سندھ بے قابو، دریائی کٹاؤ میں اضافہ، لوگوں کی نقل مکانی شروع

سندھ بے قابو، دریائی کٹاؤ میں اضافہ، لوگوں کی نقل مکانی شروع

  

کو ٹ چھٹہ (نمائندہ پاکستان)دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں تیزی  ہوئی موسم گرما میں ہر سال کی طرح اس بار بھی تین اضلاع متاثر  ہوئے روز بروز دریائی کٹاؤ میں اضافہ  ہواسینکڑوں خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور  ہیں تفصیل کے مطابق دریائے سندھ میں موسم گرما میں ہر سال پانی کے بہاؤ میں تیزی آنے سے مذکورہ دریا کے دونوں کناروں (بقیہ نمبر34صفحہ7پر)

کے دیہات متاثر ہو رہے ہیں۔ روز بروز بڑھتے ہوئے کٹاؤ سے نہ صرف سینکڑوں مربع کاشت شدہ اراضی دریا بُرد ہو چکی ہے بلکہ مختلف اطلاعات کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران تینوں اضلاع جس میں ڈیرہ غازیخان مظفر گڑھ اور راجن پور کے 30ہزار مربع پر اراضی نگل گیا۔ جس میں 700قدیمی قبرستان، سینکڑوں مساجد، کئی بزرگوں کے مزارات 150 سکول، صحت کے مراکز سمیت سینکڑوں آباد بستیاں دریا کی نظر ہو چکی ہیں۔ مگر آج تک سرکار کے اربوں روپے کے فنڈز دریائی کٹاؤ ک و نہ روک سکا۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران تحصیل کو ٹ چھٹہ کے علاقہ جکھڑ امام شاہ، بیٹ کھبڑ اور ضلع راجن پور کے علاقہ بستی پتافی میں دریائے سندھ پھر تباہی مچا رکھی ہے۔ متاثرین کی بڑی تعدا د نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ 

نقل مکانی شروع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -