پیسے عوام پر خرچ کرینگے، سندھ حکومت پر نہیں: اسد عمر

پیسے عوام پر خرچ کرینگے، سندھ حکومت پر نہیں: اسد عمر

  

 اسلام آباد،کراچی(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر منصونہ بندی اسد عمر نے کہا ہے وفاقی حکومت سندھ کے عوام پر پیسے خرچ کریگی سندھ حکومت پر نہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس کا ردعمل د یتے ہوئے اسد عمر نے کہا عمران خان پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں، وزیراعلی سندھ صرف پوائنٹ سکورنگ کرنا چاہتے ہیں، سندھ کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیاجارہا، سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاق نے ریکارڈ فنڈز فراہم کیے ہیں، سندھ کی حکومت اور سندھ کے عوام میں فرق ہے، وفاقی حکومت سندھ کے عوام کے لیے پیسے خرچ کرے گی،سندھ حکومت کے لئے نہیں۔اسد عمر نے کہا کہ سابق حکومت نے ملتان سکھر موٹروے پر کام شروع کیا اور مکمل ہم نے کیا، سندھ حکومت نے موٹرویز بنانے کے لئے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا، وفاق نے سندھ میں موٹرویز کے لئے 300 ارب روپے جاری کیے، کئی سال سے کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے کے فور منصوبہ التوا کا شکار تھا، ہم نے کے فور منصوبے کے لئے فنڈزمختص کیے۔ اسد عمر نے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہاکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تباہی کے بعد ان کے خواب چکناچور ہوگئے ہیں اور اب پی پی پی تعصب کی سیاست کررہی ہے، یہ سندھی قوم پرستی کا پرانا کارڈ کھیل رہے ہیں۔ میڈیا کو ایک جاری ویڈیو پیغام میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے تو تعصب کیا جارہا ہے اور بہت کم منصوبے اور سندھ کے عوام پر ترقیاتی اخراجات نہیں کیے جارہے جبکہ دوسرے صوبوں میں زیادہ کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آنے سے پہلے آخری تین سال میں سندھ میں وفاقی حکومت کے منصوبوں کے لیے رکھے گئے پیسے دیکھیں اور پچھلے سال، رواں برس اور اگلے سال کو دیکھ لیں تو ہماری حکومت کے 3 سال میں کم از کم 32 فیصد زیادہ رقم رکھی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2020 اور 2021 کا پی ایس ڈی پی کل این ای سی کے سامنے رکھا جائے گا، جس میں سندھ کے لیے جو رقم رکھی گئی ہے وہ ریکارڈ اور پاکستان کے کسی بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے لیے اتنے منصوبے نہیں رکھے گئے۔اسد عمر نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ شاید اس لیے تذبذب کا شکار ہورہے ہیں کہ وہ سندھ کے عوام اور سندھ کی حکومت میں تفریق نہیں کر پا رہے۔وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب آپ سندھ کی حکومت ہیں لیکن سندھ کے عوام نہیں ہیں اور ہم نے پیسہ سندھ کے عوام پر خرچ کرنا ہے، حکومت سندھ پر نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے پاس پہلے جو پیسہ گیا اس سے سرے کے اندر شان دار محل بھی بنے، اس سے سوئٹزرلینڈ کے اندر ڈائمنڈ کے ہار بھی ملے، اس سے دبئی میں ٹاور بھی کھڑے ہوگئے اور فرانس میں جائیدادیں بنائی گئیں لیکن وہ پیسہ سندھ کے اندر نہیں لگا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کو پتا ہے میں کیا بات کررہا ہوں کیونکہ شہری علاقوں اور پاکستان کے دیگر شہریوں کو معلوم نہیں کہ اس وقت سندھ کے کیا حالات ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سندھ کے لیے دو تاریخی پیکیج کا اعلان کیا، اس کے اندر شہری اور دیہی علاقوں کو بھی رکھا گیا اور ان دونوں پیکجز میں مجموعی طور پر 18 اضلاع شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان پیکجز میں وفاقی حکومت پی ایس ڈی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے ذریعے جو منصوبے بنا رہی ہے اور وفاقی ادارے اپنے بجٹ سے جو کام کر رہے ہیں وہ ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ بنتا ہے اور یہ 3 سال کے اندر پورے کیے جائیں گے۔سندھ میں وفاق کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین لائن جو ٹرانسپورٹ کا ماڈل منصوبہ ہے وہ ستمبر تک مکمل ہونے جارہا ہے، اس کے لیے پیسے رکھے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 6 ارب روپے سے زیادہ سکھر الیکٹرک کمپنی کے لیے رکھے گئے ہیں جو شمالی سندھ کو بجلی فراہم کرتی ہے، حیدرآباد الیکٹرک کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے جو کراچی کے سوا جنوبی سندھ کو بجلی فراہم کرتی ہے اور سندھ کی جامعات کے لیے 8 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے اور کئی منصوبوں کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو پچھلی حکومت ملتان-سکھر موٹروے کا منصوبہ شروع کرچکی تھی اور اس منصوبے کو ہم نے 98 ارب روپے ادا کرکے مکمل کیا تاکہ سندھ کے اندر حقیقی معنوں میں موٹروے کا منصوبہ مکمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد-سکھر موٹروے کی ایکنک سے منظوری مل گئی ہے اور جلد ہی اس کی بولی ہوگی جو تقریباً 200 ارب روپے کا منصوبہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صرف ان دو منصوبوں میں سندھ میں 300 ارب خرچ کر رہی ہے اور سندھ میں ہماری حکومت نہیں ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں 6 دفعہ اور وفاق میں 4 دفعہ آپ کی حکومت رہی ہے، پیپلزپارٹی کو پہلی دفعہ حکومت کا موقع ملا تھا، اس کو نصف صدی سے زیادہ کا وقت ہوچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی حکومت نے سندھ میں موٹرویز بنانے کے لیے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا اور یہ حکومت ہم سے این ایچ اے پر سوال پوچھ رہی ہے؟اسد عمر نے کہا کہ عمران خان کسی ایک خطے کے وزیراعظم نہیں ہیں، وہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور وہ تعصب کی سیاست نہیں کرتے، وہ ہر حصے کو دیکھتے ہیں، اسی لیے ایک سال میں دو پیکیجز دیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے بڑی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سندھ کے عوام کے لیے کوئی کام نہ ہوسکے لیکن سندھ کے عوام کے لیے کام ہوگا۔

اسد عمر

مزید :

صفحہ اول -