کاشتکار کا دکھ 

  کاشتکار کا دکھ 
  کاشتکار کا دکھ 

  

ایک طویل عرصے بعد پنجاب کے کاشتکار نے سکھ اور اطمینان کا سانس لیا تھا،اسے گندم اور گنے کی فروخت میں آسانیاں اور اپنی اجناس کا بہتر معاوضہ  ملنا شروع ہو گیا تھا،مگر  یہ گندم اور گنا  مافیا کو  کیسے ہضم ہو سکتا تھا؟ اور یوں  خاموشی سے  گنے کے کاشتکاروں  کے ان حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی جو  سیکرٹری فوڈ شہر یار سلطان اور کین کمشنر پنجاب زمان وٹو نے بڑی جدوجہد کے بعد   کاشتکاروں  کو  دیے تھے۔محکمہ خوراک کی طرف سے شوگر ملز کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کا  منصوبہ منظوری سے قبل ہی  چوری  کر لیا گیا  اور اس کی بجائے مافیا نے شوگر ملز کے حق میں مسودہ قانون میں ترامیم اور تبدیلی کرکے  اسمبلی  سیکرٹریٹ میں رکھوادیا،کہا جا رہا ہے کہ یہ سازش  ایک با اثر سیاستدان  کے گھر  تیار کی گئی جس میں شوگر ملز مالکان کی اکثریت نے شرکت کی۔سوال یہ ہے جس ملک میں حکومت اتنی کمزور اور مافیاز اس قدر  دلیر ہوں وہاں کسی مثبت تبدیلی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟  آپ وزیر اعظم عمران خان  سے لاکھ اختلاف کریں  مگر جہاں ان کو کرپشن اور عوام کے ساتھ زیادتی  محسوس ہو وہاں وہ ڈٹ جاتے ہیں  اور صد شکر کہ اس معاملے میں بھی پتہ چلنے پرانہوں نے  فوری ایکشن لیا،معاملہ ابھی حل نہیں ہوا  مگر اس پر پیش رفت  شروع  ہو چکی  ہے۔

اس چوری کی   تفصیل کچھ یوں ہے کہ   گنے کے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے پنجاب حکومت نے  دو  آرڈیننس  نافذ کئے،تین ماہ کی پہلی میعاد ختم ہونے سے پہلے پنجاب اسمبلی نے ان دونوں آرڈیننسوں میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی، آرڈیننس کی معیادختم ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نمبر 12 نے اسمبلی میں پہلے سے  موجود بلوں پر غور شروع کر دیا  اور  آخری تاریخ اپریل 2021  کے شروع میں کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ کچھ جرائم کو قابل ضمانت قرار دیا جانا چاہئے اور محکمہ خوراک سے اس سلسلے میں تجاویز پیش کرنے کو کہا تو  محکمہ نے اگلی تاریخ پر   پیش کرنے کا کہا،  مگر اس  سے پہلے  ہی 4 مئی 2021  کو پنجاب اسمبلی نے خاموشی سے بل  منظور کر لیا اور اس میں  وہ سارے اقدامات  ختم کر دئیے  جن کی وجہ سے کاشتکار  کو ریلیف ملنا  شروع ہوا تھا ۔  حیرت کی بات ہے کہ  گنے کی کرشنگ سیزن کے آغاز کی تاریخ کا اختیارپنجاب حکومت کی بجائے   شوگر   ملوں کو  دے دیا گیا کہ وہ یکم اکتوبر اور 30 نومبر کے درمیان کسی بھی وقت کرشنگ شروع کر سکتی  ہیں۔اس  اختیار  سے  کسان کا نقصان ہوتا ہے اور  مل  والوں  کا فائدہ،وہ  تاخیر  سے کرشنگ کا آغاذ  کرتے ہیں  جس کی وجہ سے  کاشتکاروں کو گندم کی فصل کی بوائی میں مشکلات کا سامنا رہتا  ہے  الغرض نئے  قانون میں کاشتکاروں کے مفاد میں شامل تمام شقوں کو ملز مالکان کے حق میں تبدیل کر دیا گیا۔

    ہوتا یہ تھا کہ کرشنگ سیزن  دیر سے شروع ہونے کی وجہ سے کسان گنے کے جال میں پھنسے رہتے تھے اور یوں  گندم کی فصل پرتوجہ نہ دے سکتے، جس کے نتیجے میں گندم کا بحران پیدا ہوتا  ۔  محکمہ  خوراک  نے  بنک کھاتوں کے ذریعے کسانوں کے واجبات کی ادائیگی لازمی قرار دی  تھی مگر اسمبلی میں خفیہ طریقے سے پاس بل میں  یہ شق ختم کردی گئی، شوگر ملوں کو  نقد ادائیگی کی آزادی   دے دی گئی،جس کے بعدملوں کی طرف سے کاشتکاروں کو واجبات سے کٹوتیوں  کی وسیع پیمانے پر شکایات  پیدا ہوتی ہیں اسی طرح  ادائیگی میں تاخیر کرکے 15 فیصد سے زیادہ کٹوتیوں پر راضی ہونے پر مجبور کرتی ہیں، محکمہ خوراک کے  آرڈیننس میں  اس استحصال کا دروازہ بند کردیا گیا تھا جسے 17 مئی 2021 کی ترمیم نے دوبارہ کھول دیا۔ اور یوں کسانوں کو شوگر ملوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا،ملوں کو تنازعہ کی صورت میں ادائیگیاں روکنے کا اختیار مل گیا، اس سے کسانوں کو ان کے جائز دعووں سے بھی محروم کردیا جائے گا، 1950  سے، شوگر فیکٹریاں گنے کی فراہمی کے پندرہ دن کے اندر اندر کسانوں کے واجبات ادا کرنے کی پابند تھیں، تاہم 17 مئی 2021  کو   کی گئی ترمیم نے شوگر ملوں کو 30 جون تک ادائیگی نہ کرنے کا اختیار دیدیا،نومبر کے مہینے میں گنے کی فراہمی اور ادائیگی نہ ہونے سے کاشتکار 8ماہ تک اپنے واجبات  ہی نہیں  لے  سکیں گے،

بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگی کی شرط کو ختم کرکے   بر وقت ادائیگی نہ کرنے  سے کاشتکاروں کو مل مالکان کے گھٹنوں میں ڈال دے گا جو اگلی فصل وقت پر بو سکیں گے نہ اچھی پیداوار حاصل کر سکیں گے، ان کے پیداواری اخراجا ت  بھی پورے نہ ہو سکیں گے، وہ آڑھتی،مڈل مین یا ملز کے عملے کو اصل کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پرفصل فروخت کرنے پر مجبور  ہوں گے،ماضی میں ایسے حربوں سے 25 فیصد تک کٹوتی کی جاتی رہی،

پرانے وقت سے لاگو قانون کو شوگر ملوں کے فائدے میں تبدیل کرکے آرڈیننس کے ذریعے دفعہ 21 میں ترمیم کی گئی اور جرائم کوناقابل شناخت اور ناقابل ضمانت بنایا گیا، تاہم خفیہ ترمیم نے ان جرائم کوقابل ضمانت قرار دے دیا۔۔اس طرح درمیانی رابطے کے ذریعہ گنے کی غیر قانونی خریداری، ایک یا دوسرے بہانے پر گنے کے وزن  کے ذریعہ بھاری کٹوتی، قیمتوں میں کمی وغیرہ سمیت ملوں کی زیادتیوں پر قابو پانے کا کوئی موثر ذریعہ نہیں ہوگا، کسان حتمی شکار ہوں گے، ریگولیٹری نظام کی کمی سے استحصالی مارکیٹ قوتوں کو تقویت ملے گی، اس کی وجہ سے گنے کی کاشت میں کچھ سالوں میں کمی سے قلت پیدا ہوجائے گی اور دوسری فصلوں کی پیداوار م بھی  متاثر ہوگی، آئندہ کچھ سالوں میں چینی درآمد کرنا پڑے گی اور کاشتکاروں کا  استحصال دوگنا ہو جائے گا۔

منظور ہونے والا وہ مسودہ قانون نہیں تھا جو حکومت نے  پیش کیا تھا،سیکرٹریٹ میں  اس کے مندرجات کو  خفیہ  طور  پر  تبدیل کیا گیا کہ ہم نے تجاویز کا جائزہ لیا اور اس کو منظور کیا ہے، افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے خفیہ طور پر دلچسپی لی تھی اور غیر قانونی طور پر اس مسودے کو تبدیل کیا  اور اسے مافیا فرینڈلی اور کسان دشمن بنا دیا گیا۔

اس عمل سے کاشت کاروں میں بدامنی پھیل چکی ہے  کیونکہ  خفیہ  طور پر پاس  ہونے والا  یہ  ایکٹ    گزشتہ اکتوبر میں جاری آرڈیننس کے  خلاف تھا جس نے حکومت کو کرشنگ سیزن کے آغاز کی تاریخ طے کرنے کی طاقت دی تھی، ملرز کو گنے کی خریداری سے15 دن کے اندر کاشتکاروں کوباقاعدہ بینکاری کے ذریعے واجبات ادا کرنے کا پابند کیا تھا، کاشتکاروں کو بچانے کے لئے دوسرے حفاظتی اقدامات کے علاوہ کم تنخواہوں اور غیرقانونی کٹوتیوں کے عمل کو جانچنا بھی شامل تھا،دلچسپ بات یہ کہ پارلیمنٹ کے قواعد سے انحراف کرتے ہوئے بل کی کاپیاں اراکین کو نہیں دی گئیں مگر ترمیم کرنے والوں کے ہاتھ لگ گئیں۔

مزید :

رائے -کالم -