کب تک تغافل کر و گے ؟

کب تک تغافل کر و گے ؟
 کب تک تغافل کر و گے ؟

  

تین مارچ بھی ایک اور عام دن کی طرح گزر گیا، حالانکہ یہ ایک اور سیاہ دن تھاجو پاکستانیوں کے جسم پر بہت سارے زخم چھوڑ گیا۔ حکومت کی اعلان کردہ قومی سلامتی پالیسی پر سوالیہ نشانات لگا گیا۔ پالیسی کے خدو خال ، عمل در آمد میں کوتاہی اور خامیوں کی نشاندہی بھی کر گیا، لیکن یہاں کوئی بھی اپنی خامی اور کوتاہی کو تسلیم کرنے پر تیار ہے نہ ہی حکومت با مقصد کارروائی کے لئے آمادہ نظر آتی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ ہم آج تک احتیاطی اقدامات نہیں کر سکے۔ ہر حملے کے بعد ٹی وی چینلوں پر بحث ، مباحثہ، اخباری صفحات پر بیانات، حملے کی مذمت، کارروائی کا شکار ہوجانے والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور بس۔ یہ کہانی نئی نہیں کہ حملہ کیا گیا۔ کہانی کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ ملزمان نے خود کو ہلاک کر لیا اور جو بچے، وہ کسی مزاحمت کا سامنا کئے بغیر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ فرار کے لئے ایک ڈبل کیبن گاڑی استعمال کی گئی، جس کے شیشے سیاہ تھے۔ عمارت میں داخلے اور واپس باہر جانے کے راستے موجود تھے، جن کی واقعہ کے بعد بھی نگرانی نہیں کی گئی اور ملزمان کو کسی مزاحمت کا سامنا کئے بغیر فرار ہونے کا موقع مل گیا۔

 یہ سب کچھ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آیا۔ اسی اسلام آباد میں جہاں سکندر نامی ایک شخص نے 15اگست2013ءکو تنہا پورے اسلام آباد کو یر غمال بنا لیا تھا۔ پورے ملک میں سکندر کا ڈرامہ ٹی وی پر دیکھا گیا تھا۔ حکومت نے آج تک باضابطہ طور پر نہیں بتایا کہ سکندر کے مقدر کا فیصلہ کیا ہوا۔ اسلام آباد میں سکندر کی کارروائی بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکی ۔ ملزمان بارود لائے، خود کش جیکٹ پہنے ہوئے تھے، ان کے پاس اسلحہ تھا، گولیاں بھی تھیں، گرنیڈ بھی تھے۔ کیا یہ ساری چیزیں زمینی راستے سے لائی گئیں یا انہیں فضائی کمک حاصل ہوئی۔ اگر زمینی راستے سے لائی گئیں اور یقینا زمینی راستہ ہی اختیار کیا گیا، تو اندازہ کر لینا چاہئے کہ پولیس کے یہ ناکے صرف ان قانون پسند شہریوں کے لئے ہیں، جو قطار لگا کر اپنی گاڑیاں چیک کراتے ہیں، جبکہ دہشت گرد ہر شہر میں چیکنگ سے محفوظ ہیں۔

یہ کون بتائے گا کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی پر مامور افسران کس کس کی پرچی لئے ہوئے ہیں۔ پولیس آپریشن کے ذمہ دار ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان ہیں۔ یہ ہی صاحب ہیں، جو سکندر کیس میں ہزیمت سے بھرپور ناکامی سے دوچار ہوئے تھے۔ وہ ابھی تک اسلام آباد میں کیوں متعین ہیں ؟ یہ تو حکومت بتائے یا وزیر داخلہ روشنی ڈالیں۔ ڈاکٹر رضوان صرف ناکام ہی نہیں رہتے ، بلکہ وہ تازہ ترین واقعہ کے دو گھنٹے بعد جائے واردات پر پہنچے اور انہیں کچھ علم نہیں تھا کہ کیا کیا ہو گیا ہے، جو مُنہ میں آیا بولتے چلے گئے۔ کیسے کیسے نااہل لوگ ہمارے حکمرانوں نے ہمارے اوپر مسلط کر رکھے ہیں۔ ایک ڈاکٹر رضوان ہی کیا، یہاں تو سارے لوگ ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔ سفارش طرئہ امتیاز ہے، جس نے سب کو مات دے دی ہے۔ اسی وجہ سے سارا نظام چیخ رہا ہے کہ پاکستانیوں اپنا نظام تبدیل کرو ، ورنہ تمہارا جغرافیہ تبدیل کر دیا جائے گا۔ اقتداری اشرافیہ کو فکر نہیں، انہیں اپنی دولت پر ناز ہے، ان میں اکثریت کسی نہ کسی بیرونی ملک میں کاروبار، گھر بار اور بچے رکھتی ہے۔ پاکستان ان کے لئے اول اور آخر نہیں ہے، جو پولیس تاخیر سے پہنچی، ان میں سے اکثر کی رائفلیں کام نہیں کر رہی تھیں۔ لعنت ہے ایسے ہتھیار پر جو ضرورت کے وقت دشمن کے خلاف کام نہ آ سکے اور وقت حساب ہے ان افسران کا، جو ان ناکارہ ہتھیاروں سے لیس کرکے اپنے ماتحت اہل کاروں کو میدان میں بھیج دیتے ہیں۔

سب ہی کو جب پتہ ہے کہ ملزمان دہشت گردی میں دھماکے کرتے ہیں، تو عدالت کے دروازوں اور کھڑکیوں پر لگے شیشوں پر کوئی ٹیپ تک نہیں چپکائے گئے تھے تاکہ شیشے ٹوٹ کر بکھرتے نہیں۔ عدالت کی عمارت میں داخل ہونے کے ایک سے زائد راستے کیوں تھے۔ ججوں کے چیمبر میں دوسری طرف نکلنے کے راستے کیوں نہیں تھے۔ عدالتوں میں کسی معمولی قسم کی ابتدائی طبی امداد کا انتظام کیوں نہیں کیا جاتا۔ ہمارا وطیرہ بن گیا ہے کہ ہم خود کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ نہایت ادب کے ساتھ یہ معلوم کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ پاکستان کے چیف جسٹس سمیت دیگر تمام بڑی اور چھوٹی عدالتوں کے سربراہاں اپنی عمارت کا بطور خاص خود روز انہ جائزہ لیتے ہیں یا نہیں، سرکاری افسران تو ایسا کرنے کو کسر شان تصور کرتے ہیں۔ عدالت ہی کیا، سرکاری دفاتر ہی کیا، بڑے ہوٹلوں، چھوٹے ہوٹلوں، کلبوں، پریس کلبوں ، ریلوے سٹیشنوں پر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ بس سٹینڈ پر بھی کچھ نہیں ہوتا۔ مسافر گاڑیوں میں بھی اس قسم کی سہولت مفقود ہوتی ہے۔ مسافر کوچوں اور بسوں میں پہلے کبھی آگ بجھانے کا سلنڈر اور ابتدائی طبی امداد کا بکس ہوا کرتا تھے جو اب نہیں ، جس کے لئے متعلقہ حکام یا پولیس پیسے لے لیتی ہے اور سہولت سے لوگوں کو محروم کر دیا جاتا ہے۔

کیا روئی، بینڈیج، زخم کو ابتدائی مرحلے میں ہی خون رسنے سے روکنے کے انتظامات کرنے میں کوئی قباحت ہو جائے گی؟ ایسا اس لئے نہیں کیا جاتا کہ کوئی اس طرف فکر کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اب تک ایسے رضا کاروں کی ٹیم کسی بھی شہر میں کیوں نہیں بنائی جا سکی ، جو پولیس کی مدد کے لئے چار چار گھنٹوں کے لئے مقرر ہو۔ ضرورت کے وقت اپنی تربیت کے نتیجے میں متاثرین خصوصاً زخمیوں کی ابتدائی نگہداشت کی جاسکے۔ آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے۔ کیا ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو گئی ہے۔ ہم ہزاروں حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ موجود ہ حکومت کے 274 دونوں میںہم 1300 سے زائد حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ہزاروںلوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کئی جسمانی طور پر معذور ہو گئے ہیں، لیکن اگر حکمران طبقہ ہی ذہنی طور پر مفلوج ہوجائے تو عوام کیا کر سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان فرماتے ہیں کہ ملک میں 26خفیہ ادارے موجود ہیں۔ کہاں ہیں اور ان کی کارکردگی اگر یہی ہے تو پھر انہیں فارغ کیوں نہیں کیا جاتا۔ یہ احرار الہند کیا ہے۔ اب تک کہاں تھی، یہ عمر قاسمی کون ہے۔ خفیہ اداروں کو کیوں علم نہیں کہ احرار الہند کب وجود میں آئی، اس کی پشت پر کون ہے۔ کیا اس کا تحریک طالبا ن پاکستان سے کوئی رشتہ ناطہ ہے یا نہیں۔ کیا اسے کسی غیر ملکی ایجنسی کی سرپرستی حاصل ہے؟

اس تماش گاہ میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے اقتدار پر فائز لوگ بار بار پیش آنے والے واقعات کے بعد بھی یہ ثابت کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ ملک کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ملک کی حفاظت تنہا فوج کا کام نہیں،ہر شہری کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ انہیں تیار کیا جاتا ہے۔ حکومت نے نہیں کیا۔ فوج نے بھی اب تک شہریوں کی کسی باضابطہ تربیت کا کام سر انجام نہیں دیا ۔ فوج سرکاری افسران کی ہی فوری تربیت کرے۔ مختصر کورس کرائے اور کالج کے طلباءکو فوری تربیت کرے۔ صوبوں کے محکمہ صحت بھی ابھی تک شہریوں کو خون رستے زخموں کی مرہم پٹی کرنے کی تربیت دینے میں پہل نہیں کر سکے ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں، جنہیں بہت پہلے کر لیا جانا چاہئے تھا۔ کس انتظار میں بیٹھے ہیں۔ جواں سال وکیل فضا ملک کا عدالت میں پہلا دن تھا، وہ دہشت گردی کا شکار ہو گئی۔ فضا اپنے والدین کی تنہا بیٹی تھی۔ اس کے والد کو اپنے اس سوال کا جواب چاہئے کہ ریاست کو ان کی قربانی کا احساس کب ہو گا۔ ایک فضاکے والد ہی نہیں، ساری قوم سوال کرتی ہے کہ آخر ہم عام لوگوں کی قربانیوں کا احساس حکمرانوں کو کب ہو گا؟ 3 مارچ کو ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس اور مملکت کے دیگر بڑوں کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے تھے یا نہیں۔ اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ابھی ریاست کا انتظام چلانے والوں کے احساس کو جاگنے میں نامعلوم اور کتنا وقت لگے گا۔

مزید : کالم