پونے تین سال کی کارکردگی کو چھپانے کے لیے عمران خان حکومت نے پینترا بدل لیا ہے کیونکہ تین سال کے بعد ناکامیوں کو پچھلی حکومت کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ میری اس بات کی تصدیق اب وزیراعظم عمران خان نے خود اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ شدہ ملتان سے لودھراں کی سڑک کے افتتاح کے موقع پر کردی ہے۔ یہ وہی عمران خان ہیں جو سالوں سے کہہ رہے تھے کہ قومیں سڑکیں بنانے سے نہیں بلکہ اداروں کو مظبوط کرنے سے بنتی ہیں۔ اب اداروں کی مظبوطی کے لیے تو وہ کچھ کر نہیں پارہے اس لیے سڑکوں کے افتتاح کر رہے ہیں۔  

ملتان سے لودھراں سڑک کا افتتاح وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان سے پہلے بے روزگاری تھی لیکن اب خوشخبریاں دینے کا وقت آ گیا ہے۔ انہیں یہ بات معلوم ہی نہیں کہ ان کے اقتدار کے ڈھائی سال میں پچاس لاکھ  لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ان کے مشیر بھی شائد انہیں یہی بتاتے ہیں کہ بیروزگاری ان کی حکومت سے پہلے پائی جاتی تھی اور اب لوگوں کو روزگا ملنا شروع ہوگیا ہے۔  نہ وزیراعظم اور نہ ہی ان کا کوئی مشیر ان ایک کروڑ نوکریوں کا ذکر کرتا ہے جو پی ٹی آئی نے لوگوں کو دینی تھی۔ 

لالی پاپ وہ تاثر ہے جو حکومت دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے بیروزگاری ختم کر دی ہے اور اب چاروں طرف نوکریاں ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ روزانہ  نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھرتے، جوتے گھساتے اور والدین کی آنکھوں میں بجھتے ہوئے امیدوں کے چراغوں والے نوجوانوں سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ نوکریوں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ ہاں، نوکریاں اگر ملی ہیں تو وزیراعظم کے اپنے قریبی دوستوں، مشیروں، معاون خصوصی یا کسی ادارے کے سربراہ لگانے کی ملی ہیں۔ عام پاکستانیوں کے لیے نوکری ایک  خواب  اور میرٹ ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گیا ہے۔  مجھے یہ سوچ کر ہول اٹھتا ہے کہ جب یہ نوجوان مایوس ہوجائیں گے تو نہ جانے کیا کچھ کر گذریں۔

سڑک کے اسی افتتاح کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پہلے IMFکا دباؤ  تھا لیکن اب ترقی اور دولت بڑھانے کا وقت آگیا ہے۔ ان کی اس بات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ IMFجو ہر وقت ٹیکسوں میں اضافے اور بجلی، گیس  اور پٹرول وغیرہ کی قیمتیں بڑھانے کے لیے دبا ڈالتا رہتا ہے اب اس نے دبا ڈالنا بند کر دیا ہے اور اب حکومت کو ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے کہ وہ آئے دن بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھائے یا نئے ٹیکس لگائے۔

 پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں  اور مہنگائی تھمنے کی بجائے خود سر گھوڑے کی طرح سر پٹ دوڑے جا رہی ہے۔ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو مارنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خط غربت اس وقت زیادہ اہم تھا جب زیادہ لوگ اس کے اوپر تھے، اب تو آبادی کے غالب حصے کی اس خط کے نیچے گر جانے کی وجہ سے وہ اہمیت بھی باقی نہیں رہی۔ 

IMF سے ملنے والی ہر قسط سے پہلے ان کا وفد وائسرائے بن کر اسلام آباد میں بیٹھ جاتا ہے اور اپنی شرائط منوانے کے بعد قرضے کی قسط جاری کرتا ہے۔ بہر حال چند دنوں میں اگلے مالی سال کے بجٹ کا اعلان ہو جائے گا اور اس میں عیاں ہو جائے گا کہ حکومت پر IMF کا دبا ؤہے یا نہیں اور اگر ہے تو کتنا ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے اسی افتتاح کے موقع پر ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی  وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو NRO نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔ 

قوم ان سے یہ سوال کرتی ہے کہ اگر یہ بات درست ہے اور وہ واقعی اپنے مقاصد میں سنجیدہ ہیں تو گندم، آٹا، ادویات، تیل، گیس،پٹرول  اور ایل این جی کے سینکڑوں ارب کے سکینڈلوں کا کیا ہوا، ان کے ذمہ داروں کا تعین اور سزائیں کیوں نہیں ہوئیں اور ان کرداروں میں کئی لوگ اب تک ان کی کابینہ کا حصہ کیوں ہیں۔ آئے دن سکینڈل  سامنے آتے رہتے ہیں  اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی  دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔ 

وزیراعظم عمران خان نے 1960 کی دہائی کے سبز انقلاب لانے کی بات بھی کی ہے۔ اس سال پاکستان کی اہم ترین فصلوں میں سے ایک کپاس کی پیداوار اپنی ضرورت کے  نصف سے بھی کم ہوئی ہے۔ پاکستان کو سالانہ 12 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس سال ساڑھے پانچ ملین گانٹھوں کی پیداوار ہوئی ہے اور چھ ملین سے زیادہ درآمد کرنا پڑیں گی۔ ملک میں پانی کا شدید بحران ہے اور صوبے نہری پانی کے تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ زرعی Inputs جیسے کھاد، ادویات، ٹریکٹر، زرعی مشینری، بجلی اور بہت سی چیزوں کی قیمتوں میں دوگنا سے تین گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ بجلی بلوں کی ادائیگی کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے ٹیوب ویلوں کے کنکشن کاٹے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں سبز انقلاب کی بات زمینی حقائق سے  لا علمی ہے۔

 تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو معیشت کی ابجد بھی معلوم نہیں  اور انہیں نرغے میں لیے مشیر جو  بتاتے ہیں وہ من و عن مان لیتے ہیں۔ انہیں کوئی یہ نہیں بتاتا کہ پچھلے ڈھائی سال میں گردشی قرضہ میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس دوران حکومت کے لیے گئے قرضوں میں کتنے ہزار ارب کا اضافہ ہو چکا ہے اور ٹیکسوں کی وصولی کے اصل اعدادوشمار کیا ہیں۔ میرے خیال میں معیشت کی صورت حال پر قومی ڈائلاگ ہونا چاہیے جس میں حکومتی اعدادوشمار اور دعووں پر حقیقی بحث ہونی چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا  عوام یہی سمجھے کہ یہ لالی پاپ کھانے کا وقت ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -