طورخم بارڈر مزدوروں کے پیدل آمدورفت کے بند ہونے کیخلاف احتجاج 

طورخم بارڈر مزدوروں کے پیدل آمدورفت کے بند ہونے کیخلاف احتجاج 

  

ضلع خیبر (بیورو رپورٹ)ضلع خیبر لنڈیکوتل بازار میں نوجوانان قبائل اور مزدور یونین کے زیر اہتمام طورخم بارڈر مزدوروں کے پیدل آمدورفت کے بند ہونے کے  خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا  لنڈی کوتل بازار باچاخان چوک میں نوجوانان قبائل اور طورخم مزدور یونین کے  زیر اہتمام احتجاجی دھرنا میں. نوجوانان قبائل کے صدر اسرار شینواری. طورخم بارڈر مزدور یونین کے صدر فرمان شینواری. عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر کے صدر شاہ حسین شینواری جماعت اسلامی کے محمد حسن شینواری. حاجی شاہ محمد شینواری. قومی وطن پارٹی کے علی رحمان شلمانی. مولانا علی حیدر. طورخم کے سینئر کسٹم ایجنٹ دولت شاہ آفریدی. ستار شینواری کے علاوہ دیگر مشران تاجروں اور مزدوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی. احتجاجی دھرنا سے نوجوانان قبائل کے صدر اسرار شینواری اور طورخم مزدور یونین کے فرمان شینواری نے کہا کہ حکومت طورخم بارڈر مزدوروں اور دیگر مسافروں کے پیدل آمدورفت کے لئے فوری طور پر کھول دیا جائے. قبائلی عوام کے لئے پاسپورٹ کا شرط ختم کیا جائے. اور پرانے طریقے کار پر طورخم بارڈر جانے اور آنے کی اجازت دی جائے. انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے باعث حکومت کی طرف سے دی گئی ایس او پی. بھی ہم مانتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں اس لئے طورخم بارڈر مزدوروں اور دیگر افراد کے پیدل آمدورفت کے لئے اجازت دی جائے انہوں نے کہا کہ. طورخم بارڈر کے بندش کے باعث ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں سینکڑوں موٹر فلائنگ کوچ اور دیگر گاڑیاں کھڑے ہوگئے ہیں عوام فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں جوکہ علاقے کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہیں طورخم مزدور یونین کے صدر فرمان شینواری نے کہا کہ اگر 3دن کے اندر طورخم بارڈر مزدوروں اور دیگر مسافروں کے پیدل آمدورفت کے لئے نہ کھول دیا گیا تو طورخم بارڈر کے ساتھ پاک افغان شاہراہ پر تمام مزدور اور عوام نہ ختم ہونے والا احتجاجی دھرنا دیگی جوکہ مطالبات تسلیم ہونے جاری رہے گی انہوں نے سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر مزدوروں اور دیگر مسافروں کے پیدل آمدورفت کے فوری طور پر کھول دیا جائے. مزدوروں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں طورخم بارڈر پر کام کرنے والے مزدوروں کو بے جا تنگ نہ کریں تاکہ مزدور اپنی محنت مزدوری بہتر طریقے سے کریں اور ان کی مشکلات میں کمی آجائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -