غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دیناہوگی

غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دیناہوگی

کراچی (اکنامک رپورٹر) غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے حکومت کو کاروبار کے لیے معاون پالیسیوں کی تشکیل، امن و امان کو یقینی بنانے اور توانائی کے بحران کو ختم کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ یہ بات امریکن بزنس کونسل(اے بی سی) نے سال 2014 کی پہلی راﺅنڈ ٹیبل میٹنگ کے بعداپنے بیان میں کہی۔اس موقع پرمختلف امریکی کمپنیوں کے سربراہان نے سال 2013 میں اپنی کمپنیوں کی کارکردگی پر بات کی اور مسائل کا جائزہ لیااورحکومت پر زور دیا گیا کہ ایسے مسائل کو ختم کیا جائے جن سے معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ سال 2013ءمیں امن و امان کی مخدوش صورت حال، انتخابی سال اور غیر مستقل پالیسیوں کے باوجود اے بی سی ارکان نے سال کو امید افزا قرار دیا۔سال 2013ءمیں 65 فیصد شرکاءکی کاروباری کارکردگی اوسط رہی۔ ارکان سے جب سال 2014ءکے بارے میں رائے معلوم کی گئی تو 70 فیصد ارکان نے مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے ترقی کی امید ظاہر کی تاہم مزید سرمایہ کاری تجارتی، مالیاتی اور زری پالیسیوں کی صورت حال واضح ہونے پر منحصر ہے۔

اے بی سی نے اس موقع پر بہتر کاروباری ماحول اور کاروبار کے یکساں مواقع کی فراہمی کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)، سیکورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) اور کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان(سی سی پی) کی کوششوں کی تعریف کی۔ تاہم اس حوالے سے قواعد کو مستحکم کرنے، ٹیکس نیٹ کو توسیع دینے، انٹیلکچوئل پروپرٹی رائٹس (آئی پی آر) اور ماحول کو تحفظ دینے کے آرڈیننس پر مزید کام کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ یہ تجویز بھی دی گئی کہ حکومت فوری طور پر ایک آئی پی آر بورڈ تشکیل دے تاکہ اس مسئلے کا خاتمہ کیا جاسکے اور آئی پی آر کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جاسکے ، یہ عمل غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام دینے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اے بی سی کے صدر سعد امان اللہ خان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ طویل المیعاد، مستحکم، موثر اور کاروبار معاون پالیسیاں کو تشکیل دے، مزید برآں، توانائی کے بحران پر قابو پانے کی اپنی حکمت عملی سے آگاہ کرے۔

 اور مخدوش امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنائے اس سے کاروباری برادری کو مزید سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار کو توسیع دینے میں اپنی حکمتِ عملی بنانے میں مدد ملے گی۔ کاروباری برادری موجودہ مسائل کی وجہ سے بہتر کارکردگی سے محروم رہی تاہم اب بھی ترقی کے مواقع موجود ہیں اگر کاروبار معاون ماحول فراہم کیا جائے تو کوئی بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ حکومتی آمدنی کیلئے ہمارا کیا کردار ہوسکتا ہے۔ اے بی سی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا گروپ ہے۔جس کے 66 ارکان ہیں جن کا مجموعی ریونیو 5 ارب ڈالر سے زائد ہے اور تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اے بی سی کے ارکان 90 ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع کراتے ہیں۔ اے بی سی کے ارکان مختلف شعبوں بشمول صحت، مالیاتی خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ایف ایم سی جی، فوڈ اینڈ بیوریج، فارماسیوٹیکل ، آئل اینڈ گیس اور دیگر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔

مزید : کامرس