امریکہ،بھارت اوراقوام متحدہ پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث

امریکہ،بھارت اوراقوام متحدہ پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث
امریکہ،بھارت اوراقوام متحدہ پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث

  

امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک کا پاکستان مخالف ایجنڈے کے تحت عالمی این جی اوز کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کو پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے فنڈز پاکستان میں علیحدگی کا بیج بونے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال کئے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی نہ صرف اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان مخالف کارروائیوں میں مصروف ہیں، بلکہ انسانی حقوق اور دیگر خیراتی مقاصد کے لئے کام کرنے والی این جی اوز کو بھی تخریبی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی این جی اوز کی بڑی تعداد پاکستان کے اندر اور باہر سازشی مقاصد کے لئے امریکی آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔ یہ این جی اوز جہاں ایک طرف جاسوسی کا کام کرتی ہیں وہاں دوسری طرف مقامی طور پر مذہبی ، لسانی اور سیاسی منافرت پیدا کر رہی ہیں۔ اس کی واضح مثال بلوچوں کے تحفظ کے لئے کوئٹہ سے پیدل سفر کر کے اسلام آباد پہنچنے والے ماما قدیر نے اقوام متحدہ کے مہاجرین کی مدد کے لئے قائم ادارے کے ملازم ڈاکٹر کامران کے گھر قیام کیا اور اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی۔

کچھ این جی اوز دنیا بھر سے ریٹائرڈ فوجی افسران، ولنز اور کرمنلز کو اپنے آپریشنز کے لئے بھرتی کرتی ہیں۔ کرائے کی یہ فوج دولت سمیٹنے کے لئے ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک کو خصوصاً اپنا نشانہ بناتی ہیں۔ یہ غریب ممالک میں ایک این جی او اور فلاحی تنظیم کے طور پر کام کرتی اور لوگوں کی خدمات انہیں خوابوں کی سرزمین امریکہ بھجوانے کے نام پر بھرتی کرتی ہے۔ یہ ہمیشہ ہی قدرتی آفات سے متاثرہ ملکوں میں پہنچ کر بے سہارا ، مگر مضبوط لوگوں کو انتخاب کرتی اور انہیں ملازمتیں دیتی ہے۔ عراق اس کی محض ایک مثال ہے، جہاں اس نے عراقی لوگوں کو بھرتی کر کے انہیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کیا۔ عراقی اس شیطان صفت تنظیم سے بہ خوبی آگاہ ہیں اور فلوجہ میں انہوں نے بلیک واٹر کے ایجنٹوں کو ہلاک کر کے ان کی نعشیں دریائے فرات کے کناروں پر لٹکا دی تھیں۔ یہ ایجنٹس فوڈ کنٹریکٹرز کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ بلوچستان میں پورے زور و شور سے خفیہ سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہے اور بعض نوجوانوں کو ملک کے خلاف بغاوت اور غداری کے لئے نہ صرف اکسا رہی ہے، بلکہ ان کو ہر طرح کا مواد اور اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں موجود بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانے ”را“ کا گڑھ بنے ہوئے ہیں اور یہ قونصل خانے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ بیرونی طاقتیں ملک میں جاری دہشت گردی میں ملوث ہیں، حکومت طالبان سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ بھارت اور امریکہ سے بھی بات کرے۔ افغانستان میں21 بھارتی قونصل خانوں کا قیام سمجھ سے بالاتر ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کا واویلا کرنے اور الزام تراشی کا راگ الاپنے والا بھارت دنیا کے خطرناک ممالک میں سرفہرست ہے، جو افغانستان عراق اور شام سے بھی زیادہ بم دھماکوں میں آگے نکل گیا۔ روزانہ کئی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ بھارت کے نیشنل ڈیٹا سنٹر (ای بی ڈی سی) کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق سال 2013ءمیں بھارت بھر میں 212 بم دھماکے ہوئے جو 12سال سے جنگ کا شکار افغانستان کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔ ان دھماکوں میں 30افراد ہلاک اور 246 زخمی ہوئے۔ افغانستان میں گزشتہ سال ہونے والے دھماکوں کی تعداد108بنگلہ دیش میں 75 اور شام میں 36دھماکے ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق نہ صرف گزشتہ سال، بلکہ2004ءسے2013ءتک کے عرصے میں بھی بم دھماکوں کے حوالے سے بھارت نے افغانستان اور عراق کو بھی پیچھے چھوڑا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے مجموعی دھماکوں میں بھارت کی شرح 75 فیصد ہے۔

مزید : کالم