" پتہ ہے ریٹائرمنٹ کے بعد پولیس نے زندگی اجیرن کر دینی ہے ، لیکن ریاست کے اندر ریاست برداشت نہیں " چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی صدر کو بیج اور بیلٹ اتار کر آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم 

" پتہ ہے ریٹائرمنٹ کے بعد پولیس نے زندگی اجیرن کر دینی ہے ، لیکن ریاست کے اندر ...

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس لاہور ہا ئی کورٹ جسٹس قاسم خان نے اراضی قبضہ کیس میں ایس پی صدر حفیظ بگٹی کی غیر مشروط معافی دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ڈی آئی جی لیگل کو 8جون کو طلب کرلیا۔چیف جسٹس کی جانب سے آئندہ سماعت پر ایس پی صد ر حفیظ بگٹی کو بیج ،بیلٹ اور سٹار اتار کرعدالت میں پیش ہونے کا حکم بھی جا ری کردیاگیا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق لاہو ر ہائی کورٹ میں ایس پی صدر حفیظ بگٹی کے خلاف اراضی قبضہ کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے اشرف حسین نامی درخواست گزار کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے پولیس پر قبضہ کا الزام عائد کیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ایس پی حفیظ بگٹی سے سوال کیا کہ آپ کو کیا ضرورت پیش آگئی تھی کہ آپ جائیں اور ایڈریس چیک کریں جس پر ایس پی صدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی لیگل اور اے آئی جی لیگل سے مشاورت کی تھی۔ قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ جھوٹ بولنے پر ایس پی کو 6ماہ قید کی سزا سنا دوں، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ابھی ایس پی پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس قاسم خان نے ایس پی صدر حفیظ بگٹی کو حکم دیا کہ ایس پی صدر ! اپنے بیج،بیلٹ اور اسٹار اتارکر آنا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیئے کہ پتہ ہے میری ریٹائرمنٹ کے بعد پولیس نے زندگی اجیرن کر دینی ہے ، 5 جولائی کے بعد مجھے اور اہل خانہ کو پولیس سے خطرہ ہوگا ۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست برداشت نہیں ، وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں جو بڑوں کو چھوڑ کر چھوٹوں کو پکڑ لیتی ہیں،آج کے کمنٹس ایس پی اور ایس ایچ او کے سروس ریکارڈ کا حصہ بنیں گے۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے ڈی آئی جی لیگل کو 8جون کو طلب کرلیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -