ساڑھے چھ سو اہلکار گیس چوری پر ’مزے‘ اڑاتے رہے

ساڑھے چھ سو اہلکار گیس چوری پر ’مزے‘ اڑاتے رہے
ساڑھے چھ سو اہلکار گیس چوری پر ’مزے‘ اڑاتے رہے

  

لاہور(لیاقت کھرل) سوئی نادرن گیس کمپنی کے ساڑھے چھ سو افسران اور اہلکاران کا گیس چوری کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے اپنا ’اُلوسیدھا ‘کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔جبکہ گیس کی چوری میں لاہور کی شکایات سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہیں، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ دوسری ، تیسری اور چوتھی پوزیشن پر رہے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2013ءمیں سب سے زیادہ صنعتی اور سی این جی سیکٹرز میں گیس چوری پکڑی گئی جبکہ دوسرے نمبر پر گھریلو سیکٹر میں جعلی نیٹ ورک کے جنم لینے کی شکایات زیادہ سامنے آئیں۔ گیس کمپنی کے ساڑھے چھ سو افسران اور اہلکاران گیس چوری میں رکاوٹ بننے کی بجائے اپنے ’معاملات ‘سیدھے رکھتے رہے ۔ ان میں جی ایم، چیف انجینئر اور ڈپٹی چیف انجینئرز سمیت ایگزیکٹو انجینئر کے افسران کے ساتھ ساتھ سپروائزر کے عہدہ کے افسران کی تعداد بھی بتائی گئی ہے۔

مزید : بزنس