سندھ کی دانشور اور سیاست دان پیپلز پارٹی کے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ مصطفی کمال

سندھ کی دانشور اور سیاست دان پیپلز پارٹی کے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ مصطفی ...

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جب ہم وہاں جہاں سچ بولنے کی سب سے چھوٹی سزا موت تھی، ڈنکے کی چوٹ پر صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہتے ہیں۔ جب ہم نے نسلی تعصب کو ختم کرنے کے لیے لاڑکانہ میں کھڑے ہوکر سندھیوں کو ببانگِ دہل انصار کا درجہ دیتے ہیں۔ تھر میں بھوک سے مرنے والے بچے ہوں یا لاڑکانہ میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات ہوں یا گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ اساتذہ کی وجہ سے سندھ میں جہالت کے ڈیرے ہوں، پی ایس پی نے ہر ظلم کیخلاف اور ہر مظلوم کے حق میں آواز اٹھائی لیکن میں سندھ کے دانشوروں اور سیاست دانوں خصوصا مسلم لیگ فنکشنل، پیر پاگارا صاحب، ارباب غلام رحیم صاحب، جتوئی برادری، مہر برادری، شیرازی برادری اور جی ڈی اے سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور قومیتوں کے عمائدین سے سوال کرتا ہوں کہ وہ اب تک کراچی اور حیدرآباد کیخلاف پیپلز پارٹی کے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ سندھ کی تمام سندھی سیاستدان کراچی اور حیدرآباد پر پیپلز پارٹی کے ظلم، تعصب اور حقوق غضب ہونے پر چپ کا روزہ کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ کوئی سندھی سیاست دان اور دانشور پیپلز پارٹی کو یہ بتانے کو تیار نہیں کہ جو وہ کر رہی ہے وہ سندھ کی روایات کے صریحا خلاف ہے۔ مسلم لیگ فنکشنل، پیر پاگارا صاحب، ارباب غلام رحیم صاحب، جتوئی برادری، مہر برادری، شیرازی برادری اور جی ڈی اے سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور قومیتوں کے عمائدین 92 فیصد سندھ کو ریونیو دینے والے شہر کراچی پر ہونے والے ظلم اور زیادتیوں پر اب تک ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاس میں سندھ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر وائس چیئرمین اشفاق احمد منگی، وائس چیئرمین شبیر قائم خانی اور دیگر اراکینِ سندھ کونسل بھی موجود تھے۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ نسلی تعصب کے معاملے میں سندھی سیاستدان، دانشور، صحافی، ٹی وی اینکرز خاموشی اختیار کر کے درحقیقت پیپلز پارٹی کی پالیسی کی خاموش حمایت کر رہے ہیں۔ جب اردو بولنے والے سندھیوں کے حقوق کی عملی جدوجہد کر رہے ہیں تو کوئی ٹاک شو پر اردو بولنے والوں کے غضب شدہ حقوق کے لیے کیوں نہیں ہوتے، کوئی ٹی وی اینکر کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے مظالم پر کیوں نہیں بولتا، سندھ کے لکھاریوں کو شہری سندھ سے تعصب کیوں نظر نہیں آتا، سیاست دانوں کو سندھ میں تفریق پیدا کر کے سندھ کو کمزور کرنے کی سازش کیوں نظر نہیں آتی؟ تمام سیاستدانوں سے رابطے ہیں اور بند کمروں میں یہ بات کر چکے ہیں لیکن جب کوئی عملی قدم نظر نہیں آیا تو آج عوام کے سامنے یہ بات کر رہا ہوں کہ کراچی کو موہن جو دڑو بنانے کی سازش کی جا رہی ہے اور دیگر سندھ سے اپنے دارالخلافہ کے خلاف نسلی تعصب کی کیفیت نظر آتی ہے۔ مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے سندھ سے ہی نہیں بلکہ پاکستان سے بھی دشمن کررہے ہیں۔ سندھ کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو پیپلز پارٹی سے سخت اختلاف ہے لیکن کراچی اور حیدرآباد کے مظالم پر آواز بلند نہیں کرتے۔ سندھ کے چپے چپے کی بہتری صرف پی ایس پی کا کام نہیں بلکہ یہ سندھ کے ہر فرد کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی استطاعت میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، کراچی کی ترقی سندھ کی ترقی اور خوشحالی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -