کاٹی، فباٹی، بقاٹی اور سائٹ سپر ہائی وے نے  کراچی چیمبر کی جاری ویڈیو میں دعوے کی تردید کردی

کاٹی، فباٹی، بقاٹی اور سائٹ سپر ہائی وے نے  کراچی چیمبر کی جاری ویڈیو میں ...
کاٹی، فباٹی، بقاٹی اور سائٹ سپر ہائی وے نے  کراچی چیمبر کی جاری ویڈیو میں دعوے کی تردید کردی

  

کراچی (پ ر ) کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)، فیڈرل بی ایریا ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی)، بن قاسم ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (بقاٹی) اور سائٹ سپر ہائی وے ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے کراچی چیمبر کی جانب سے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو کی تردید کی ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ کے سی سی آئی میں ساتوں صنعتی زون کی نمائندوں نے منعقدہ اجلاس میں مشترکہ طور پر کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر کاٹی سلیم الزماں، صدر فباٹی محمد علی، بانی صدر بقاٹی میاں محمد احمد اور صدر سائٹ سپر ہائی وے انجینئر نثار احمد نے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ کراچی چیمبر میں منعقدہ اجلاس میں کے الیکٹرک سے متعلق تجارتی اور صنعتی حلقوں میں پائی جانے والی تشویش اور شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم اجلاس میں تمام شرکائکسی نتیجے پر نہ پہنچے اور نہ ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوسکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ ہر صنعتی ایسو سی ایشن اور کراچی چیمبر کی جانب سے علیحدہ علیحدہ تکنیکی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کراچی کے صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک سے متعلق اٹھائے جانے والے خدشات کی صداقت پر تحقیقات کرکے ایک رپورٹ پیش کرے گی جس میں کراچی کے گھریلو اور صنعتی صارفین کے بہترین مفاد میں تجاویز دی جائیں گی۔

مشترکہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ شرکاء نے کے الیکٹرک میں ماضی کی کے ای ایس سی کے مقابلے میں نمایاں بہتری کا اعتراف کیا، اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ کہیں جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کے باعث کے الیکٹرک دوبارہ کے ای ایس سی کے تاریک دور میں واپس نہ چلی جائے جس سے کراچی کے رہائشیوں اور صنعتوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی نمائندے اس بات پر متفق تھے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے شکایات کے ازالے اور کمپلین پر فوری ایکشن میں واضع بہتری آئی ہے جس کے مثبت اثرات معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کی جانب سے کراچی کے شہریوں اور صنعتوں کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی جانب سے کے الیکٹرک کو 2000 میگاواٹ اضافی بجلی فراہم کرنے کے فیصلے کو سراہا جس سے انڈسٹری کو لوڈ شیڈنگ فری بنانا ممکن ہوگا۔ کراچی کے صارفین سے بجلی کی زیادہ قیمتیں وصول کرنے اور مبینہ غیر منصفانہ طرز عمل کے بارے میں خدشات پر ملک کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صنعتوں کیلئے حکومت پاکستان کی یکساں نرخوں کی واضح پالیسی موجود ہے جس کا مقصد ملک بھر میں کسی بھی حصے میں رہائشی اور کاروباری صارفین کے مابین کسی قسم کی تفریق کو ختم کرنا ہے۔

اجلاس میں ملک کی دیگر تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی حالت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (MEPCO) کو آڈیٹڈ رپورٹس کے مطابق گزشتہ پانچ سال سے سبسڈی کی مد میں بالترتیب 100 اور 200 ارب روپے سے زائد جاری کئے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سبسڈی کی مد میں اتنی بڑی رقم ملنے کے باوجود دونوں کمپنیوں نے اپنے آڈیٹڈ مالیاتی نتائج میں خسارہ ظاہر کیا ہے، جو گردشی قرضوں میں اضافہ کا سبب بن کر حکومت کیلئے ایک چیلنج کی صورت اختیار کر گیا ہے۔تاہم کے الیکٹرک کے معاملات پر بھی نیپرا اور وزارت توانائی نگرانی کرتے ہیں جس نے اپنے سالانہ مالیاتی نتائج میں کورونا وباء   کے علاوہ منافع ظاہر کیا ہے۔ جبکہ دیگر تقسیم کار کمپنیاں (سوائے گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، GEPCO) نے مالیاتی نتائج میں خسارہ ظاہر کیا ہے۔

انڈسٹری کے نمائندوں نے کے الیکٹرک کے پیداواری، ترسیل اور تقسیم کاری کے نظام کو الگ کرنے کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جسے کراچی کو درپیش مسائل کا حل سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم واپڈا کی علیحدہ بجلی کی پیدوار، ترسیل اور تقسیم کار کمپنیوں کی صورت میں واضح مثال موجود ہے جو اس وقت 2.6کھرب روپے کے گردشی قرضے سے متاثرہے جس سے ملکی معیشت کو بہت بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔ مزید برآں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کے اختیارات کی منتقلی کی اجازت کے فیصلے کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کے الیکٹرک کا حکومت سے معاہدے کی مدت 2023میں ختم ہوجائے گی اور یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے صارفین کے مفاد کو تحفظ فراہم کرے۔تکنیکی ماہرین سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ کے الیکٹر ک کے نظام کو تقسیم کرنے کے باوجود صارفین کے بلوں پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے، کیونکہ ملک میں شہریوں کی تفریق ختم کرنے کیلئے یکساں ٹیرف پالیسی نافذ ہے۔اور اس پالیسی کو تبدیل کرنے سے گردشی قرضے میں مزید اضافہ کا بھی خدشہ ہے۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں ایک کمپنی لوڈ شیڈنگ/فالٹس کی صورت میں ذمہ دار ہے، لیکن مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے کیونکہ ہر ایک کمپنی اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گی اور یوں الزام تراشیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا جس سے صنعتیں اور گھریلوں صارفین بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ سبسڈی دینا وفاقی حکومت کا استحقاق ہے اور یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے صارفین کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی اجازت نہ دیں جو پاکستان کا سب سے بڑا معاشی اور صنعتی مرکز ہے۔ وفاقی حکومت کو کے الیکٹرک سے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ساتوں صنعتی ایسو سی ایشنز کو اعتماد میں لینا چاہیے کیونکہ یہ ساتوں صنعتی علاقے نہ صرف اسٹیک ہولڈرز ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت کوکے الیکٹرک کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ساتوں ایسو سی ایشنز کے نمائندوں کی متفقہ مشاورت سے کرنا چاہیے۔ یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث معاشی نموکا ہدف توقع سے زائد یعنی 3.92 فیصد سے تجاوز کیا ہے جس نے پاکستان کا وقار پوری دنیا میں بڑھا ہے۔ تاہم ان تمام حقائق کی روشنی میں وفاقی حکومت کو فیصلہ کرتے ہوئے سدباب کرنا ہے کہ شنگھائی الیکٹرک کوکے الیکٹرک کی فروخت میں خلل ڈالنے سے ملک کا امیج خراب ہوجائے گا اور اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو منفی پیغام ملے گا، جو موجودہ حکومت کی نمایاں پالیسیوں کے معترف ہیں جبکہ اس فیصلے کا غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی براہ راست اثر پڑے گا۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -