بھارت کی ظالم فوج ہر روز کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہی ہے: سردار مسعود 

بھارت کی ظالم فوج ہر روز کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہی ہے: سردار ...

  

 مظفرآباد(این ین آئی)آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار منصفانہ حل کیلئے جموں وکشمیر کے عوام کو بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا حصہ بنانا ناگزیر ہے اور ہمارے اس مطالبے کو ریاست پاکستان بھی تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کشمیر کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہندوستان اور پاکستان کر لیں اور اُس میں کشمیری شامل نہ ہوں اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی فیصلہ واشنگٹن میں ہو اور کشمیری اس سے بے خبر ہوں یا نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر کوئی بحث و مباحثہ ہو اور اس میں کشمیری شامل نہ ہوں۔پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہے جس کا حل سیاسی اور سفارتی طریقوں سے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے اور اس حل کی تلاش میں کشمیریوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی نو لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں ہر روز کشمیریوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہی ہے، کشمیریوں سے اُن کی زمین چھین رہی ہے اور بھارت سے ہندو شہریوں کو لا کر کشمیریوں کی زمین پر آباد کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک برس میں چالیس لاکھ سے زیادہ غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کیا جا چکا ہے اور اس طرح بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر پر فوجی بلکہ آبادی کی یلغار بھی شروع کر رکھی ہے تاکہ وہ ریاست کی آبادی کا تناسب تبدیل کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کو ہم کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کبھی سرسری انداز میں زکر کرکے اس کے سنگینی کو غیر دانستہ طور پر کم کر دیتے ہیں۔ ہم ریاست پاکستان کے بھی بے حد شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے طے کیا کہ ہندوستان کے ساتھ اُس وقت تک مذاکرات کریں گے اور نہ ہی تجارتی تعلقات قائم کریں گے جب تک ہندوستان مقبوضہ جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بحال نہیں کرتا اور پانچ اگست 2019کے اقدامات کو واپس نہیں لیتا۔ کیونکہ وہ اقدامات بھارت نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، دوطرفہ معاہدوں اور کشمیریوں کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھائے تھے۔ 

سردار سعود 

مزید :

صفحہ آخر -