مصافحہ کرتے ہوئے ہم صرف ہاتھ ہی نہیں ملاتے ، سائنسدانوں نے ہماری عادات سے متعلق اہم انکشاف کر دیا

مصافحہ کرتے ہوئے ہم صرف ہاتھ ہی نہیں ملاتے ، سائنسدانوں نے ہماری عادات سے ...
مصافحہ کرتے ہوئے ہم صرف ہاتھ ہی نہیں ملاتے ، سائنسدانوں نے ہماری عادات سے متعلق اہم انکشاف کر دیا

  


تل ابیب (نیوز ڈیسک) میل ملاقات کے دوران ہاتھ ملانا معمول کی بات ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہاتھ ملانا بظاہر نظر آنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ معاملہ ہے اور یہ محض خوش آمدید یاآداب کہنے کا طریقہ نہیں بلکہ ہاتھ ملانے والے کے بارے میں کچھ نہایت اہم اور قیمتی معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

اسرائیل کے ویز مین انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں ہاتھ ملانے سے پہلے اور ہاتھ ملانے کے بعد کے روئیے پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ہاتھ ملانے کے بعد لوگ اپنے ہاتھوں کو غیر شعوری طور پر ناک کی جانب لے جاتے ہیں اور یہ رویہ ہاتھ نہ ملانے والوں کی نسبت ہاتھ ملانے والوں میں 2 گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ جب اس دلچسپ روئیے پر مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ کسی سے ہاتھ ملانے کے بعد ہم دراصل ہاتھ کو اس لئے غیر شعوری طور پر ناک کی جانب لے جاتے ہیں تاکہ ہاتھ ملانے والے کی جسمانی خوشبو کا تجزیہ کر سکیں۔

جہالت کی انتہا!400بھارتی مردوں نے خود ہی اپنے آپ کومردانگی سے محروم کر دیا کیونکہ۔۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی ارتقاءکی نوعیت ایسی ہے کہ ہم دیگر انسانوں کے بارے میں معلومات کیلئے اپنی حس شامہ پر بھاری انحصار کرتے ہیں اور یہی رویہ دیگر جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ جانور قریب آنے پر ایک دوسرے کو سونگھتے ہیں اور اس عمل کے نتیجے میں انہیں اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں جن کی بناءپر وہ اپنے ساتھی جانوروں کی طرف سے خطرے کے ہونے یا نہ ہونے کا احساس کرتے ہیں۔ انسانوں میں دوسرے انسانوں کو سونگھنے کا رویہ جانوروں کی طرح نمایاں نہیں ہے البتہ ہم یہی عمل غیر شعوری طور پر ضرور کرتے ہیں۔ کسی سے ہاتھ ملانے پر اس کی جسمانی خوشبو کسی حد تک ہمارے ہاتھ میں منتقل ہو جاتی ہے اور جب ہم غیر شعوری طور پر اسے ناک کے قریب کرتے ہیں تو اس خوشبو کا تجزیہ کرنا اصل مقصد ہوتا ہے۔ اسی تجزیے کی بنیاد پر ہم کسی کے قریب یا دور ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، اگرچہ یہ فیصلہ بھی غیر شعوری ہی ہوتا ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے "eLife" میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...