سمال انڈسٹری کو ریلیف پیکیج دیاجائے، سلیمان صدیقی

سمال انڈسٹری کو ریلیف پیکیج دیاجائے، سلیمان صدیقی

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہاکہ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں ملک کا تا جر یہ سمجھتا ہے کہ ملک میں ہر(بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

 شخص کو ٹیکس دنیا چا ہیے مگر ایف بی آر کے ہو تے ہو ئے ملک میں ٹیکس اکھٹا ہو نا تو دور کی بات یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا،ایف بی آر کے ملازمین کا ریکارڈ چیک کیا جا ئے یہ کروڑون روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک کیسے بنے ہیں ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ ٹیکسیشن کا پیچیدہ و مشکل نظام ہے،ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے ہمارے ساتھ تحریری معائدے کے باوجود اردو کا آسان اور سادہ ٹیکس ریٹرن فارم نہ بن سکا، مشکل و پیچیدہ فارم اور ڈاکومنٹیشن کی آڑ میں رشوت، کرپشن،بلیک میلنگ کا راستہ کھلا رکھا گیا،معائدے کے مطابق ٹرن اوور ٹیکس کی ظالمانہ شرح کو کم اور یکساں نہ کیا گیا،انھوں نے کہا ہر سطح پر تاجروں اور ایف بی آر کی مشترکہ کوارڈینیشن کمیٹیاں بنائی گئیں مگر ایف بی آر نے اپنی رشوت و کرپشن کے بازار کو گرم رکھنے کیلئے کمیٹیوں کو فعال نہ ہونے دیا،شناختی کارڈ کی شرط کو گزشتہ سال بھی موخر کیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ معائدے پر عمل نہ ہونے اور کرونا سے تباہ حال معیشت کی بحالی کیلئے شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کیا جا ئے، خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا چھوٹے تاجروں اور سمال انڈسٹری کیلئے ریلیف پیکیج دیا جا ئے اور شخصی ضمانت پر بلا سود قرضے اور بجلی کے کمرشل بلوں پر چھوٹ دی جا ئے، رئیل اسٹیٹ کی طرز پر ہر بزنس میں نئی سرمایہ کاری کو پوچھ گچھ سے آزادی دی جائے،نام نہاد ڈاکومنٹیشن کے نام پر تاجروں کو پھنسایا گیا تو شدید احتجاج کریں گے خواجہ سلیمان صدیقی نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے کمرشل یونٹ کی قیمت میں 50 فیصد کمی کی جائے بجٹ تاجر دوست ہوگا تو ریلیف کے ثمرات عوام تک منتقل ہوگے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں تاجر رہنماؤں اور چیمبرز کے عہدے داران کے ہمراہ مشترکہ پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ اس موقع پرمرکزی صدر کاشف چوہدری، شرافت علی مبارک،شرجیل میر،ظاھر شاہ،ملک ظہیر،راجہ جواد، طاہر تاج بھٹی اور دیگر تاجر رہنمائبھی مو جو د تھے۔خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا پاکستان کا بجٹ آئی ایم ایف اور ورلد بنک کی مر ضی  سے بنایا جا رہا ہے جو کے ہر سال کی طر ح الفاظ کا گورکھ دھندہ ہو تا ہے جس میں مہنگائی کے علاقہ کچھ بھی نہیں ہو تا، موجودہ حکو مت بجٹ کے حوالے سے تاجروں کو اعتماد میں لیے بغیر ہی من مانے فیصلے کر رہی ہے، ضرورت زندگی کی ہر چیز پر حکو مت نے ٹیکس لگا دیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک کے چھوٹے تا جروں کے لیے بھی بجٹ میں ریلیف دیا جا ئے اور انھیں کاروبار کے لیے آسان شرائط پر قر ضہ دیا جا ئے،حکو مت ملک کے تاجر نمائندوں سے مزاکرات کر ے اور تین سال تک ہماری بات کو مانے اگر ملک کا ریونیو ڈبل نہ ہو جا ئے تو پھر تا جر آپکی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر مر کزی تنظیم تا جران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے خطاب کرتے ہوے کہا ہے کہ حکومت آئندہ پیش ہو نے والے بجٹ کو تاجر دوست،معیشت کی بڑھوی، سادہ و آسان ٹیکس نظام کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دے اورکرونا سے متاثرہ تاجروں کیلئے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے، بجٹ میں چھوٹے تاجروں کے لیے فکس ٹیکس کا نظام لایا جائے، ٹرن اور ٹیکس کو 0.25 فیصد کی شرح پر لایا جائے جبکہ دکان کے رقبے کے بجائے کاروبار کے حجم کے مطابق سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کیا جائے، دوہری و تہری ڈاکومنٹیشن کو ختم کیا جائے،ٹیکس آمدن کی چھوٹی 12لاکھ روپے سالانہ کی جائے، محمد کاشف چو ہدری نے کہا سرمایہ دوست پالیسیوں کی تشکیل،ون ونڈو نظام کے قیام اور تاجروں کواعتماد میں لے کر ٹیکسز کی شرح اور وصولی کا طریقہ کار طے کرنے اور ایف بی آر کاہمارے ساتھ کیے گئے معائدوں اور وعدوں پر عملدرآمد  سے سالانہ 8 ہزار ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے، ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے ہم نے ہمیشہ حکومت سے تعاون کیا مگر ایف بی آر نے ہمیشہ طے شدہ معاملات کو پورا نہیں کیا۔کے پی کے کے صدر شرافت مبارک علی نے کہا حکو مت کو موجودہ بجٹ میں کرونا کے باعث ملک بھر کے تا جروں کو ریلیف دینا چاہیے،تاجر کسی بھی قسم کے ٹیکس میں ریلیف نہیں مانگتا بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹیکس کی شر ح میں کمی کی جا ئے تا کہ ملک بھر میں کرونا سے متاثر تا جر آسانی سے ٹیکس دے سکے، انھوں نے کہا تاجر ٹیکس حکو مت کے خزانے میں جمع کروانا چاہتے ہیں لیکن اگر ٹیکس قومی خزانے کی بجائے لوگوں کی جیب میں چلا جا ئے تو یہ ہمیں منظور نہیں،ملک کے ہر شعبے کے لیے حکو مت نے پالیسی بنا رکھی ہے مگر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھنے والے تاجروں کے لیے کو ئی پالیسی نہیں بنائی جا تی،شرافت مبارک علی نے وزیر خزانہ کے ٹیکس لگانے کی بجا ئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے اعلان کا خیر مقدم کر تے ہو ئے کہا مگر اس کی آڑ میں چھوٹے دکانداروں کے لیے ڈاکومنٹیشن کا فیصلہ ہمیں قبول نہیں۔پنجاب کے صدرشر جیل میر نے کہا حکومت کہتی ہے کہ ملکی جی ڈی پی ریٹ اُوپر جا رہا ہے مگر ہم حکو مت سے پوچھتے ہیں کہ اگر جی ڈی پی اُوپر جا رہا ہے تو اس کے اثرات عوام اور کاروباری طبقے پر کیو ں نہیں پر رہے،ملک کے تاجروں نے کرونا کے دوران ہر طر ح سے حکو مت کا ساتھ دیا مگر حکو مت نے تاجروں سے کیے گئے کو ئی بھی وعدے پورے نہیں کیے، انھوں نے کہا ہم حکو مت سے کہتے ہیں کہ وہ تاجروں سے پوچھ کر معاشی پالیسیاں بنایا کریں شاہد تاجر آپ کو اس سے بہتر معاشی پالیسی بتا دیں۔

سلیمان صدیقی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -