جعلی پولیس مقابلے میان ہلاک ہونیوالے کے خاندان کی مدد کرنے پر شاہدرہ پولیس کا محلے دار پر تشدد دھمکیاں

جعلی پولیس مقابلے میان ہلاک ہونیوالے کے خاندان کی مدد کرنے پر شاہدرہ پولیس ...

  لاہور(کر ائم سےل)تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن پولیس کا جعلی پولیس مقابلہ میں پار ہونے والے شخص کے خاندان کی امداد کرنے والے محلہ دار پر تشدد ،صلح کروادو ورنہ تمہیں بھی پولیس مقابلہ میں پار کر دیں گے، پو لےس کی دھمکےاں۔تفصیلات کے مطابق تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن پولیس نے چند ماہ قبل شاہدرہ کے رہائشی اور خاندانی دشمنی کی بنا پر قتل کے مقدمہ میں ملوث ملزم اشتہاری حیدر علی شاہ کو ایک جعلی پولیس مقابلہ میں پار کر دیا تھا جس کے خلاف اس کے خاندان نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر رکھی تھی اور ہائی کوٹ کے احکامات پرپولیس کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جارہی ہے۔ حیدر علی کے خاندان کے حالات خاصے خراب ہونے اور ایک ہی جماعت سے تعلقات کے باعث محلہ دار نعما ن چوہدری نے حیدر علی کے گھر والوں کی امداد شروع کر دی جس پر مقامی پولیس شاہدرہ ٹاﺅن نے اپنے پیٹی بند بھائی انسپکٹر رفیق کے کہنے پر مالی امداد کرنے والے نعمان چوہدری کو مختلف مقدمات میں نامزد کرنا شروع کر دیا اور اس کے گھر والوں کو تنگ کر نا شروع کر دیا جس کی مثال چند روز قبل شاہدرہ ٹاﺅن پولیس کا نعمان چوہدری کے گھر پر چھاپہ ہے ۔جہاں سے پولیس والے نعمان کے بزرگ والد کے کمرے میں گھس کر ان کے کمرے میں موجود ٹی وی ،کیمراہ ،اور نقدی اٹھا کر لے گئے اور نعمان کے پیش نہ ہونے پر اس کو مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے ۔اپنے بوڑھے والدین کی حالت دیکھتے ہوئے نعمان چوہدری فوری طور پر اہل محلہ کے ساتھ تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن مےںایس ایچ او شاہد گجر کے پاس پیش ہوا جہاں محلہ داروں کو ساتھ دیکھ کر ایس ایچ او نے نعمان چوہردی کو دوبارہ تھانے خودبلوانے اور اس کو مکمل انصاف کی یقین دہانی کروا کر بھیج دیا ۔بعدازاںجب ایس ایچ اونے نعمان چوہدری کو بلوایا تو اس کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا اور ایک مقدمہ کا ملزم بتایا کہ تم مفرور ہو ۔ایس ایچ اوسے تھانہ محرر نے سفارش کی جس پر ایس ایچ او شاہد گجر نے نعمان چوہدری کو رہا کرنے کے عوض پچاس ہزار روپے کا مطالبہ رکھا اور حکم دیا کہ آئندہ سے حید رعلی کے گھر والوں کے ساتھ یا تو تعاون ختم کرنے کی یقین دہانی کرواﺅ ان کے ساتھ راضی نامہ کرواﺅ اگر ایسا نہ کیا تو تمہیں بھی پولیس مقابلہ میں پار کیا جاسکتا ہے ۔تمام حالات کو دیکھتے ہوئے نعمان چوہدری نے فوری طور پر پولیس کے ایس ایچ اوکو اپنے گھر میں موجود چالیس ہزارروپے دیئے اور بتایا کہ حیدر علی کے مقدمہ قتل میں وہ راضی نامہ تونہیں کروا سکتا جبکہ ان کی آئندہ سے مدد نہ کرنے کی یقین دہانی پر اس کو رہائی ملی ۔تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن پولیس اور ایس ایچ او کے رویہ اور پولیس کے ناجائز طور پر گھر میں داخلے، ناجائز مقدمات میں ملوث کرنے، سنگین نتائج کی دھمکیوں اور رشوت لینے پر نعمان چوہدری نے ایس ایچ اوشاہدرہ ٹاﺅن کے خلاف ڈی آئی جی آپریشن اور اےنٹی کرپشن میں درخواست دائر کردی اور ان سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

مزید : علاقائی