لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے ستائے ہزاروں سائلین فریادیں لیکر وفاقی محتسب کے پاس پینچ گئے

لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے ستائے ہزاروں سائلین فریادیں لیکر وفاقی محتسب کے ...

                            لاہور (لیاقت کھرل) بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے ستائے ہزاروں سائلین اپنی فریادیں لیکر وفاقی محتسب اعلیٰ کے پاس پہنچ گئے، شکایتیوں کے اعتبار سے واپڈا تمام وفاقی سرکاری اداروں میں بازی لے گیا۔ جبکہ محکمہ سوئی گیس دوسری پوزیشن پر رہا، محتسب اعلیٰ کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وفاقی محتسب اعلیٰ کو وفاقی اداروں کے خلاف سال 2013ءمیں 109771شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 7075 شکایات پر فیصلے سنائے گئے۔ ”پاکستان“ نے وفاقی محتسب اعلیٰ کے دفتر میں آنے والے سائلین کی شکایات کا جائزہ لینے اور شکایات کے حل کے حوالے سے صورتحال جاننے کیلئے ایک سروے کیا تو وفاقی محتسب اعلیٰ کے دفتر میں سب سے زیادہ واپڈا کے خلاف شایات لیکر آنے والوں کی تعداد تھی، جبکہ دوسرے نمبر پر سوئی گیس اور تیسرے نمبر پر نادرا اور ریلوے کے خلاف شکایات لیکر آنے والوں کی تعداد تھی اس موقع پر فتح گڑھ کے رہائشی محمد ارشاد مجاہد نے ”پاکستان“ کو شکایت کے دوران بتایا کہ اس کے گھر میں بجلی کا استعمال بہت کم ہے، جبکہ اس کے گھر کے بجلی کا بل جس کا ریفرنس نمبر 0511-345035860 ہے فتح گڑھ سب ڈویژن نے مئی 2013ءمیں 1136 روپے بل بھجوایا اور ساتھ 12382 روپے کا بل بھوادیا اور بجلی چوری کا الزام لگایا۔ اب وفاقی محتسب اعلیٰ کے حکم پر بل تو ٹھیک ہوگیا ہے لیکن واپڈا والے وفاقی محتسب سے شکایت کرنے پر ایس ڈی او واپڈا غصے میں آگیا اور وفاقی محتسب اعلیٰ کے حکم کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ چونگی امرسدھو کے نثار علی اور شاہدرہ کے حسن نے بھی شکایت میں بتایا کہ واپڈا کے میٹر ریڈروں نے نذرانہ نہ دینے پر ہزاروں روپے اضافی بل ڈال دیتے ہیں، جبکہ اختر علی ناز، غلام صابر بیگ نے بھی واپڈا کے خلاف شکایت کی۔ اس طرح محمد رفیق نے بتایا کہ گیس کنکشن حاصل کرنے کیلئے سال 2009ءمیں درخواست دی اور تاحال گیس کنکشن تو درکنار ہربنس پورہ گیس کمپنی کے دفتر والے ڈیمانڈ نوٹس تک نہیں دے رہے ہیں اسی طرح شہری طارق نے بتایا کہ اس نے گیس کنکشن حاصل کرنے کیلئے درخواست سال 2009ءمیں درخواست نمبر 29161 دی اور 15مئی 2012ءکو ڈیمانڈ نوٹس بھی جمع کروادیا ادھر تاحال گیس کے دفاتر کے چکر کاٹ رہا ہوں کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے، شہری خالد رفیق نے بتایا کہ وہ ریلوے سے ایک سال قبل ورک مستریک ے طور پر ریٹائرڈ ہوا اور ایک سال تک اپنے ہی محکمے میں پینشن کیلئے دھکے کھائے، لیکن محکمہ سے شنوائی نہ ہونے پر وفاقی محتسب اعلیٰ کو درخواست دی اور اب محکمہ نے پنشن کا چیک دیا ہے شہری عابد علی نے بتایا کہ نادرا آفس (جوڑے پل) کینٹ میں شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے چکر لگا رہا ہوں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے جبکہ نوجوان اسلم علی اور علی عون نے محمکہ نادرا کے خلاف اور اسی طرح شوکت علی، خاتون صغراں بی بی اور روبینہ بی بی نے محکمہ سوئی گیس کے خلاف شکایات کیں، دوسری وفاقی محتسب اعلیٰ کے ریجنل آفس کی رجسٹرار افشاں صابر نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ سال 2013ءمیں واپڈا اور گیس کمپنی کے محکموں کے خلاف سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئی ہیں، جس میں سال 2013ءاور رواں سال کے پہلے دو ماہ میں وفاقی محکموں کے خلاف 10971شکایات موصول ہوئی ہیں، جس میں 408شکایات آن لائن سسٹم کے ذریعے اور606سائلین نے وفاقی محتسب کو (اسلام آباد) آفس میں ڈائریکٹ پیش کیں، جس میں سے 7075شکایات پر فیصلے سنائے گئے ہیں اور رواں سال کے پہلے دو ماہ میں 1700شکایات موصول ہوئیں اور 1045شکایات پر فیصلے سنائے گئے ہیں۔

وفاقی محتسب

مزید : علاقائی