سوشل میڈیا کے حوالے سے قانون بنانے کی ضرورت ہے: فواد چوہدری

سوشل میڈیا کے حوالے سے قانون بنانے کی ضرورت ہے: فواد چوہدری

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جعلی، بے بنیاد خبروں اور سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ جعلی اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کیلئے قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے،پی ڈی ایم جلسوں میں فوج کو کہا گیا حکومت کو گرادیں،حکومت تو خودگرینڈ ڈائیلاگ کی بات کررہی ہے،کرپشن کیسز پر اپوزیشن سے کوئی بات نہیں ہوگی، این سی او سی کے انتخابات ملتوی کرنے کی تحریک انصاف نے بھی مخالفت کی،فیصلہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر ہی کرے تو بہتر ہوگا۔ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر نے کہاکہ جعلی اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے مگر موجودہ صورت حال میں سوشل میڈیا سے متعلق قانون بنانے کی ضرورت ہے،میڈیاسے متعلق قانون میں اصلاحات ضروری ہیں جس پر سب سے مشاورت کی جائے گی۔فواد چوہدری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم جلسوں میں فوج کو کہا گیا حکومت کو گرادیں جبکہ حکومت تو خودگرینڈ ڈائیلاگ کی بات کررہی ہے، مولانا فضل الرحمان نے حکومت گرانیکی بھرپورکوشش کی مگر وہ ناکام رہے کیونکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خود اختلافات کاشکار ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت  اپوزیشن کو مسائل پر بات چیت کے لیے دعوت دے رہی ہے،الیکٹورل ریفارمز، عدالتی اصلاحات سمیت ہر چیز پر بات کیلئے تیار ہیں مگر یہ واضح ہے کہ کرپشن کیسز پر اپوزیشن سے کوئی بات نہیں ہوگی۔فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف سمیت دونوں پارٹیزکو فوکل پرسن مقررکرنے کیلئے خط بھیجا، جس میں سے پی پی نے تو اپنا فوکل پرسن منتخب کردیا مگر مسلم لیگ ن نے کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے تو پیش کش کی ہے کہ آپ تجاویز دیں پھر پارلیمانی پارٹیز کی سطح پربات کرتے ہیں، اپوزیشن کی جانب سے ہمارمثبت پیغام کا جواب نہیں دیا جا رہا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہاکہ وزیراعظم نے یخود انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپوزیشن سے بات چیت کرنے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ واضح بھی کیا تھا کہ کرپشن کے مقدمات پر بات نہیں ہوگی، ذاتی طور پر سمجھتا ہوں اپوزیشن کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے، حزبِ اختلاف کے پاس موقع ہے کہ وہ ضد چھوڑ کر معاملات پر آگے بڑھے کیونکہ بڑی اصلاحات میں اپوزیشن کا کردار بھی ہونا چاہیے۔فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ کے ساتھ بات چیت میں رکاوٹ ن لیگ میں لڑائی ہے کیونکہ وہاں قیادت کا تنازع چل رہا ہے، شہبازشریف پارلیمانی معاملات چلانا چاہتے ہیں مگر مریم نواز اس کی مخالف ہیں، اگر ن لیگ پارلیمان کا ماحول بنانیاور بات چیت کی طرف آئے تو خوشی ہوگی۔فوادہ چوہدری نے کہا کہ الیکٹورل ریفارمز سے متعلق اپوزیشن اور حکومت کا 40 نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،9 نکات ایسے ہیں جن پر بات چیت ہوئی، شہبازشریف کل اپنا فوکل پرسن مقررکردیں بات چیت ہوجائیگی، میں ذاتی طور پر مسلم لیگ ن سے بات چیت کا حامی ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی آزادکشمیر میں الیکشن چاہتی ہے، این سی او سی کے انتخابات ملتوی کرنے کی تحریک انصاف نے بھی مخالفت کی اور مؤقف اپنایا کہ اس سے متعلق فیصلہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر ہی کرے تو بہتر ہوگا،آزاد کشمیر میں تمام پارٹیاں الیکشن چاہتی ہیں، اس لیے ہم نے بھی مخالفت نہیں کی۔وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نیکسی کیس میں مداخلت نہیں کی، فیک نیوزکے خلاف بھی اصلاحات کی ضرورت ہے،سوشل میڈیا سے متعلق بھی قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری

مزید :

صفحہ اول -