افغانستان کا وزیراعظم عمران خان کے بیان کا خیر مقدم، زلمے خلیل زاد کا بل پہنچ گئے، امن عمل پر مذاکرات کے نئے دور کا آغاز، طالبان کا 5اہم صوبوں پر قبضے کا دعویٰ

افغانستان کا وزیراعظم عمران خان کے بیان کا خیر مقدم، زلمے خلیل زاد کا بل پہنچ ...

  

  کابل(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) افغانستان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے غیر ملکی افواج کے نکلنے سے پہلے افغانستان میں ایک سیاسی حل کے لئے کوششیں تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کے لئے افغان صدر کے نمائندہ خصوصی عمر داودزی نے اتوار کو کہا کہ افغان عوام کو شدت سے عملی اقدامات اور نتیجہ خیز اقدامات کا انتظار ہے۔ داودزی نے ایک ٹویٹ میں کہا "میں وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے نکلنے سے پہلے وہ ایک سیاسی حل کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرینگے"۔افغان نمائندہ خصوصی نے مزید کہا "وزیر اعظم آپ کا شکریہ" یاد رہے کہ وزیر اعظم نے جمعہ کو ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ تھا کہ پاکستان غیر ملکی افواج کے افغانستان سے نکلنے سے پہلے ایک سیاسی حل کی کوشش کر رہا ہے تاکہ افغانستان کو خانہ جنگی سے بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے نکلنے کے موقع پر طالبان سے مزید نرمی کی توقع کم ہے لیکن پاکستان ایک حل کی کوشش کررہا ہے۔ دریں اثنا ء افغانستان کے لئے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان عمل پر بات چیت کے لئے ایک نئے دورے کا آغاز کیا ہے اور اتوار کو انہوں نے کابل میں افغان رہنماوں سے مذاکرات شروع کئے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے علاوہ قطر اور خطے کے دیگر ممالک کا دورہ کرینگے، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ قطر میں طالبان اور افغان حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقاتوں میں ان پر بین الافغانی مذاکرات میں پیش رفت پر زور دینگے۔ یاد رہے کہ بین الافغانی مذاکرات 9ویں مہینے میں داخل ہوچکے ہیں اور اس وقت تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور جنگ میں شدت بھی آئی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل میں خلیل زاد افغان حکومتی رہنماؤں، سیاسی شخصیات، سول سوسائٹی اور خواتین گروپس کے ساتھ ملاقاتوں میں امن عمل سے متعلق ان کے موقف سنیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیل زاد افغان رہنماؤں کو غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد بھی امریکی امداد اور حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کرینگے۔ خطے کے ممالک کے رہنماوں سے ملاقاتوں میں امن عمل اور علاقے میں تجارتی اور سرمایہ کاری سے متعلق بھی گفتگو ہوگی۔ خلیل زاد کے ساتھ وفد میں امریکی وزارت دفاع، قومی سلامتی شعبے اور امریکی امدادی ادارے کے حکام بھی شامل ہیں۔کابل میں افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں امن عمل کو تیز کرنے پر گفتگو کی۔دوسری طرف طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں کے 5 اہم اضلاع کا حکومتی فورسز سے کنٹرول حاصل کرکے اپنی عمل داری قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں لکھا کہ زابل، اورزگان، غزنی اور نورستان کے اہم اضلاع کا کنٹرول حکومتی فورسز کو پسپا کرکے حاصل کرلیا ہے۔قبل ازیں طالبان نے میدان وردک، بغلان اور لغمان کے چار اضلاع میں بھی اپنی حکومت قائم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس طرح مجموعی طور پر 9 اضلاع پر طالبان کی مکمل حکمرانی قائم ہوچکی ہے۔اس حوالے سے افغانستان کے وزارت داخلہ کے ترجمان طارق ا?ریان نے عالمی خبر رساں ادارے سے بات چیت کی، انہوں نے طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ہے۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان جنگجوو?ں نے زابل سمیت 5 صوبوں کے مختلف اضلاع میں داخل ہوکر سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا اور گھمسان کی جھڑپ کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا کا ا?غاز ہوچکا ہے جس کی تکمیل 11 ستمبر تک ہوجائے گی تاہم اس دوران طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی ا?گئی ہے جس میں کئی محاذوں پر فتح طالبان کو حاصل رہی ہے۔

زلمے خلیل

مزید :

صفحہ اول -