تبدیلی سرکار!پنشنروں کو  تو بخش دیں 

تبدیلی سرکار!پنشنروں کو  تو بخش دیں 
تبدیلی سرکار!پنشنروں کو  تو بخش دیں 

  

ملک کے لاکھوں پنشنرز پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والی حکومت اپنے تیسرے بجٹ میں پنشنرز کی آمدنی پر بھی ساڑھے سات فیصد ٹیکس لگانے جا رہی ہے، خبر ہے اس ٹیکس کی فرمائش بھی آئی ایم ایف نے کی،جسے حکومت بے چون و چرا ماننے پر آمادہ نظر آتی ہے۔یہ وہی آئی ایم ایف ہے،جو یورپ اور امریکہ میں ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد کو گھر بیٹھے وظیفے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ امریکہ اور کینیڈا میں بارہ سو ڈالر وظیفہ ملتا ہے اور یہ وظیفہ لینے والوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے۔یہاں آئی ایم ایف کی اس پر بھی نظر ہے کہ ساری زندگی قوم کی خدمت کرنے والے بڑھاپے میں پنشن کے حق دار کیوں ہو جاتے ہیں، انہیں ریٹائر کر کے اپنے حال پر کیوں چھوڑ نہیں دیا جاتا،پچھلے کچھ عرصے سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنشن کی مد میں اٹھنے والے اخراجات کو بنیاد  بنا کے کوئی راستہ تلاش کر رہی ہیں کہ پنشن کا ٹنٹا ہی نکال دیا جائے۔ سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ پرایک خاص رقم دے کرگھر بھیج دیا جائے،وہ جانیں اور اُن کے حالات جانیں۔وہ کام جو  ستر برسوں میں کسی حکومت نے نہیں کئے، وہ یہ حکومت کرنے جا رہی ہے۔اس سے پہلے قومی بچت میں پنشنرز اور ساٹھ برس سے زائد عمر کے بہبود اکاؤنٹ کے منافع پر بھی ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تیاری کی جا چکی ہے۔یہ تو قومی بچت کا محکمہ ہے، جس نے حکومت کو اس ٹیکس گردی سے روک رکھا ہے کہ اس طرح قومی بچت سکیموں سے اربوں روپے کا سرمایہ نکل جائے گا۔ وگرنہ یہ چھری بھی کسی وقت چلی کہ چلی۔

جو شخص ساٹھ سال کے بعد کسی پنشن کا حق دار ہوتا ہے۔اُس کی واحد آمدنی یہی ہوتی ہے،بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی ملازمت کرتے ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ تو ہوتا ہے تاہم اُس کی آمدن سکڑ جاتی ہے، اپنی اس محدود آمدنی میں اُسے گزارہ کرنا ہوتا ہے۔بہبود کے نقطہ نظر سے ہمیشہ حکومتوں نے پنشنوں کو ٹیکس سے محفوظ رکھا تاکہ پنشنروں کی زندگی کا سلسلہ چلتا رہے۔ سخت سے سخت بجٹ میں بھی یہ نہیں سوچا گیا کہ پنشنروں کی آمدنی پر شب خون مارا جائے۔ ویسے بھی فلاحی ریاست کا تصور یہی ہے کہ جو لوگ عمر رسیدہ ہو چکے ہیں ان کی زندگی کا پہیہ چلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔دُنیا بھر میں سینئر سٹیزن کی اصطلاح اس لئے استعمال کی جاتی ہے کہ انہیں زیادہ سہولتیں دی جائیں۔یہ پہلی حکومت ہے، جس نے پچھلے بجٹ میں نہ صرف تنخواہوں میں ایک پیسے کا اضافہ نہیں کیا،بلکہ پنشنوں میں بھی اضافے کی روایت ختم کر دی،ذرا سوچئے کہ اتنی زیادہ مہنگائی اور پنشنروں کی محدود آمدنی، اُن پر گذرے برسوں میں کیا گزری ہو گی۔ اب بھی سرکاری ملازمین کے احتجاج پر جو 25فیصد اضافہ دیا گیا ہے، اس میں پنشنروں کو شامل نہیں کیا گیا۔ وہ آج بھی دو سال پہلے والی پنشن میں گزارہ کر رہے ہیں،گزارا کیا کر رہے ہیں بمشکل زندگی کی گاڑی کو گھسیٹ رہے ہیں، تبدیلی سرکار نے خواب تو بہت اونچے دکھائے تھے، مگر اُن کی تعبیر اتنی بھیانک نکل رہی ہے کہ کسی نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔

وفاقی حکومت کو دیکھا دیکھی سندھ حکومت بھی پنشن کو ختم کرنے کے در پے ہو گئی ہے۔ مراد علی شاہ کو فکر یہ ہے کہ پنشن اسی طرح برقرار رہی تو پنشن کا  بل تنخواہوں کے بل سے بڑھ جائے گا۔ ارے بھائی اپنے الللے تللے ختم کرو، ہر سال نئی گاڑیاں خریدنا بند کرو، ذاتی اخراجات کے بل میں کمی لاؤ، سو دوسرے طریقے ہیں، جن سے بچت کی جا سکتی ہے کیا صرف پنشنرز ہی بچے ہیں جن پر ظلم ڈھایا جا سکتا ہے۔ سرکاری ملازمین ہوتے ہی کتنے ہیں،  اگر حکومت اُنہیں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزارنے کے لئے پنشن نہیں دے سکتی تو پھر وہ فلاحی حکومت کے نعرے کیوں لگاتی ہے۔ سرکاری ملازم تو پھر بھی 25 سال سے زائد کی سروس پر پنشن لیتا ہے، یہاں وزیر و مشیر اور ارکان اسمبلی چند سال کے بعد عمر بھر کے الاؤنسز اور مراعات کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ تنخواہوں میں سرکاری ملازمین کے لئے اضافہ کرتے ہوئے سوبار ہاتھ کانپتے ہیں، مگر اپنے الاؤنسوں اور اعزازیئے میں اضافہ کرنا ہو تو چند منٹ نہیں لگتے اس وقت حکومت اور اپوزیشن کی تفریق بھی ختم ہو جاتی ہے اس وقت بھی سرکاری ملازمین کو جو پنشن مل رہی ہے وہ اتنی کم ہے کہ اس میں گزارا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے پنشن میں تمام الاؤنسز ختم ہو جاتے ہیں، صرف بنیادی تنخواہ کے مطابق پنشن ملتی ہے۔ اس پنشن پر بھی اگر ساڑھے 7 فیصد ٹیکس لگ جاتا ہے تو گویا آمدنی پہلے سے کم ہو جائے گی، جبکہ مہنگائی پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یہ مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہے۔ بالفرض اگر حکومت آنے والے بجٹ میں دس فیصد پنشن بڑھاتی ہے تو اس میں سے اگر ساڑھے سات فیصد ٹیکس کی مد میں نکل گئے تو عملاً اضافہ اڑھائی فیصد کا ہو گا۔ مراد یہ کہ کسی کی پانچ سو روپے پنشن بڑھے گی اور کسی کی ایک ہزار، کیا یہی ہے وہ فلاحی بجٹ، جس کا آج کل بہت ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ جس تیزی سے مہنگائی بڑھی ہے اسی تناسب سے پنشن میں زیادہ اضافہ کیا جائے۔ مثلاً اس وقت پنشنرز ایسوسی ایشن پاکستان پنشن میں سو فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ زندگی گزارنے کے لئے پنشنروں کو وسائل میسر آ سکیں عام آدمی شاید سمجھتا ہے کہ جس طرح ریٹائرڈ ججوں یا جرنیلوں کی پنشن یا پھر بڑے ریٹائرڈ بیورو کریٹس کی پنشن سے آمدنی لاکھوں میں ہوتی ہے، اسی طرح ہر ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو پنشن اتنی ہی ملتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 90 فیصد ملازمین کی پنشن چند ہزار روپے سے اوپر نہیں جاتی۔ پھر ایسا بھی ہے کہ اکثر ملازمین فوت ہو چکے ہیں اور ان کی بیوائیں وہ پنشن وصول کرتی ہیں، جن کا اس کے سوا اور کوئی وسیلہ نہیں ہوتا، کیا حکومت چاہتی ہے کہ بیواؤں سے بھی ٹیکس وصول کرے، کیا مدینے کی ریاست کا یہ روپ بھی عوام کو دیکھنا پڑے گا۔ آئی  ایم ایف کی غلامی اپنی جگہ، مگر ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ اس کے دباؤ پر وہ کام بھی کیا جائے جو اخلاقی اعتبار سے بھی معیوب ہو۔ اپوزیشن سے بھی گزارش ہے کہ وہ اِس پہلو پر خاص نظر رکھے اگر حکومت بجٹ میں کوئی ایسی تجویز رکھتی ہے تو اس کے خلاف آواز بلند کرے، اسے شدید تنقید کا نشانہ بنائے۔ لاکھوں پنشنرز کو بے آسرا نہ چھوڑا جائے،بلکہ آواز اٹھائی جائے کہ پنشنوں میں تنخواہوں سے زیادہ اضافہ کیا جائے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے وگرنہ معاشرے کا بزرگ طبقہ سڑکوں پر امداد مانگتا نظر آئے گا۔ ساٹھ سال کے بعد انسان کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں آمدنی گھٹ جاتی ہے، علاج معالجے کے اخراجات ہی اتنے ہوتے ہیں کہ بمشکل پورے ہو سکتے ہیں، سنا ہے ساڑھے سات فیصد ٹیکس لگانے سے حکومت کو 16 ارب روپے کی بچت ہو گی، یعنی یہ سولہ ارب روپے پنشنروں کی اس محدود آمدن پر شب خون مار کر حاصل کئے جائیں گے،جس سے ان کا چولہا جلتا ہے، کیا آٹھ ہزار ارب کے بجٹ میں سولہ ارب بچانے کا اور کوئی راستہ نہیں کہ نزلہ پنشنرز پر گرایا جا رہا ہے۔ تبدیلی سرکار ایسا ستم ڈھانے سے پہلے ایک بار پھر سوچ لے ایسے فیصلے ظالمانہ قرار پاتے ہیں اور ظالمانہ فیصلے کرنے والی حکومتیں بالآخر ناکام ہو جاتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -