پنجاب پولیس میں بہتری کی جانب اقدامات

  پنجاب پولیس میں بہتری کی جانب اقدامات
  پنجاب پولیس میں بہتری کی جانب اقدامات

  

  پولیس کے رویوں کی بات کی جائے تو عوام کے ذہن میں فوراً منفی تاثر ابھرتا ہے، کسی سے بھی پولیس کے بارے میں بات کریں فوراً اس کی زبان پر پولیس والوں کے کرپٹ ہونے کے الفاظ رواں ہو جاتے ہیں، غرضیکہ ہر کوئی پولیس پر تنقید کرتا نظر آتا ہے اور پولیس کے خلاف شکایات کا لامتناہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔ ان شکایات کے برعکس اگر پولیس کے اوقاتِ کار کی طوالت اور ذمہ داریوں کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور کو اس بات کا اداراک ہے کہ پولیس جتنا کام کوئی اور محکمہ نہیں کرتا۔ کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں جس کی آپ کو یا د آئے، وہ آپ کا سچا دوست ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ جب کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، تو مشکل کی اس گھڑی میں وہ پولیس کو ہی اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں،کیونکہ انہیں اِس بات کا بخوبی علم ہے کہ اور کوئی محکمہ پہنچے نہ پہنچے، پولیس ضرور میری مدد کو آئے گی۔پولیس اہلکار اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر، ہرطرح کے حالات میں مدد کو پہنچتے ہیں۔ پولیس پر میڈیا اور عوام ہمیشہ تنقیدہی کرتے ہیں،لیکن کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جو کام کرتا ہے، غلطی بھی اسی سے ہوتی ہے، چونکہ پولیس سب سے زیادہ کام کرتی ہے، لہٰذا غلطی کا امکان بھی دیگر محکموں سے زیادہ ہے۔کورونا،خوشی، غمی، عید سمیت دیگر تہواروں، تعلیمی اداروں، مارکیٹوں،مذہبی محافل، جلوسوں میں عوام کی حفاظت کے لئے شدید ترین موسم میں بھی طویل ڈیوٹیاں دینے والے پولیس اہلکاروں کا ٹی وی شوز اورسٹیج ڈراموں میں جس طرح مذاق اْڑایا جاتا ہے، کیا یہ ہمیں زیب دیتا ہے؟ اور شکایت پھر بھی پولیس والوں سے کہ وہ ہمیں عزت نہیں دیتے۔بھائی عزت تو کسی کو عزت دے کر ہی ملتی ہے۔ ایسے پروگرام دیکھ کر ان کے گھر والے کیا کہتے ہوں گے کہ جن لوگوں کی حفاظت کے لئے آپ جان بھی دیتے ہیں،وہ آپ کی عزت کرنے کی بجائے تمسخر اْڑاتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی مہذب معاشرے میں کسی سطح پر یونیفارم فورس کا مذاق اڑانے اور انہیں اس طرح ذلیل کرنے کا سوچا بھی جا سکتاہے؟موسم کی شدت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خاص طورپر موسم گرما میں 50 ڈگری درجہ حرارت میں باوردی کانسٹیبل بلٹ پروف جیکٹ اور 30کلو کی گن اْٹھائے جب چھتوں اور سڑکوں پر کھڑے ہو کر فرائض کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں، توکیا معاشرے کے کسی فرد نے کبھی اس اہلکار کے چہرے پر فرض کی ادائیگی کے پیچھے اس کی آنکھوں میں چھپی اس حسرت کو پڑھنے کی کوشش کی ہے کہ آج عید پر اس کے بچے کتنی شدت سے اس کا انتظار کر رہے ہوں گے؟کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ تفریحی مقامات پر جب بچے اپنے والدین کے ہمراہ سیرو تفریح میں مشغول ہوتے ہیں تو کچھ فاصلے ان کی سیکیورٹی کے فرائض ادا کرنے والا کانسٹیبل گھر جا کر اپنے بچوں کو کس طرح بہلاتا ہو گا؟کیا کبھی کسی نے یہ سوچا ہے کہ جن اداروں میں ان کے بچے اچھے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں،اس ادارے کی چھت پر کھڑے اہلکار اپنے بچوں کوان اداروں میں تعلیم دلانے کا سوچ بھی سکتے ہیں۔ تمام تر معاشرتی بے حسی، نفرت، تنقید،تمسخر اورشدید ترین نقطہ چینی کے باوجود پنجاب پولیس فرائض کی ادائیگی میں دن رات مصروف عمل ہے۔ دیگر حکومتی اداروں کی کارکردگی کا پولیس سے موازنہ کیا جائے تو عام آدمی کو بھی اندازہ ہوجائے کہ محکمہ پولیس دیگرمحکموں سے کئی گنا بہتر انداز میں کام کر رہا ہے۔موجودہ آئی جی پنجاب انعام غنی نے عوام کی سہولتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے محکمے میں بہت سے اقدامات کا آغاز کیا ہے، پنجاب بھر میں قبضہ مافیا،بدمعاشوں،منشیات فروشوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے، سنٹرل پولیس آفس لاہور میں موجود تمام شعبوں کو متحرک کر کے پولیس قوانین میں ترمیم پر تیزی سے کام جاری ہے،پولیس کی جتنی بھی ضروریات ہیں ان پر تیزی سے کام جاری ہے اور انگریز کے بعض کالے قوانین جن کی پولیس رولز میں ضرورت نہیں انھیں نکالا جا رہا ہے،پی سی،ایس پی یو،آئی ٹی سمیت دیگر شعبے جنہیں ’فارغ‘ تصور کیا جاتا ہے ان شعبوں میں تیزی لائی گئی ہے۔عوام سے پولیس کے غلط رویئے، ایف آئی آر کا اندراج نہ ہونا، تفتیش میں تاخیر اور کرپشن سے متعلق شکایات کو سسٹم کا حصہ بنایا جارہا ہے بس آپ یہ سمجھ لیں کہ پنجاب پولیس میں تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -