ایٹمی ملک اور کمزور ترین ریاستی رٹ

ایٹمی ملک اور کمزور ترین ریاستی رٹ
ایٹمی ملک اور کمزور ترین ریاستی رٹ

  



ہم ایٹمی طاقت تو بن گئے، لیکن افسو س کہ ایٹمی طاقت بنے کے باوجو د بھی ہم دنیا کی ایک کمزور ریا ست کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ بیرونی اور اندرونی دہشت گر دی نے ہمارے مستقبل کے امن اور تر قی پر کئی سو الیہ نشان لگا دیے ہیںاور اپنی مختصر سی تاریخ میں پہلی دفعہ شائد ہم اندرونی طور پر بد تر ین دہشت گردی کا شکارہیںخیبر سے لیکر کر اچی تک اور ایر ان کے بارڈر سے لیکر لاہور تک ہمارے ملک کا کو ئی ایسا حصہ نہیں جہاں دہشت گر دوں نے حملہ نہ کیا ہو ، پورے ملک میں دہشت گر دی کا ایک نہ ختم ہو نے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ شاید ہماری سلامتی اور سکیو رٹی کی تما م تر پالیسیا ں ناکام ہو چکی ہیں اور تما م تر سکیو رٹی انتظامات ہشت گردوں کے آگے کچھ بھی معنی نہیں رکھتے اگر یہ کہا جائے کہ دہشت گر د پورے ملک میں دند ناتے پھر رہے ہیں تویہ بات زیا دہ غلط نہیں ہو گی ،لیکن ان حالات میں سب سے زیا دہ خطر ناک بات ہے کہ ہماری قو م دہشت گر دی کی جنگ میں ایک رائے نہیں رکھتی اور کنفیو ژن کا شکا ر ہے اور دہشت گر د ہماری اس کنفیو ژن کا فائد ہ اٹھا کر پو رے ملک میں دہشت گر د کارروائیاں کر رہے ہیں۔

 انسداد پو لیو کی ٹیم سے لیکر میڈیا کی ٹیم تک ہر شخص کو مارا جارہا ہے اور پھر بڑ ے دھڑلے سے ذمہ داریاں بھی قبو ل کی جارہی ہیں ۔کتنی حیر ت ناک بات ہے کہ ہم دنیا کے سات ایٹمی ممالک میں سے ایک ہیں ،لیکن ہمار ا شما ر دنیا کے چار غیر محفو ظ تر ین ممالک میں ہو تا ہے ۔ریاستی رٹ کے حوالے سے ہم بہت سی ایسی ریاستو ں سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں جن کے پاس نہ تو ایٹمی طاقت ہے اور نہ وہ ہماری طر ح کوئی خاص فو جی طاقت رکھتی ہیں۔ حالا نکہ کسی ملک کا ایٹمی طاقت ہو نا، اس ملک کے امن کا ضامن سمجھا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد 52سال جب ہم ایٹمی طاقت نہیں تھے ،اتنی بدامنی اور دہشت گر دی کا شکار نہیں تھے جتنے آج ایٹمی طاقت بننے کے بعد ہیں ایسالگتا ہے کہ عالمی طاقتیں ہم سے ایٹمی طاقت بننے کا بد لہ لے رہی ہیں، لیکن اس بات کو بھی ایک سازشی فارمو لہ قر ار دیکر مستر دکیا جا سکتاہے، کیونکہ اس امر میں کو ئی شک نہیں کہ آج ہم جس دہشت گردی اور بدامنی کاشکا ر ہیں۔ اس کے پیچھے ہماری اپنی ہی ناکام اندرونی اور بیر ونی پالیسیا ں بھی کار فر ماہیں، جن کی وجہ سے ہم کمزور سے کمزور تر ہو تے گئے ۔

پچھلے دنوں وفاقی وزیر اطلاعات نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہو ئے اس بات کی تصد یق کی کہ ماضی میں ریاست دہشت گر دانہ کارروائیو ں اور دہشت گر دوں کی پشت پناہی میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ملو ث تھی کہنے کی بات یہ کہ جب تک ہمارے ملک میں ریا ست کی رٹ مضبوط نہیں ہوتی دہشت گر دی ، فر قہ وارانہ تشد د کے اس طر ح کے واقعات رونما ہو تے رہیں گے اور ہمارے مستقبل کا امن سو الیہ نشان بنتا جائے گا ۔اب وقت آگیا ہے کہ پچھلی ایک دہائی سے زائد عر صے سے جاری دہشت گر دی بد امنی، تشدد کو ختم کر نے کے لئے ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرے ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ لو گو ں کی جان وما ل کی حفاظت کا ذمہ ریا ست کاہے۔ ریاست اگر عو ام پر ہر ماہ نئے نئے ٹیکس لگا سکتی ہے اور مختلف اشیا ءکی قیمتیں بڑ ھا سکتی ہے اور ریا ست کے وسائل جو عوام کی امانت ہو تے ہیں کو استعما ل کر سکتی ہے تو لو گو ں کی جان ومال کی حفا ظت کیو ں نہیں کر سکتی ۔

 ایک اندازے کے مطابق پچھلے دوسال میں کھا نے پینے کی اشیا ءکی قیمتوں میں تقر یبا 4گنا اضافہ ہو چکا ہے اوریہ اضافہ تاحال جاری ہے۔کسی بھی ریاست کے لئے مضبو ط جمہوری حکو مت کا ہو نا بہت ضروری ہے تو اس وقت وطن عزیز میں ایک مضبوط جمہوری حکو مت مو جو د ہے ،اگر ذمہ دارانہ طر ز حکو مت اپنا یا جائے اورحکمر ان اپنی اہلیت ((Competencey کا مظاہرہ کریں تو ملک کے مو جو دہ گھمبیر مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں ۔ اس وقت ریا ست کی مضبو ط رٹ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ریا ست کی رٹ کی مضبوطی صر ف اسی صو رت میں ہو سکتی ہے جب پوری ریا ست میں قا نو ن کی حکمر انی ( Rule of Law) ہو آئین پاکستان کی پور ی طر ح عملداری ہو ،ر حکو متی معاملات آئین پاکستان کی روشنی اور رہنمائی سے چلا ئے جائیںاور تما م آئینی اور انتظامی ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں فعا ل کر دار ادا کر یں ۔

 قو می حکو مت کی ذمہ داری ہے کہ پورے ملک میں قو می اتفاق رائے پید ا کرنے کے لئے تما م سیا سی جما عتو ں اور قو می اداروں کو ایک میز پر لا کر ایک متفقہ لائحہ عمل کے تحت فیصلہ کر ے اور اس فیصلے پر عملدر آ مد ایسے کر ے جیسے کو ئی ایٹمی طاقت اپنے ملک کے مسائل حل کر نے کے لئے کر تی ہے تب جاکے ریاست کی رٹ مضبوط ہو گی ۔

 یا د رکھیں جب تک نظر یہ ضرورت ،ر عارضی یا وقتی و ذاتی مفادات کو ہمیشہ کے لئے دفن نہیں کیا جاتا تب تک ملک میں تر قی اور لو گو ں میں خوشحالی محض ایک خواب ہی رہے گی ۔یہ ایک خام خیالی ہے کہ دہشت گر دی کے ہو تے ہو ئے یاامن و امان کی کمزورصو رت حال (Poor law & order) اور لا قانو نیت سے ہم ایک بہتر ین معا شی طاقت بن جائیں گے ۔معیشت کی مضبوطی کے لئے امن و اامان کی صو رت حال میں بہتری پہلی شر ط ہے ورنہ بیر ونی سر مایہ کاری کاسوال ہی نہیں پید ا ہو تا ۔بھارت ہمارا ہمسا یہ ملک ہے۔ شایدوہا ں غر بت ہم سے بھی زیا دہ ہے اور اند رونی طورپر دہشت گر دی ( insurgencey)کے واقعات بھی ہو تے رہتے ہیں، لیکن وہاں ریا ست کی رٹ بہت مضبو ط ہے اور بیر ونی سر مایہ کاری بہت زیا دہ ہے جس کی وجہ سے پچھلی دو دہائیو ں سے بھارتی معیشت مضبوط ہوئی ہے ۔

 ریاست کی رٹ کی مضبو طی کے لئے ہمیں اپنے انتظامی ڈھا نچہ میں بنیا دی تبدیلیاںلا نا ہو ں گی ۔ ہمیں رشو ت سے پاک معا شر ے کی بنیا د ڈالنا ہو گی اور دیانت دار افسروں کی حو صلہ افزائی کر ناہو ں، جبکہ سفارشی اور سیا سی تعیناتیوں کے سلسلے کو روکنا ہو گا، ورنہ جب تک سیا سی اور سفارشی تعینا تیا ں ہو تی رہیں گی۔ اس وقت تک سیا سی رٹ مضبو ط ہو نے کے بجائے کمزور ہو تی جائے گی ،جس کی وجہ سے ریا ست کمزور سے کمزور تر ہو تی جائے گی اور ریاست دشمن عنا صرریاست کی کمزوریو ں سے فائد ہ اٹھاتے ہو ئے دہشت گر دی ، فر قہ وارانہ تشدد کے واقعات کر تے رہیں گے جو تر قی یافتہ اور دور جد یدمیں یقینا لمحہ فکر یہ ہے ، کیونکہ آ ج کے اس دورجد ید میں جب دنیا کا ہر ملک اپنے آپ کو دنیا کے صفحہ اول کے پر امن اور ترقی یافتہ ممالک میں شامل کر ناچاہتا ہے ، جبکہ آج بھی ہماری معیشت کا دارومداردنیا کی طر ف سے ملنے والی امد اد پرہے جو کسی بھی ایٹمی ملک کے شان شایا ن ہر گز نہیں ہے ،لیکن مایو سی اور پر یشانی کے اس ماحول میں ایک پہلو بہت ہی حو صلہ افزا ہے کہ آج ملک میں ایک منتخب اور تاریخ کی شائد مضبوط جمہوری حکو مت مو جو د ہے، جس کو شائد فیصلہ سازی میں وہ مشکل درپیش نہ ہو جو ہمار ی پچھلی مخلوط جمہوری حکو مت کو درپیش تھی تو اس لئے آج کی حکومت کے لئے مو قع ہے کہ وہ ایسے مضبو ط اور پائیدار فیصلے کر ے جو ملک کے مستقبل کو پر امن اور تر قی یافتہ اور خوشحالی کی سنگ بنیا د ثابت ہو ں اور ہمارا ملک باقی ایٹمی ممالک کی طر ح پر امن ،خو شحال اور تر قی یافتہ بن جائے ۔

مزید : کالم