سرائیکی صوبہ

سرائیکی صوبہ

  

بہت سے لو گو ں کا خیال ہے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سرائیکی صو بے کے مطالبے کو اپنے سیا سی مقاصد کے لئے استعما ل کر تے ہو ئے ہمیشہ کے لئے نہ صرف اس کیس کو متنا زعہ کر دیا، بلکہ ناقا بل تلا فی نقصا ن پہنچایا ہے۔ دوسری طرف یو سف رضا گیلانی کا موقف یہ ہے کہ ان کی وزارت عظمیٰ سے چھٹی کی بڑی وجہ سرائیکی صو بے کا مطالبہ تھا ۔ان کے مطابق سر ائیکی صو بے کا نعرہ لگانے کی انہیں سزاد ی گئی۔ اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو مندرجہ بالا دونو ں مو قف درست اور زمینی حقا ئق سے منا فی ہیں ۔ اگر سرائیکی صو بے کے مطالبے پر نظر ڈالی جائے تو اس امر میں کو ئی شک نہیں کہ یہ مطالبہ بہت پر انا ہے اور جنو بی پنجاب کے لو گو ں نے ہمیشہ اپنے لئے الگ صو بے کی خواہش کی ہے، لیکن صو بہ پنجاب کے نامور سیاستدان اور جو پارلیمینٹ میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ کبھی بھی اس صو بے کے مطالبے کو اور جنوبی پنجاب کے لو گو ں کی خو اہش کو عملی جامہ نہ پہناسکے۔ اس کی بڑی وجہ ان کے اپنے سیاسی و ذاتی مفادات رہے اور قیا دت کے فقدان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ سر ائیکی پارٹی کے نا م پر ایک سیا سی جما عت بھی بنائی گئی، لیکن یہ سیا سی جما عت عوامی پذیرائی حاصل نہ کر سکی، کیو نکہ نہ تو کسی بڑ ی سیا سی شخصیت نے اس میں شمولیت اختیا ر کی اور نہ یہ سیا سی جما عت جنو بی پنجا ب کے دوردراز علا قوں تک اپنا پیغا م پہنچا سکی ۔ بیرسٹر تاج لنگاہ کی کاوشیں سر انکھو ں پر، لیکن سرائیکی پارٹی کا کوئی بھی نما ئندہ پارلیمینٹ پہنچ کر سر ائیکی صو بے کے مطالبے کی آواز بلند نہ کر سکا ۔ اگر زمینی و تاریخی حقا ئق کو مد نظر رکھا جا ئے تو جتنا سر ائیکی صو بے کامطالبہ اس بارملک گیرسطح پر اجاگرہوا، پہلے شائد کبھی نہیں ہو ا تھا ۔ بھلے مسلم لیگ ن کے سیا سی رہنما ٹی و ی چینلو ں پر یا اخبارات میں یہ بیا نا ت دیتے رہیں کہ سرائیکی صوبے کامطا لبہ آج کا نہیں 30یا 40سال پر انا ہے ان کا مو قف بجا، لیکن جس قد ر اس صو بے کا بننا اب ضر ورت ہے شاید وہ 30یا 40 سال پہلے اتنی ضر ورت نہ تھی کیو نکہ آج سے تیس یا چالیس سال پہلے پنجا ب کی آبادی دس کر وڑ نہ تھی، جس طر ح پچھلے دو تین سالو ں میں سر ائیکی صو بے کی بات کی گئی اور مطالبہ کیا گیا وہ آج سے پہلے کبھی اس شد ت سے نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ مطالبہ اس جماعت کا تھا جو اس وقت وفاق کی سطح پر حکمر انی کر رہی تھی اور وزیر اعظم بھی سر ائیکی تھا۔ میر ا نہ تو کسی سیا سی جما عت سے تعلق ہے اور نہ کو ئی دلچسپی ۔ یا ر لو گو ں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے سر ائیکی صو بے کا نعرہ محض اپنے آپ کو جنو بی پنجا ب میں مضبو ط بنا نے کے لئے لگایاتھا تو ان کی خد مت میں عر ض ہے کہ ہر سیا سی جما عت جب بھی مخصوص لو گو ں کے حقوق یا محرومیوں کی نشاندہی کرتی ہے تو اس کے پیچھے سیا سی مفاد یاسیاسی وابستگی ہو نا کو ئی اُچھو تی بات نہیں ہو تی۔ قیا م پاکستان سے پہلے اگر مسلم لیگ یا قا ئد اعظمؒ نے مسلما نو ں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کیا تھا تو اس وقت بھی یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ نعرہ حقیقی نہیں ،جیساکہ الگ وطن کا نعر ہ ایک حقیقت پر مبنی تھا اور سیا ست پر بھی مبنی تھا اب جو لو گ پی پی کے یا یوسف رضا گیلا نی کے سر ائیکی صو بے کے مطالبے کو سیا سی نعرہ کہتے تھے۔ اب وہی ڈاکٹر طاہر القادری کے اس نعرے ”سیا ست نہیں ریا ست بچاو“ کی یہ کہہ کر مخالفت کر رہے ہیں کہ ریاست سے سیا ست کو نکا لنا ایسا ہے، جیسا جسم سے روح کو نکا ل لیا جا ئے ۔ تو اس امر میں بھی کو ئی شک نہیں کہ پی پی کا سرائیکی نعر ہ سیا سی تھا کیو نکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیاسی مسئلے سیا سی طو ر طر یقو ں سے حل کئے جا سکتے ہیں ۔ سر ائیکی صو بے کا مطالبہ بھی ایک سیا سی سماجی اور معاشر تی حقو ق پر مبنی تھا تو کسی نہ کسی سیا سی جماعت نے ہی اس مسئلے کو اٹھا نا تھا ۔سر ائیکی لو گو ں کو اس سے کوئی سر وکار نہیں کہ ان کی آواز پی پی بلند کر تی ہے یا مسلم لیگ (ن) یاتحر یک انصا ف یا کو ئی اور سیا سی جماعت ۔اس میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ ایک سیا سی مطالبے کو ایک سیا سی جما عت نے پر امن طو ر پر اٹھا یا ۔

جو لو گ کہتے ہیں کہ سر ائیکی صو بے کا مقد مہ یو سف رضا گیلا نی نے خر اب کر دیا ہے وہ یو سف رضا گیلا نی کے ساتھ زیا دتی کر تے ہیں اور جب یو سف رضا گیلا نی یہ کہتے ہیں کہ انہیں سر ائیکی صو بے کے مطالبے کی سزانااہلی کی صو رت میں ملی تو میر ا خیا ل ہے کہ وہ سرائیکیو ں سے زیا دتی کر تے ہیں کیو نکہ سر ائیکی لو گو ں سمیت پو ری دنیا جانتی ہے کہ ان کے وزارت عظمی سے نااہل ہو نے کے اسباب کیا تھے ۔ اب چو نکہ نئے صو بے بنا نے کے حو الے سے جو کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اس کی رپو رٹ بھی منظر عا م پر آگئی ہے ۔ اس رپو رٹ سے جنو بی پنجاب کے لو گو ں کو فائد ے سے زیادہ نقصا ن ہو ا پو رے سر ائیکی وسیب میں اس رپو رٹ کے خلا ف مظا ہر ے ہو رہے ہیں ۔ملتا ن والے الگ ناراض ہیں ۔بہا ولپو ر میں کمیشن کی طر ف سے دی جا نے والی سفا رشا ت پر جلو س نکل رہے ہیں ۔ میا نو الی اور بھکر کے لو گ مشتعل ہیں پتہ نہیں بہا ولپو ر جنو بی پنجا ب کے نا م سے نئے صو بے کی سفا رش کے محر کا ت کیا تھے۔ بہت سے لو گو ں کا خیا ل تھا کہ شا ئد حکو مت نئے صو بے بنا نے کے حو الے سے سنجید ہ ہے، لیکن افسو س سے کہنا پڑ تا ہے کہ صو بو ں کے متعلق بننے والے کمیشن نے اس مسئلے کو اور زیا دہ الجھا دیا ہے ۔ اگر ملک کے مو جو د ہ حا لا ت پر نظر ڈالی جائے تو کمیشن کی رپو رٹ میں دور اندیشی کا فقدان نظر آتاہے ۔ ایک اور بات جو بہت زیا دہ بار کی گئی ہے کہ نئے صو بے انتظا می بنیا دوں پر بننے چاہئیں۔ وہ بھی سمجھ سے بالا تر ہے اگر نئے صو بے انتظامی بنیادوںپر بنا نے بھی ہیں تو کیو ں نہ اس میں مقا می لو گوں کی ثقا فت ،تہذیب اور لسا نیت جیسے اہم محر کا ت کو مد نظر رکھا جا ئے تو کو نسی قیا مت آجا ئے گی، لیکن مو جو دہ اسمبلیاں جن کی مدت ختم ہو نے کو ہے اور ارکا ن اسمبلی الوادعی فو ٹو سیشن تک کر واچکے ہیں کیا وہ نئے صو بے جیسے حسا س معا ملات پر اتفا ق رائے قا ئم کر پائیں گے کہ نہیں اور متعلقہ صوبے کی اسمبلی جہا ں کو ئی جما عت صو بے کے لئے درکار اکثریت نہیں رکھتی کا کیا ردعمل ہو گا ۔یہ وہ سو ال ہیں جن کا جو اب کو ئی بھی نہیں دیتا ۔     ٭

مزید :

کالم -