تحویل کیس،4 سالہ بچی نے ماں کی گود میں جانے سے انکار کر دیا

تحویل کیس،4 سالہ بچی نے ماں کی گود میں جانے سے انکار کر دیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے روبرو کم سن بچی کی تحویل کے کیس میں بچی نے عدالت سے اپنی ضد منوا لی، 4 سالہ علیشبہ نے ماں کی گود میں جانے سے انکار کر دیا، کہتی ہے ماما نہیں، صرف پاپا اچھے ہیں جبکہ عدالتی فیصلہ سنتے ہی ماں کمرہ عدالت میں بے ہوش ہو گئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق نے فیصل آباد کی رہائشی عاصمہ بی بی کی طرف سے حبس بیجا کی درخواست پر سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ چار سالہ علیشبہ کو اس کے باپ عمران نے حبس بیجا میں رکھا ہوا ہے اور اسے ماں سے ملنے بھی نہیں دیا جا رہا، عدالتی حکم پر جھنگ پولیس نے عمران اور علیشبہ کو عدالت میں پیش کیا، عدالت نے میاں بیوی کو صلح کا موقع دیتے ہوئے سماعت آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کر دی اور بچی کو اس کے ماں کے حوالے کر دیا، عدالتی حکم سنتے ہی 4 سالہ علیشبہ نے چیخ و پکار شروع کر دی اور احاطہ عدالت سر پر اٹھا لیا، کمسن بچی بار بار والد اور اپنے دادا کے پاس جانے کی ضد کرتی رہی، بچی کی والدہ، ماموں اور انکے دیگر رشتہ دار بچی کو کھانے پینے کی مختلف چیزیں دے کر بہلانے کی کوشش کرتے رہے مگر کمسن بچی کسی بہکاوے میں آئے بنا اپنے والد کے پاس جانے کا مطالبہ کرتی رہی، بچی کی چیخ و پکار اور باپ کے ساتھ محبت کا مںظر ہائیکورٹ میں آئے ہر سائل کیلئے دلچسپی کا باعث بنا رہا، آدھے گھنٹے وقفے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت دوبارہ شروع کی تو عدالت کو بچی کی چیخ و پکار اور باپ کے ساتھ وابستگی کے بارے میں بتایا گیا، فاضل جج نے جب کمسن بچی سے پوچھنا چاہا کہ وہ کس کے پاس جانا چاہتی ہے تو بچی نے فاضل جج کا سوال پورا ہونے سے قبل ہے کہہ دیا کہ وہ اپنے پاپا کے پاس جانا چاہتی ہے، عدالت نے عاصمہ بی بی کی درخواست خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ متعلقہ گارڈین کورٹ سے رجوع کرے جبکہ بچی کو دوبارہ اس کے والد کے ساتھ بھیج دیا۔ عدالتی حکم سنتے ہی بچی کی والدہ بے ہوش ہو گئی۔

 تحویل کیس

مزید : علاقائی