سازشی اب بھی متحرک، میرٹ پر جنوبی پنجاب صوبے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں: شاہ محمود قریشی 

سازشی اب بھی متحرک، میرٹ پر جنوبی پنجاب صوبے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں: شاہ ...

  

 ملتان (سٹاف رپورٹر)  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا  ہے کہ کشمیر کے معاملہ کے حل ملٹری آپشن نہیں، صرف سیاسی آپشن ہے دو ایٹمی طاقتیں کسی صورت جن جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں طاقت کا استعمال افغا نستان کے مسلئے کا بھی حل نہیں ہم افغانستان میں موجود جو بھی عوام کی منتخب حکومت ہو اس سے کام کرنا چاہتے ہیں۔یہ بات وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملتان میں ایڈیٹرز اور  سینئیرصحافیوں سے ملاقات کہی۔ ملاقات میں مخدوم شاہ محمود قریشی کاکہناتھاکہ دو ایٹمی قوتوں کی جنگ کا مطلب خودکشی ہے، بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی کی دھجیاں بکھیری جاچکی ہیں۔ مخدوم،شاہ محمود قریشی کاکہناتھاکہ روس کے ساتھ تعلقات میں خوشگوار تبدیلی آچکی ہے۔روس کے ساتھ پاکستان گیس پائپ لائن کا معاہدہ کرچکا ہے وزیر خارجہ کے مطابق افغانستان کے معاملہ میں مداخلت نہیں کریں گے اور  فغانستان کی صرف منتخب حکومت کے ساتھ کام کریں گے،افغانستان کے مسئلے پر پاکستانی موقف کی فتح ہوئی ہے۔: افغانستان سے 44 فیصد سے زائد امریکی فوج کا انخلاء ہوچکا ہے، ہوسکتا ہے امریکی صدر اپنے یومِ آزادی پر امریکی قوم کو یہ خوشخبری سنا دیں کہ تمام فوجی واپس آچکے ہیں. وزیر خارجہ کامزیدکہناتھاکہ افغانستان میں ہمارا کردار قیامِ امن کے لئے سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہے۔پاکستان خطے میں اپنی پالیسی کا رخ جیو پالیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف تبدیل کر رہاہے۔یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس پر بات ہو چکی ہے۔ وزارت خارجہ بھی اب اکنامک ائیر ڈویژن قائم کیا جا رہا ہے۔  مارچ 2022 میں 57 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کشمیر کانفرنس اسلام آباد میں بلارہے ہیں، مخدوم شاہ محمودقریشی کاکہناتھاکہ جیو پالیٹکس کی بجائے جیو اکنامکس پراب ہم فوکس کریں گے،۔سنٹرل ایشین حکومتوں  کے ساتھ بات کر رہے ہیں،سی پیک اور نیوکلیر صلاحیت رکھنے پر ملک میں اتفاق رائے ہے،اسلامو فوبیا پر بھی عالمی دن منانے کے حوالیسے عالمی برادری کو تجویز دے رہے ہیں فلسطین کے دیرپا امن کے لئے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے،وزارتِ خارجہ میں اکنامک پالیسی ڈویژن قائم کررہے ہیں. مخدوم شاہ محمود قریشی کاکہناتھاکہ سینٹرل ایشیاء کے ممالک سے کاروباری تعلقات قائم کرنے کے لیے ریجنل کنیکٹیوٹی پالیسی کا بھی آغاز کرنے جارہے ہیں.۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک میں نظام کی تبدیلی‘ اصلاحات‘ شفافیت‘ وفاق کی مضبوطی اورعوام کے مستقبل کے لیے عمران خان سب کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں،سب کچھ دینے کو تیار ہیں مگر این آر او دینے کو تیار نہیں۔ عمران خان نے سیاست کی بنیاد تبدیلی کے لیے رکھی۔ عمران خان کی تحریک انصاف میں وہ ہی حیثیت سے جو پیپلز پارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تھی۔جب عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تو انہوں نے محسوس کیا کہ لوگ کرپشن سے تنگ ہیں۔ایک وقت وہ بھی تھا جب تحریک انصاف کی کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں تھا۔مگر عمران خان نے اپنے اس سفر کو روکا نہیں۔پھر دوہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف کی ٹکٹ لینے والوں کا رش تھا۔ہم نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔امریکہ میں دو جماعتی نظام کو نہ توڑا جاسکا۔ برطانیہ میں بھی دو جماعتی نظام کو نہ توڑا جا سکا۔ عمران خان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک میں دو جماعتی نظام کو توڑا۔تحریک انصاف اپنی کارکردگی، ٹھوس اقدامات کی بدولت 2023ء کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوگی۔ اور 2023 کے الیکشن میں بھی اونٹ اسی کروٹ بیٹھے گا، یہ میری پیشن گوئی ہے سب لکھ لیں۔پی ڈی ایم اور اپوزیشن جماعتیں جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گی۔یہ جو اس ملک میں وقتی ہوائیں چل رہیں ان سے گھبرانہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف اپنی مدت پوری کرے گی۔آنے والے وقت میں بھی ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر واپس آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما راجہ غفار کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر‘ صو بائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک‘ صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری‘ خالد جاوید وڑائچ‘ ملک عدنان ڈوگر‘ رانا عبدالجبا ر‘ قربان فاطمہ‘ سید بابر شاہ‘ سعدیہ بھٹہ‘ آصفہ سلیم‘ گلناز کاشف‘ شازیہ وحید‘ مشتاق ارائیں‘ جاوید قریشی‘ منور قریشی‘ راجہ عمر‘ یوسف رونگھا‘ عامر سیال‘ حفیظ سیال‘ سید بھٹہ‘ ملک عابد تھہیم‘ شیخ واجد شوکت‘ اعجاز جنجوعہ سمیت پی پی 215اور 216 کے عمائدین کی ایک بہت بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف تعصب‘ لسانیت‘ بنیا د پرستی اور سیاسی مقاصد کی بنیاد پر نہیں بلکہ گورننس‘ میرٹ کی بنیاد پر جنوبی پنجاب صوبے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کی 70سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ جنوبی پنجاب کا علیحدہ ترقیاتی بجٹ بنے گا۔ اور یہاں کا بجٹ یہاں کی آبادی کے تناسب سے دیا جائے گا۔ جنوبی پنجاب صوبے کی تعمیر تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے پی پی اور ن لیگ نے ہماری صفوں میں انتشا رپیدا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ عناصر ہیں جو اس مسئلہ پر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ہم عناصر پر غلبہ پائیں گے۔ ہم رہیں نہ رہیں اقتدار رہے نہ رہے ہم نے جنوبی پنجاب صوبے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کو علیحد ہ تشخص دیں گے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنے گا۔ جنوبی پنجاب کے خواب کو اب کوئی نہیں مٹا سکتا۔ جو مٹانے کی کوشش کرے گا وہ خود مٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا ملتان میں سیوریج بھی بنے‘ فلائی اوور بھی بنے‘ پل بھی بنے لیکن ملتان کے بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں ہے۔ ملتان کا سیوریج نظام چالیس سال پرانا ہے۔ انہو ں نے کہا اللہ کے حکم سے نیت بھی صاف، دامن بھی صاف اور ہاتھ بھی صاف ہیں۔لوگ ایم این اے اور وزیر بننا چاہتے ہیں تاہم میں ان لالچوں سے بالا تر ہوگیا ہوں۔ 36 سال مسلسل سیاست کی۔مجھے سیاست نے جو دینا تھا وہ میں نے حاصل کر لیا۔ اب سیاست صرف بڑے مقصد کے لیے کروں گا، ذاتی مفاد کے لیے سیاست نہیں کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ تین مرتبہ خانہ کعبہ اورتین مرتبہ آقائے دوجہاں کے حجرے میں گیا ہوں، مجھ میں کوئی خوبی نہیں ہے یہ سب میرے مالک کا کرم ہے۔اور جس کی نسبت ہے اس نسبت کا کرم ہے۔ ذات کی مفادات کی غلامی سے اللہ آزاد کر دے اور اپنے نبی کا غلام بنا دے۔انہوں نے کہا میری سیاست کا آغاز فتح سے نہیں شکست سے ہوا۔پھر اللہ نے کامیابیوں سے خوب نوازا۔ آج پانی کے مسئلے پر باتیں ہو رہی ہیں۔1991ء میں جب پانی کی تقسیم کی بات ہوئی تو میں پنجاب میں اس کی نمائندگی میں کر رہا تھا۔این ایف سی میں مرکز اور پنجاب کے پیسوں کی تقسیم کی بات ہو رہی تھی اور فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم میں پنجاب کی نمائندگی کر رہا تھا۔ امریکہ میں سینیٹر کیری لوگر بل پر این اے 156 کے منتخب نمائندے کے دستخط تھے۔ عزت اللہ دیتا ہے اور وسیلے بھی اللہ بناتا ہے۔دلوں کے حال اللہ جانتا ہے اور انسان کی حقیت بھی اللہ جانتا ہے۔جب میں نے پیپلزپارٹی چھوڑی تو آصف زرداری نے پیغام بھجا کہ جس نے پیپلزپارٹی چھوڑی وہ صفر ہو جاتا ہے۔زرداری صاحب پیپلزپارٹی چھوڑنے کے بعد بھی اس ناچیز کی سانسیں چل رہی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر نے کہا تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار ملا تو ملک کو بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا۔ پاکستان سفارتی محاذ پر دنیا میں اکیلا تھا اور دوسری طرف ملکی معیشت زوال کی طرف گامزن تھی۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی سیاستی بصیرت کی بدولت پاکستان دنیا میں وقار کے ساتھ آگے بڑ رھا ہے۔ جبکہ ملکی معیشت بتدریج مضبوط ہورہی ہے۔ عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اگلے دو سال میں خوشحالی‘ ترقی اور مضبوطی کے سال ہونگے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کا قیام کا کریڈٹ مخدوم شاہ محمود قریشی کو جاتا ہے جن کی سیاسی بصیرت کی بدولت وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب صوبے کو تحریک انصاف کے منشور کا حصہ بنایا۔

ملاقات

مزید :

صفحہ اول -