اسلام آباد محفوط ہے وزیرداخلہ کو بریفنگ ایجنسیوں نے ہی دی تھی۔خورشید شاہ

اسلام آباد محفوط ہے وزیرداخلہ کو بریفنگ ایجنسیوں نے ہی دی تھی۔خورشید شاہ

             اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد محفوظ ہے،وزیرداخلہ کو اس کی بریفنگ ایجنسیوں نے ہی دی تھی، اتنا بڑا واقعہ ہونا ایجنسیوں کی ناکامی ہے، سانحہ اسلام آباد میں اگر” را“ ملوث ہے تو لوگ ہمارے ہی استعمال ہوئے، 84 فیصد چوریاں سراغ رساں کتوں کی مدد سے پکڑ لی جاتی ہے اگر اسلام آباد کچہری میں دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لئے سراغ رساں کتوں کا استعمال کر لیا جاتا تو شاید حکومت کو کچھ کامیابی مل جاتی، اسلام آباد کچہری میں اگر 47 پولیس اہلکار تعینات تھے تو ڈیوٹی پر کتنے تھے اور اسلحہ کتنوں کے پاس تھا۔ نیکٹا اور ریپٹ فورس کہاں تھی۔ وزیر داخلہ کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، مذاکراتی کمیٹیوں کے حوالے سے حکومت خود کلیئر نہیں ، بارہا طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ جنرل کیانی یا موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی رنجش نہیں بلکہ وہ افواج پاکستان کے مخالف ہیں۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاﺅس اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مذاکراتی کمیٹیوں کے حوالے سے حکومت خود کلیئر نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے، نئی کمیٹی آئے گی یا یہی کمیٹی چلے گی، حکومت واضح ہو جائے تو ہم اس پر کچھ کہہ سکیں گے، ہمارا موقف واضح ہے کہ مذاکراتی عمل کا فوج کو حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ ہمارا موقف ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو طالبان فوج پر الزام لگائیں گے کہ مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ دار فوج ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طالبان افواج پاکستان کو اپنا سب سے بڑا مخالف سمجھتے ہیں، بارہا طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ جنرل کیانی یا موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی رنجش نہیں بلکہ وہ افواج پاکستان کے مخالف ہیں۔ فیصلہ ساز کمیٹی بنانے کے سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت دس سے بیس کمیٹیاں بنا لے، یہ پالیسی پر منحصر ہے کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے کیا فیصلہ کرنا چاہتی ہے، آج بھی بم دھماکے ہو رہے ہیں، ایف سی کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کی جانب سے اسلام آباد واقعہ میں ”را“ کے ملوث ہونے کے سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ آسان طریقہ ہے کہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈال کر الزام کسی اور پر لگا دیا جائے۔ بھارت میں بھی جب ہوا تھا تو الزام آئی ایس آئی پر لگا دیا گیا تھا بعد میں انہی لوگوں نے اس کی تردید کی تھی۔ اگر را اس میں ملوث بھی ہے تو لوگ ہمارے تھے۔

خورشید شاہ

مزید : صفحہ اول